اردو | हिन्दी | English
155 Views
Uncategorized

مدرسوں کی جانچ :مت جوڑو آتنک واد کا نام مدرسوں سے

Deen
Written by Taasir Newspaper

2014 میں پارلیمانی انتخابات کا اعلان ہوا تب سے لیکر مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا قیام اور تادم تحریر تک بھاجپہ لیڈروں کی اشتعال انگیزی نے ملک کے گوشے گوشے میں مسلمانوں کے خلاف نفرتوں کی فصل کو سیراب کر دیا ہے بابری مسجد کی شہادت کے بعد گزشتہ پچیس برسوں سے جہاں مسلمانوں کے ماتھے پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر دیا گیا وہیں دینی درس گاہوں پر الزامات لگا کر مشکوک بنا دیا گیا لیکن اس ضمن میں ماضی تا حال کی حکومتوں کے نظریے میں کوئی فرق نظر نہیں آیا راجستھان کی بی جے پی حکومت کے ایک ایم ایل اے نے حال ہی میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ مدرسوں میں مشتبہ سرگرمیاں جاری ہیں جس کی جانچ ہونی چاہیئے اس پر ریاست کی بھاجپہ حکومت نے ڈی جی پی کو حکم صادر کیا کہ پولیس اپنے اپنے علاقوں میں مدارس کے سرگرمیوں کی جانچ کرے،، ریاستی حکومت کے احکامات اور وزیر اعظم نریندمودی کے بیان پر یہ کہنا ہوگا کہ “کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟کیونکہ نریندمودی نے صوفی کانفرنس میں کہا تھا کہ” تصوف کے نزدیک خدا کی خدمت کا مطلب انسانیت کی خدمت ہے، یہ ایسے لوگوں کا اجلاس ہے جو امن و رواداری اور محبت میں یقین رکھتے ہیں، اسلام کے معتدل چہرے سے انسانیت کو لمبے ہوتے اندھیرے کے سایہ سے بچایا جا سکتا ہے، ان تین جملوں میں اور پروین توگڑیا سے لیکر شاکشی مہاراج، ادتیہ ناتھ یوگی، سادھوی پراچی، اشوک سنگھل جیسے منافرت پھیلانے والے لیڈروں کے بیانات میں فرق ضرور ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ نظریات میں کوئی فرق نہیں ہے!کیوں کہ وزیر اعظم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ہمارے ہونہار لیڈروں نے اشتعال انگیز بیانات سے امن و امان کی فضا کو برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے بلکہ یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ نریندر مودی یا راج ناتھ سنگھ نے اشتعال انگیز بیانات دینے والے لیڈروں کو اس طرح کے بیانات نہ دینے کی تاکید کی ہو لیکن ان کی یہ کوشش بھی رائیگاں گئیں قابل ذکر یہ بھی ہے کہ اگر ہم فرقہ پرستوں پر کتنے بھی الزامات لگائیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ مدرسوں پر الزامات کیوں عائد کرتے ہیں؟دراصل یہ نیم کریلے کی طرح کڑوا سچ ہے کہ مسلمان ایک کلمہ گو مسلمان نہ ہو کر مسلکی مسلمان ہونے کی شہادت دے رہا ہے جس کا اندازہ اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ امسال فروری ماہ میں دہلی میں واقع تال کٹورا اسٹیڈیم میں اہلسنت والجماعت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سنی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا اس اجلاس میں علماء کرام نے یہ بیان دیا تھا کہ وہابیت کو ماننے والے ہی دنیا میں دہشت گردی کا کھیل کھیل رہے ہیں اور یہ بھی کہا تھا کہ isis لشکر طیبہ، جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیمیں وہابیت سے تعلق رکھتی ہیں،، اب ایک بات تو صاف ظاہر ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں کو پہلے بحیثیت مسلمان کے ساتھ ساتھ مسلکی اعتبار سے بھی دیکھنا ہوگا اور پولیس افسران کو یہ بھی فریضہ ادا کرنا ہوگا کہ گرفتار ہونے والے مسلمان کے نام کے ساتھ یہ بھی بتانا ہوگا کہ یہ دہشت گرد فلاں مسلک کا مسلمان ہے تب جا کر کوئی بات بنے گی!اب اس بات پر غور فرمائیں کہ راجستھان میں مسلک کی بنیاد پر جانچ کی مانگ نہیں کی گئی ہے بلکہ دینی درس گاہیں جہاں پر اللہ اور اس کے رسول کے دین کی تعلیم دی جاتی ہے اس مدرسوں کو جانچ کے دائرے میں لایا گیا ہے، بلکہ جانچ تو اس بات کی ہونی چاہئے تھی کہ کس کس مدرسے میں مسلمانوں میں اختلاف پھیلانے کا درس دیا جاتا ہے ایسے مدرسوں پر خصوصی پابندی عائد کرنی چاہئے لیکن ایسا تو حکومت کی جانب سے ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ اس معاملے کا لینا دینا حکومت سے نہیں ہے ہالانکہ تمام سیاسی جماعتیں اور لیڈران سے لیکر اسرائیل اور امریکہ تک سب یہی چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں اسی طرح اختلاف قائم رہے تاکہ انہیں تباہ و برباد کر نے میں آسانی ہوسکے_قابل غور بات یہ بھی ہے کہ اگر قرآن نے آپسی اختلاف کو منع فرمایا ہے تو ہم ایک امت مسلمہ، اللہ و رسول اور قرآن کے احکامات پر عمل کرنے والے مسلمان ہونے کا دعوٰی تو کرتے ہیں لیکن جب عمل بجا لانے کی بات آتی ہے تو اللہ و رسول اور قرآن کے احکام کو خارج کر دیتے ہیں!دہشتگردی کے تعلق سے آج تک مسلمانوں اور علماوؤں کے جتنے بھی بیانات آئے ہیں کہ “دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ مسلمانوں کاکام ہے،، ایسے تمام بیانات کو سنی کانفرنس کے علماوؤں نے خارج کر کے دہشت گرد مخالف دستہ اور دیگر جانچ ایجنسیوں کے تحقیق کو آسان کر دیا ہے؟
مولانا بدرالدین اجمل صاحب کا بیان بھی ملاحظہ فرمائیں آپ نے فرمایا کہ حکومت کی جانب سے اس طرح کی تفتیش سے جہاں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوتا ہے وہیں حکومت کی نیت پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ اس طرح کی جانچ کے لئے بار بار مدرسوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے اور آپ نے یہ بھی کہا کہ ہم اس طرح کی حرکت کو برداشت نہیں کرینگے اس کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز اٹھاینگے اور وزیراعظم و فروغ انسانی وسائل کے وزیر کو خط لکھ کر قدغن لگانے کا مطالبہ کرینگے،،موصوف کے بیان پر ہم لبیک کہتے ہیں لیکن محترم کو معلوم ہونا چاہئے کہ گزشتہ 67 برسوں میں مسلمانوں کی آہ و بکا ایوان بالا سے لیکر ایوان زیریں تک کی دیواروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئی ہیں یہ تو صرف آپ اور چنندہ لیڈروں کے حوصلے ہیں جو ایوان میں للکار تے ہیں ورنہ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ قیادت کا فقدان ہے!
آزادی کے 67 برسوں میں ہندوستانی مسلمانوں کا درد ناک المیہ (جس میں صرف مظلوم مسلمان شامل ہیں ) سے مسلم قیادت اور سیکولر حکومت کے علاوہ سیاسی و مسلکی علمائے کرام بھی واقف ہیں باوجود اس کے ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لئے الزامات کا تانتہ لگا ہوا ہے لیکن کسی بھی مسلک کے علماء4 یا علماوؤں کی تنظیم نے عدالت میں اپیل دائر کر کے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ مدرسوں کے تقدس کو پامال کرنے والے عدالت میں ثبوت پیش کریں کہ مدرسوں میں دہشت گردی اور لو جہاد کی تربیت دی جاتی ہے؟ لیکن افسوس ہے کہ ہمارے علمائے کرام مسلکی و اختلافی عالم دین جو ٹھہرے!
چنانچہ مسلکی اختلافات اور علمائے کرام کے نظریات کے پس منظر میں اگر ہم قرآن و حدیث سے استفادہ حاصل کرتے ہیں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ “اے ایمان والو تم اگر اہل کتاب کی بات مان لی تو تمہیں کفر کی طرف لوٹا دینگے اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان رسول موجود ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ پھیلاؤ اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو جبکہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تم آپس میں بھائی بھائی ہوگئے تم ایک آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے اس نے تم کو بچا لیااللہ تعالٰی تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاو تم بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی کو روکنے والوں میں سے ہو یہی لوگ فلاح پاینگے تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جن لوگوں کے پاس روشن دلیل آنے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا ان لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے،،) (آل عمران آیت نمبر 100تا 105) نبی کریم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں بہتر فرقے تھے میری امت میں تہتر فرقے ہونگے،، چنانچہ قرآن و حدیث کی تفسیر مسلک کے اعتبار سے جدا جدا ہیں لیکن ذی شعور انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے اہل کتاب کی باتوں یعنی کہ ان کے چالوں اور ارادوں سے خبردار کیا ہے اور جس نے اللہ رسول اور قرآن پر ایمان لایا تو وہ کیوں کر کفر کریگا جبکہ اللہ کا رسول ہمارے درمیان موجود ہیں اس آیت کریمہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہالت کے زمانے میں اوس اور خزرج دو قبیلے تھے ان دونوں میں جنگیں ہوا کرتی تھیں جب یہ دونوں قبیلے ایمان لے آئے یہودیوں کا مقصد تھا کہ دونوں قبیلوں میں خانہ جنگی جاری رہے لیکن اس کی خبر نبی کریم کو ملی تب آپ نے دونوں قبیلوں کو بلا کر سمجھایا علاوہ ازیں یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ روشن دلیل ہونے کے باوجود جو تفرقہ پیدا کررہے ہیں ان کے لئے بڑا عذاب ہے لیکن سوال یہ پیدا
ہوتا ہے کہ جب اللہ تبارک و تعالٰی نے ہمیں برائی کو روکنے اور بھلائی کر نے والوں میں شمار کیا اور ایسا کرنے والے ہی فلاح پاینگے تو کیا ہمارے اندر اتنی بھی غیرت نہیں ہے کہ اللہ و رسول کی اطاعت کریں کیا ہمیں یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ ہم نافرمانی کررہے ہیں اگر اسرائیل یہ سوچ لے کہ ہندوستان کے مسلمانوں پر بم باری کرنا ہے تو کیا اس بم کو یہ بتایا گیا ہے کہ تم فلاں مسلک پر گرنا کیا گجرات میں فسادیوں نے مسلک کی بنیاد پر مسلمانوں کا ہولو کاسٹ کیا تھا بابری مسجد کی شہادت پر دنیا بھر کے مسلمانوں کو تکلیف ہوئی اگر ہندی علماء4 کرام کو بابری مسجد یعنی اللہ کے گھر کی فکر ہوتی تو کیا مسجد شہید کردی جاتی؟ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک مسلمانوں میں مسلکی اختلافات قائم رہینگے اور اوس و خزرج کے نقش پر عمل کرنے والے موجود رہنگیتب تک مسجدیں شہید ہوتی رہینگی مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہے گا اور طرح طرح کے عذاب نازل ہوتے رہینگے کاش کہ ہم مسلکی مسلمان نہ ہو کر امت محمدیہ مسلمہ ہوتے؟

About the author

Taasir Newspaper