اردو | हिन्दी | English
149 Views
bihar

مشتعل ہجوم اور پولس میں تصادم،ایس ڈی او اور ڈی ایس پی سمیت 4 زخمی

2
Written by Taasir Newspaper

مشرقی چمپارن، 22 جولائی (محمد ارشد): مشرقی چمپارن میں ان دنوں جرائم کا گراف بے تحاشہ بڑھ گیا ہے اور بد معاشوں کا طبقہ مخصوص لوگوں کو ٹارگیٹ بنا کر انہیں موت کے گھاٹ اتارنے میں ذرا بھی نہیں جھجھک رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے نو منتخب مکھیا کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ تربیت دیئے جانے کے بعد پروگرام سے لوٹ رہے تھربٹیا پنچایت کے کے مکھیا پر جمعرات کی دیر شام حملہ کیا گیا جس میں مکھیا کے ساتھ جارہے ان کے بھتیجے امیتابھ سہنی کی موت گولی لگنے کی وجہ سے موقع پر ہی ہوگئی۔جب کے مکھیا کو بھی گولی لگنے کے بعد انہیں ابتدائی علاج کرایا گیا لیکن مقامی ڈاکٹروں نے ان کی صورتحال نازک بتاتے ہوئے موتیہاری نرسنگ ہوم ریفر کر دیاگیا۔جس کے بعد انہیں آج صبح بہتر علاج کے لئے موتیہاری سے بھی ریفر کر دیا گیا ہے ان کو بھی کئی گولیاں لگی ہیں ۔اس کی خبر سنتے ہی مکھیا کے گاؤں کے لوگ مشتعل ہوگئے اسے دیکھتے ہوئے سی آر پی ایف کی تعیناتی کر دی گئی اور پولس عملہ کے ساتھ ساتھ بڑے افسران اور کئی لوگ مکھیا کے ساتھ ساتھ ان کے گاؤں کی بھی چاکسی بڑھا دی گئی۔زخمی مکھیا پنچایت کے بھگوان پور گاؤں کے رہنے والے تھے۔ان کے ساتھ گئے لوگوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار بد معاشوں نے پروگرام سے لوٹ رہے مکھیا کے گاڑی کو گھیر لیا۔اور تابر توڑ فائرنگ شروع کر دی حملے کے بعد بائک سوار موقع سے فرار ہوگئے۔لوگوں نے بتایا کہ مکھیا پر حملہ دیر شام سو ا ؍۸ بجے کے قریب کیا گیا جس کے بعد مکھیا کو علاج کے لئے موتیہاری ریفر کیا گیا۔گاؤں سمیت سرحد کے سارے راستے کئے گئے سیل:۔ مکھیا مادھو سہنی کے گاؤں بھگوان پور جانے والے تمام راستوں کو سیل کرنے کے باوجود بھی بد معاش پولس کی گرفت سے دور چلے گئے۔بڑی تعداد میں لوگوں نے گاؤں میں بھی بد معاشوں کی تلاشی کی ابھی بھی گاؤں میں حفاظتی کی دستوں کی تعیناتی کی گئی ہے جو گاؤں سمیت گاؤں میں آنے والے تمام راستوں پر چھان بین کر رہے ہیں ۔پولس کے جوانوں کی بڑی تعداد میں گاؤں کے آس پاس گستی بڑھا دی گئی ہے کوٹھی بازار اور چورما چوک پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے۔کل دیر شام ہوئے حادثے کو لیکر آج مکھیا کے گاؤں کے لوگوں نے سڑک کو جام کیا۔مکھیا کو گولی لگنے کے بعد گاؤں کے ناراض لوگوں نے آج ۱۱ بجے چورما۔ پکڑی دیال شاہراہ کو جام کر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے اسی دور ان کچھ مشتعل لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور وہ جم کر ہنگامہ کرنے لگے۔پولس کو مشتعل لوگوں کو قابو پانے کے لئے پہلے لاٹھی چارج کرنی پڑی اس کے بعد ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ہوائی فائرنگ کرنے کے بعد پولس اور عوام کے مابین جھڑپیں شروع ہوگئیں ۔عوام نے بھی پولس بم پھینکے جس میں پکڑی دیال ڈی ایس پی اور ایس ڈی او سمیت پولس کے چار جوان شدید طور پر زخمی ہوگئے۔انتظامیہ سے کہاں چوک ہوئی ہے کہ اس طرح کا بڑا حادثہ دیکھنے کو ملا۔ اس بابت مکھیا کے گاؤں کے لوگ پہلے سے ہی حملے کو لیکر ناراض تھے ۔ اسی دوران پولس بجائے بھیڑ پر قابو پانے اور گاؤں والوں کو سمجھانے کے پولس نے لاٹھی چارج کر دی۔پولس نے جب لاٹھی چارج کی تو کئی ضعیف موقع پر بے ہوش ہوگئے اور انہیں سخت چوٹیں آئیں ۔جس کے بعد جوابی کاروائی کر تے ہوئے پہلے تو سنگ باری کی گئی اس کے بعد سڑک جام کر رہے لوگوں کی جانب سے انتظامیہ کے لوگوں پر بم باری کی گئی ۔جس میں جہاں کئی افسران شدید طور پر زخمی ہوئے اور انہیں علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا وہیں کئی مقامی لوگ بھی چوٹیل ہوگئے۔سڑک جام کر رہے لوگوں نے جہاں سڑک جام کر آتش زنی کی وہیں ان لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ریاستی سرکارجرائم پر کنٹرول کریں مظاہرین نے ریاستی سرکار کے خلاف جم کر نعرے بازی کی وہیں ناراض لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ انتظامیہ کی تساہلی کی وجہ سے بد معاشوں کا گراف بڑھتا جارہا ہے۔انتظامیہ بجائے بد معاشی پر لگام لگانے کے وہ بے بس عوام کو اپنا نشانہ بنا رہی ہے۔اس بابت مشرقی چمپارن کے ایس پی جتندر رانا شہر میں جرائم کا گراف میں اضافے کو لیکر وہ بھی متفکر ہیں ۔ لگاتار دو دنوں میں دو گولی معاملے کو لیکر ایس پی جتندرانا بھی پوری طرح بوکھلائے ہوئے ہیں ۔اور وہ بد معاشوں کو پکڑے کے لئے کبھی ٹیم تشکیل کر رہے تو کبھی سرحد سیل کر رہے ہیں تو کبھی خود ہی موقع پر جاکر کمان سمبھال رہے ہیں لیکن کس طرح کا کو ئی سود مند ریزلٹ سامنے نہیں آرہا ہے ایس پی جتندرانا نے کہا کہ تمام سرحدوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور گاؤں میں کثیر تعداد میں پولس تعینات کردی گئی ہے جو لگاتار بد معاشوں پر نظر جمائے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ پولس اور عوام کے مابین ہوئے جھڑ پ میں کن لوگوں کو ہاتھ ہے ۔پولس سارے معاملے کو لیکر قصوروار لوگوں کے خلاف اطلاع اول درج کرنے کی بھی تیاری چل رہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper