اردو | हिन्दी | English
185 Views
Deen

مدرسہ عزیزیہ مسلسل ترقی کی راہ پر گا مزن

Madrasa
Written by Taasir Newspaper

بہار شریف، 25اپریل (محمد توصیف جمال)شیخ شر ف الدین احمد یحی منیری ؒ کی سر زمین پر واقع ریاست کا مشہور و معروف مدرسہ عزیزیہ ایک بار پھر لگا تا ر ترقی کی راہ گامزن ہے ۔آزادی سے قبل ۱۹۱۰؍ ؁میں قائم شدہ مذکورہ مدرسہ سے لا کھو ں لا کھ فار غین حضرات ملک و دیگر مما لک میں رہ کر اپنی خدمات انجا م دیتے رہے ہیں یہ سلسلہ آج بھی قائم ہے ۔مو جو دہ وقت میں بھی مدرسہ ھذٰا بخوبی اپنی خدمات انجام دے رہاہے ۔ جس کے وجہ کر مدرسہ کا وقار بام عرو ج پر ہے ۔ حالانکہ مذکورہ مدرسہ میں کئی مر تبہ زوال کے با دل منڈلاتے رہے ہیں ،لیکن جب جب مدرسہ نے زوال کا سامنا کیا ہے تب تب اللہ نے کسی ایسے شخص کو مدرسہ کے حفاظت کے لئے سامنے لا یا جو مدرسہ کے بدحالی کو دور کرنے کے لیے تن من دھن سے اپنی فرائض کو انجام دیتے ہوئے مدرسہ کے بدحالی کو دور کر نے کا کام کیا ۔گذشتہ دو سال قبل مدرسہ میں نا جا نے کس کی نظر لگ گئی تھی کہ یہاں کی تعلیمی ماحول در ہم برہم ہو گیا تھا ۔جہاں حفظ شعبہ میں تعلیم کا سلسلہ بند پڑا تھاتو وہیں قیام گا ہ میں بچوں کا مدرسہ سے خاتمہ ہو چکا تھا ۔مدرسہ کی عمارت بھی چاروں طرف سے ڈھا رہی تھی ر ہ رہ کر مدرسہ کے چھتوں سے ملبہ گرا کر تا تھا ۔یہاں رہنے والے اساتذہ کرام کہیں پر سے محفوظ نہیں تھے ۔یہاںآنے جانے والے طا لب علموں کو کئی مرتبہ ملبے کا شکا رہونا پڑا تھا ۔بجلی ،پا نی کی قلت سے لو گوں کو دوچار ہو نا پڑرہا تھا ۔اس مشکل گھڑی میں مذکورہ مدرسہ ایک ساتھ کئی مشکلات کا سامنا کر نے پر مجور تھا ۔اور پھر ایسا لگ رہا تھا کہ اب مدرسہ کاا چھا دن آنے والا نہیں ہے لیکن جب صغری وقف اسٹیٹ کے متولی و مدرسہ ھذ ا کے سکریٹری جناب ایس ایم شرف صاحب نے اپنے ذمہ واری سنبھا لی تو پہلی فرصت میں متولی مو صوف نے مدرسہ کے تعلق سے تما م جا نکاریاں حاصل کیں اور اس کے بعد بی بی صغری مرحومہ کی وصیت کے مطا بق عمل کر تے ہوئے مدرسہ کے بدحالی کو دور کر نے کا بیڑا اٹھا یا اور لگاتار مدرسہ کے فلا ح و بہبو د کے لیے اپنی فرائض انجام دیتے رہے ۔آج عالم یہ ہے کہ مدرسہ کی عمارت کو چست درست کرا دیا گیا ۔جس سے مدرسہ قابل دید نظر آنے لگا ہے ۔متولی کے پہل پر ضلع ہی نہیں بلکہ دیگر اضلاع سے قریب ۷۰؍بچے مدرسہ ھذامیں رہ کرتعلیم حاصل کر رہے ہیں جسے عمدہ طعام وقیام کے علاوہ لباس ،کتا ب ،کاپی وغیرہ اسٹیٹ کی جانب سے فراہم کرا ئی جا تی ہے مددرسہ میں بجلی ،پا نی کا معقول انتظامات کیے گئے ہیں ۔جب کہ مدرسہ کے جانب سے کو شش کی جا رہی ہے کہ زیر قیام بچوں کی تعداد میں اضافہ کر قریب ۲۵۰؍بچے کا لیاقت کی جا ئے اس کے لیے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے ۔معلو م ہو کہ مذکورہ مدرسہ میں بنیادی تعلیم سے لیکر درجہ فاضل تک کی تعلیم دینے کا نظم ہے ۔اس کے لیے کم از کم پچاس اساتذہ کرام کی اشد ضرورت ہے ۔لیکن افسو س ہے کہ مدرسہ ھذا میں صرف بارہ اساتذہ کرام ہی اپنی خدمات بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔حالانکہ مدرسہ کی جانب سے کئی مر تبہ مدرسہ ایجو کیشن بور ڈ اور مو لانا مظہر الحق اردو وفارسی یو نیو ر سیٹی کے وائس چانسلر کو اساتذہ کرام کی تقرری کے لیے لکھا گیا ہے ۔ مگر لکھے گئے عرضداشت پر کو ئی توجہ نہیں دیے جا نے سے مدرسہ کے تعلیمی معیار پر برا اثر پڑ رہا ہے ۔ حالانکہ متولی ایس ایم شر ف نے اساتذہ کے کمی کو دیکھتے ہوئے عارضی طور پر کئی اساتذہ کرام کی تقرری کی گئی ہے ۔جس کا اخرجات صغری اسٹیٹ بر داشت کر تی ہے ۔اس سلسلے میں متولی نے کہا کہ مدرسہ عزیز یہ میں تعلیم کا سلسلہ جا ری رکھنے کے لیے ہر ممکن کو شش کی جا ئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ کے بچوں کو اب کمپیوٹر کی تعلیم بھی دینے کا نظم کیا جا ئے گا ۔ مدرسہ کے دفتری کام کے لیے بھی کمپیوٹرنصب کیے جا ئیں گے ۔ دوسری طر ف مدرسہ کے پرنسپل جناب مفتی خالد عبد اللہ نے بتا یا کہ متولی و سکریٹری مدرسہ ھذا ایس ایم شرف کے دلچسپی کے سبب مدرسہ نیا باب لکھنے کے دہا نے پر پہنچ چکی ہے ۔اور ہم لوگوں کی کو شش ہے کہ داخلہ گو تما م شعبے کے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دی جا ئے ۔انہوں نے صاف طور پر کہا کہ صرف مدرسہ سرٹیفیکٹ دینے کے لیے نہیں رہے گا بلکہ داخلہ گو بچوں کا با ضابطہ طور پر کلاس لیا جا ئے گا ۔انہوں نے کہا کہ ۷۵؍فیصد سے کم حاضری والے طلبا ء و طا لبات کو سرکاری منصوبے کا فائدہ نہیں مل سکے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ داخلہ سے قبل یہاں ٹیسٹ امتحان لیا جا تا ہے اور جو بچے امتحان میں کا میا ب ہو تے ہیں انہیں بچوں کا داخلہ لیا جا تا ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper