اردو | हिन्दी | English
269 Views
Politics

مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے کی منظم سازش ہورہی ہے : م افضل

download
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی(یو این آئی)سابق ممبر پارلیمنٹ اور کانگریس کے قومی ترجمان م۔ افضل نے ملک کے موجودہ حالات میں اس تمہید کے ساتھ کہ مسلمانوں کو سماجی سطح پر مکالمہ کرنے کی اشد ضرورت ہے آج کہا کہ ان دنوں جس طرح منفی پروپیگنڈوں اور ایک طے شدہ حکمت عملی سے ملک میں مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے اور ان کو ہربرائی کی جڑ قرار دینے کی کوشش ہورہی ہے وہ معاشرتی ہم آہنگی کے لئے انتہائی مضر ہے ۔مسٹر افضل نے کہا کہ ویسے تو بڑے شہروں میں دانشوروں کی سطح پر مکالمے عام طو رپر ہوتے رہتے ہیں لیکن موجودہ منظر نامے میں ہر سطح پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مکالمے کے ذریعہ فہمیوں کا ازالہ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے ۔مسلمانوں کو ہر طبقہ کے ہندوبرادران کے ساتھ بات چیت اور مفاہمت کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے ۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں جو مسلم ممبران ہیں وہ غیر مسلم ممبران سے کالمہ کریں اسی طرح بلدیاتی اداروں اور پنچایتوں کی سطح پر بھی یہ کام ہونا چاہئے ”۔ انہو ں نے کہا کہ سماجی تنظیمیں اور سماجی لوگ بھی رابطے کے ذریعہ ہر سطح پر مسلم مخالف مفروضوں اور پروپیگنڈوں کی توڑ میں اس لئے پہل کریں یہ کام کوئی دوسرا نہیں کرے گا۔مزید یہ کہ ناموافق حالات سے نمٹنے کے لئے جس ہوشمندانہ سیاسی رویہ کی ضرورت ہے مسلمانو ں میں اب بھی اس کا فقدان ہے ۔ اترپردیش کے حالیہ انتخابی نتائج کا ذکر کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ اگر مسلمان سیاسی تدبر سے کام لیتے تو نتائج کچھ اور ہوسکتے تھے ۔ریاست میں 24سیٹوں پر مسلم امیدوار کامیاب ضرور ہوئے ہیں لیکن جن85سیٹوں پر وہ دوسرے نمبر پر رہے انہی حلقوں میں تیسرے نمبر پر بھی مسلمان ہی رہے ۔ انہو ں نے تعلیم اور تجارت کے شعبوں میں مسلمانو ں کی حالیہ برسوں کے دوران مثبت ترقی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ نسبتاً ان میں سیاست کے رجحان میں زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کی ایک وجہ شاید یہ ہو کہ سیاست میں بہت تیزی سے شہرت اور دولت حاصل کی جاسکتی ہے لیکن ان کی کسی تدبر کے بغیر سیاست زدگی کے نتیجہ میں پارلیمنٹ ،اسمبلیوں، بلدیاتی اداروں اور پنچایتوں میں ان کی نمائندگی بدستور کم ہوتی جارہی ہے ۔ اس طرح کنگ میکر کہلانے والا مسلمان اب سیاسی طور پر بے حیثیت ہوچکا ہے ۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسٹر افضل نے کہا کہ اب اترپردیش میں نگر پالیکاؤں کے چناؤ ہورہے ہیں اور خبریں آرہی ہیں کہ مسلم محلوں میں مسلم امیدوار وں میں الیکشن لڑنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ ظاہر ہے اس سے مسلم ووٹ تقسیم ہوگا اور دوسرے اس کا فائدہ اٹھائیں گے ۔ تدبر سے عاری سیاست زدگی کا یہ رجحان مسلمانوں کی سیاسی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔

About the author

Tariq Hasan