اردو | हिन्दी | English
121 Views
Politics

مسلم پرسنل لا کے تحفظ کیلئے جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں: پروفیسر عبدالغفور

abdul-ghafoor
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی،16 اکتوبر (یوا ین آئی) حکومت بہارمیں اقلیتی امور کے وزیر اورراشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر پروفیسر عبدالغفور نے مسلم پرسنل لا میں حکومت کی مداخلت اور سیکولر جماعتوں کے رویے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کو اس سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے اور جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا چاہئے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت کا مسلم پرسنل لا کے تئیں موقف سامنے آچکا ہے اور وہ اس میں مداخلت کرنے پر آمادہ نظر آرہی ہے اور اس کا مقصد یہی ہے کہ مسلمان اپنی تعلیمی، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو چھوڑ کر اس بحث میں الجھ جائیں۔ اس لئے انہوں نے اس وقت جب کہ ملک سرحدی مسائل کے علاوہ دیگر سنگین مسائل سے دوچار ہے اور مودی حکومت تمام محاذ پر ناکام ہے اس لئے اس میں مداخلت کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔انہوں نے شریعت میں مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایاکہ مرکز میں برسراقتدار فرقہ پرست قوتیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے ملک کے عوام میں نفرت پھیلارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو تعلیمی، سیاسی معاشرتی ترقی سمیت مجموعی ترقی سے دور کرنے کیلئے فرقہ پرست طاقتیں اس طرح کا شوشہ چھوڑتی رہتی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی شرعی ذمہ داری کو پوری کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو ناکام کرنے کے لئے دانش مندی کا مظاہرہ کریں۔ اقلیتی امور کے وزیر مسلمانوں سے جذبات کو ابھارنے والی طاقتوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ جذبات کا شکار ہونے کے بجائے ہوش سے کام لیں اور ایسے عناصر کی سرکوبی کریں ورنہ اس سے صرف فرقہ پرست طاقتوں کے مقاصد کی تکمیل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح دیگر مذہبوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے توپھر کیوں کہ مرکزی حکومت طلاق کے پیچھے پڑی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت صرف مسلم خواتین کے حقوق کا رونا رو کر صرف ڈھونگ کر رہی ہے ۔ اگرمرکزی حکومت سمچ مچ مسلم خواتین کی ہمدرد ہے توپہلے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی، تعصب، جنسی استحصال اورحیوانی سلوک کو روکے جن کا شکار وہ غیر مسلموں سے ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ چاہئے کہ وہ سیکولر جماعت کے ساتھ میٹنگ کرکے اس مسئلہ کو حل کرنے کا راستہ نکالنے کی کوشش کریں اور سیکولر جماعتوں کو مجبور کریں وہ مسلم پرسنل لا کا ساتھ دے ۔ اس سے ان جماعتوں کی بھی پہنچان ہوجائے گی کہ کون سی جماعت مسلمانوں کی بہی خواہ ہے ۔۔انہوں نے کہاکہ کورٹ کا رجحان بھی اسی طرح کا نظر آرہا ہے لہذا مسلمانوں کو کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس سمت میں نہایت سنجیدہ کوشش کریں گے اور جذبات ابھارے بغیر ہوش کے ساتھ اس معاملے میں پہل کریں۔مسٹر عبدالغفور نے مسلمانوں کے اتحادپر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت جس طرح مسلم تنظیموں نے اتحاد کا مظاہر کرتے ہوئے مسلم پرسنل لا کے دفاع میں میدان میں آئے ہیں وہ لائق صد ستائش ہے ۔آئندہ بھی اسی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کواپنے دفاع کے لئے میدان میں آنا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اسلام دشمن طاقتوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے انتشار سے فائدہ اٹھایا ہے اور مسلمان اپنے انتشار سے ان کو یہ موقع فراہم کرتے رہے ہیں۔

About the author

Tariq Hasan