اردو | हिन्दी | English
343 Views
Politics

مسلمانوں میں پیرسے لیکرفقیرتک ہیں غلام ذہن : اشفاق رحمن

ashf
Written by Taasir Newspaper

 روزنامہ تاثیر(پٹنہ): ۶۱۰۲۔۹۔۳

سب سے بڑے ڈیموکریٹک لیڈرمحمد کی قوم سیاست سے نا آشنا:جے ڈی آر

پٹنہ(پریس ریلیز)جنتادل راشٹروادی کے قومی کنوینراورجواں سال مسلم رہنمااشفاق رحمن کہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی خستہ حالی کی واحدوجہ یہ ہے کہ پیرسے لیکر فقیرتک ذہنی غلام ہیں،نفسیاتی طورپریہ قوم پسماندہ ہے۔ملت پسماندگی کی دوسری اور تیسری لائن میں نہیں،98-99قطارمیں کھڑی ہے۔ اوروں سے یہ 97ڈگری پیچھے ہے۔اس غلام ذہنیت سے جب تک باہرنکلنے کی جدوجہدنہیں کی جائے گی،قوم کبھی بھی آگے نہیں بڑھ پائے گی۔مگر المیہ یہ ہے کہ سیاسی بیداری سے متعلق کوئی بھی احتجاجی مظاہرہ کیلئے مسلمانوں کوجمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے توملت کے اندرسے ہی فقرہ کسا جاتاہے۔ان کے پاس کوئی کام ہے؟فالتو کی نیتاگری کررہے ہیں،آندولن کریں گے؟اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ مسلم لیڈران یاتحریک کاروں کااستقبال منفی سوچ سے ہی ہوتی ہے۔حمایت یاتائیدکی بجائے نکتہ چینی کومسلمانوں نے اپنامشغلہ بنالیاہے۔ساتھ دینے کی بجائے ٹانگ کھینچائی میںملت کوزیادہ مزہ آتاہے۔جب کہ یہ لوگ دوسری قوم کے لیڈران کی جوتیاں سیدھی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اہل وعیال کی خدمت کرنے کواپنافریضہ سمجھتے ہیں۔

غیروں کے آگے کسی سوال جواب کے سجدہ ریزہونے کوکچھ لوگوں نے اپناایمان سمجھ لیاہے۔کتنے عجیب بات ہے کہ ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیںجہاں سیاسی،سماجی فیصلے غیروں کیلئے بھی مثعل راہ رہے ہیں۔بھارت میں مسلمان صرف کلمہ پڑھ کرایمان لایا ضرورہے مگرایمانی عمل سے بالکل خالی ہے۔سیاست کیاہے،وہ جانتے ہی نہیں؟اورشایدجاننابھی نہیں چاہتے۔پیغمبرمحمد سب سے بڑے ڈیموکریٹک لیڈرہیں اورمسجدنبوی دنیاکی پہلی ڈیموکریٹک پارلیمنٹ ہے۔مسجدنبوی میں مذہبی معاملات پرمجلس نہیں بیٹھتی تھی۔جب بھی سماج کے اندربگاڑآیایاکوئی الجھن پیداہوئی توسماجی معاملات پرمسجد نبوی میں نہ صرف پارلیمنٹ بیٹھتی تھی بلکہ وہاں لئے گئے فیصلہ سب کے لئے قابل قبول ہوتاتھا۔لیکن آج کیاہورہاہے ہم سیاست کے کوسوں دورچلے گئے ہیں۔جب کہ سیاست ہماراسماجی معاملہ ہے۔ارسطونے ٹھیک ہی کہاتھاجوقوم سیاست سے دورہوجائے وہ مکمل طورپرغلام ہوجاتی ہے۔کسی بھی چیزکاانحصارنیت سے ہوتا ہے۔سیاست میں بھی نیت کااہم درجہ ہے کسی کوقائدتسلیم کرنے کی نیت ہی نہیں ہے توقوم کی بھلاہوگی بھی کیسے؟۔

About the author

Taasir Newspaper