اردو | हिन्दी | English
333 Views
Politics

مودی حکومت بدعنوانی سے پاک، آسام کے مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ دیے :نجمہ

Najma-Heptulla
Written by Taasir Newspaper

سری نگر ، 30مئی (یو ا ین آئی) مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دو سالہ سرکار کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اِن دو برسوں کے دوران کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ انہوں نے سابق یو پی اے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اُس حکومت میں بدعنوانی کے اسکینڈلوں کا سامنے آنا معمول بن چکا تھا۔ محترمہ نجمہ نے کہا کہ سابق یو پی اے حکومت نے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہ کرکے بے ایمانی کی۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کا نام لئے بغیر کہا کہ سابق حکمرانوں نے بی جے پی اور نریندر مودی کے تئیں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا تھا۔ تاہم بقول اُن کے مسٹر مودی نے ملک کا وزیراعظم بن کر اس منفی پروپیگنڈا کو غلط ثابت کیا۔ اقلیتی امور کی مرکزی وزیر نے کہا کہ مسٹر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد جہاں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا وہیں لوگوں کی سوچ تبدیل ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسٹر ی مودی نے اپنے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے رکھے ہیں۔محترمہ نجمہ نے اِن باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں نگین کلب میں مسٹر مودی کی قیادت والی مرکزی سرکاری کی دو سالہ کارکردگی کے سلسلے میں بی جے پی ورکروں کی ایک تقریب اور بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ، مرکزی وزیر مملکت برائے آیوش شری پد نائیک، بی جے پی ریاستی اکائی کے صدر ست شرما اور دیگر مقامی بی جے پی لیڈران بھی موجود تھے ۔محترمہ نجمہ نے کہا کہ جہاں ملک بدل رہا ہے وہاں سوچ بھی بدل رہی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آسام جہاں بی جے پی پہلی بار اقتدار میں آگئی، میں مسلمانوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دیے ۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کررہے تھے ، کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔اقلیتی امور کی مرکزی وزیر نے کانگریس کا نام لئے بغیر کہا ‘2014 ء کے عام انتخابات سے قبل یہ پروپیگنڈا جاری تھا کہ جب بی جے پی اقتدار میں آئے گی اور مسٹر مودی ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تو اقلیتوں سے امتیاز سلوک روا رکھا جائے گا اور اقلیتی وزارت ختم کردی جائے گی۔ یہ سب غلط ثابت ہوا’۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی نے گذشتہ دو سال کے دوران اقلیتی وزارت پر خصوصی دھیان مرکوز کیا۔ انہوں نے کہا ‘جب مسٹر مودی نے مجھے اقلیتی امور کی مرکزی وزیر بنایا تو میں نے اُن سے کہا کہ وہ مجھ سے کیا امید کرتے ہیں۔مسٹر مودی نے کہا کہ جو ایک عام شہری کو حقوق ملنا چاہیے وہ مسلمانوں کو نہیں مل رہا ہیں۔ انہیں وہ حقوق دیجئے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ بلالحاظ مذہب وملت اقلیتوں کی بہبودی کا کام کرو’۔محترمہ نجمہ نے کہا کہ مسٹر مودی کی سرکاری کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت میں بدعنوانی کے اسکینڈل سامنے آنا معمول بن چکا تھا اور آئے روز کورپشن اسکینڈل اخباروں کی سرخیوں میں رہتے تھے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ سرکاروں نے اسکولوں میں بیت الخلاء تک نہیں بنائے ۔مسٹر مودی کی حالیہ تقریر جس میں انہوں نے اپنی دو سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی، کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ نجمہ نے کہا کہ سابق حکمران نے کبھی اپنے انتخابی منشور پڑھ کر نہیں سنائے ۔ انہوں نے کہا کہ ‘وعدے کرکے پورا نہ کرنا سب سے بڑی بے ایمانی ہے ۔ سابق حکومت نے یہی بے ایمانی کی’۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ‘کیا انہوں نے کبھی انتخاب منشور پڑھ کر کہا کہ ہم نے فلاں فلاں وعدہ پورا کیا’۔محترمہ نجمہ نے جموں وکشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی وزارت کی جانب سے شروع کردہ ‘استاد’ اسکیم سے یہاں کے ہنرمند مستفید ہوں گے ۔ انہوں نے کہا ‘جموں وکشمیر ایک ایسا خطہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال کردیا ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کو مختلف ہنروں سے بھی نوازا ہے ۔ میری وزارت کی جانب سے شروع کردہ استاد اسکیم سے یہاں کے ہنر مند مستفید ہوں گے ‘۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی وزارت کی مدد سے پانچ اقلیتی طلبہ نے سیول سروسز امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔محترمہ نجمہ نے کہا کہ نریندر مودی کے لئے سبھی چھ اقلیتیں برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی وزارت کی جانب سے جتنی مدد ممکن ہورہی ہے ، وہ وزارت اقلیتی امور کررہی ہے ۔ محترمہ نجمہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں تمام وزارتیں لوگوں کی ترقی میں لگی ہوئی ہیں۔انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ مودی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کو عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار سے وابستہ وزراء حکومت کی دو سالہ کارکردگی کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے دو سو مقامات پر جائیں گے ۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ بی جے پی دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں11 کروڑ عوام نے بی جے پی کی بنیادی ممبر شپ حاصل کرلی ہے ۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں سے مخاطب ہوکر کہا ‘آپ اُس پارٹی کے کارکن ہو جو دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے ۔ جس کے ہندوستان میں 11 کروڑ لوگ ممبر ہیں۔ آپ کے لیڈر نریندر مودی دنیا کے سب سے مشہور سیاسی شخصیت ہیں’۔ مسٹر ارون نے کہا کہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر ملک بھر میں پروگراموں کا انعقاد کیا جارہا ہے جن میں لوگوں کو حکومت کی جانب سے شروع کردہ اسکیموں کے بارے میں بتایا جارہا ہے ۔مرکزی وزیر مملکت برائے آیوش شری پد نائیک نے اپنی تقریر میں سابق کانگریس حکومت پر وار کرتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اور اسکینڈل پر اسکینڈل سامنے آرہے تھے ۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ‘کیا گزشتہ دو سال میں آپ نے سنا کہ کسی وزیر نے پانچ پیسے کا گھوٹالہ کیا’۔ بی جے پی ریاستی اکائی کے صدر ست شرما نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران ایک دہائی کے نقصان کی برپائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک مسٹر مودی کے ساتھ کھڑا ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper