اردو | हिन्दी | English
446 Views
Around the World Politics

مودی کے دورۂ امریکہ سے ملک کوملی نئی توانائی

Narendra-Modi-and-Barack-Obama
Written by Taasir Newspaper

اپنے حالیہ دورۂ امریکہ میں نریندر مودی جب امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس کے مغربی حصے میں پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور ان کی آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔یہ ہند امریکہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا چوتھا واقعہ تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بات چیت میں موسمیاتی تبدیلیوں، قابل تجدید توانائی، سکیورٹی اور دفاعی تعاون اور معاشی بہتری جیسے موضوعات شامل ہیں۔نریندر مودی کا دو برس قبل ہندوستان کا وزیراعظم بننے کے بعد امریکا کا یہ چوتھا دورہ تھا، جبکہ باراک اوباما سے یہ ان کی ساتویں ملاقات تھی۔ نریندر مودی8 جون کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کیا۔مودی کے موجودہ دورہ امریکا کا آغاز 7 جون 2016کو ہوا تھا۔ انہوں نے ایک تقریب کے دوران اٹارنی جنرل لوریٹا لِنچ سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس تقریب میں ہندوستان کیلئے سب مسرت انگیز بات یہ رہی کہ چوری شدہ دو سو سے زائد نوادرات حکومت ہندکو واپس لوٹانے کا اعلا ن کیا گیا تھا ۔اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ذاتی تعلقات میں بھی گرمجوشی بڑھتی نظرآئی ۔ گزشتہ برس جب باراک اوباما بھارت کے دورے پر پہنچے تھے تو انہوں نے مودی سے گلے مل کر گرمجوشی کا اظہار کیا اور دونوں رہنماؤں نے عوامی طور پر ایک دوسرے کی تعریفیں کیں۔قابل ذکرہے کہ گزشتہ ہفتہ وزیر اعظم پانچ ملکی دورے پر تھے اور واشنگٹن پہنچنے سے قبل انہوں نے سوئٹزرلینڈ، افغانستان اور قطر کا بھی دورہ کیا تھا۔ امریکا کے بعد وہ میکسیکو گئے ،جہاں سے ہند میکسیکو تعلقات میں مزید فعالیت لانے کی بات سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن میں انہوں نے کانگریس کے اعلیٰ ارکان اور کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ہند امریکہ باہمی تجارت کا حجم 2008 کے بعد سے مسلسل بڑھ رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ ہوا تھا۔ 2009ء کے دوران باہمی تجارت کا حجم 60 بلین امریکی ڈالرز تھا جو 2015ء میں بڑھ کر 107 بلین ڈالرز تک پہنچ گیاہے۔ امریکہ ہندوستان کو ملٹری ہارڈ ویئر فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک بن گیا ہے۔اس موقع پر دونو ں ممالک کی جانب سے جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ،اس کا سرسری نظر سے مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ دورہ بالخصوص دورۂ امریکہ ہندوستان کیلئے ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں بڑی حد تک تاریخی ثابت ہوگا۔
دونوں لیڈرو ں نے ایشیا پیسفک اوربحر ہند کے خطے کے لئے تیار کئے جانے والے 2015 کے ہند۔ امریکہ جوائنٹ اسٹریٹجک ویژن کے روڈ میپ کی تکمیل کی ستائش کی۔ یہ روڈ میپ مستقبل کی شراکت داری کے لئے رہنما دستاویز کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔دونوں لیڈروں نے اس عزم محکم کا بھی اظہار کیا کہ ایشیا پیسفک اور بحر ہند کے خطے میں ایک دوسرے کے ترجیحی شراکت دار کی حیثیت سے ایک دوسرے کی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں لیڈروں نے میری ٹائم سکیورٹی ڈائیلاگ کے اجلاس کے اہتمام کا بھی خیر مقدم کیا۔ بحری امور میں اپنے اپنے باہمی مفادات اور بحری سلامتی کے امور سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے پیش نظر دونوں لیڈروں نے بحری معلومات کی شراکت داری کی غرض سے تیار کئے جانے والے ’’ وھائٹ شپنگ ‘‘ کے نام سے کئے جانے والے تکنیکی انتظامات کا بھی خیر مقدم کیا۔اس کے ساتھ ہی دونوں لیڈروں نے بحری سلامتی کے شعبے میں ہند۔ امریکہ تعاون کی حمایت کی بھی تصدیق کی۔دونوں رہنماؤں نے فوج سے فوج کے تعاون، خاص طور سے مشترکہ مشقوں ،تربیت ، آفات ناگہانی کے بعد بچاؤ اور انسانی امداد (ایچ اے / ڈی آر ) کے شعبوں میں ہندوستان اور امریکہ کی فوج کے درمیان بڑھتے تعاون کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے اپنی اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ ایک ایسا معاہدہ تیار کیا جائے ، جس سے باہمی دفاعی تعاون کو عملی طور سے مزید وسعت دی جاسکے۔ اس سلسلے میں انہوں نے لاگسٹکس ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (LEMOA) کو حتمی شکل دئے جانے کا بھی خیر مقدم کیا۔
اس موقع پر دونوں لیڈروں نے حکومت ہند کے اقدام ’’ میک ان انڈیا‘‘ کی حمایت اور تعاون میں اضافے کے تئیں بھی عہد بستگی کا اظہار کیااور ڈیفنس ٹکنالوجی اینڈ ٹریڈ انی شیٹو (ڈی ٹی ٹی آئی ) کے تحت سازوساما ن کی مشترکہ طور سے تیاری اورفروغ کے تئیں بھی اپنی عہد بستگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈی ٹی ٹی آئی ورکنگ گروپ کے قیام کا بھی خیر مقدم کیا، جس میں بحری ،فضائی او ر دیگر اسلحہ کے نظام کو متفقہ طور سے شامل کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی دونوں لیڈروں نے ایئر کرافٹ ٹکنالوجی کوآپریشن پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت اطلاعات کے باہمی لین دین سے متعلق دستاویز کو حتمی شکل دئے جانے کے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا۔
خلائی شراکت دار کی حیثیت سے ہند اور امریکہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بیرونی خلا ئی علاقے کوانسانی کوششو ں کے مسلسل محاذ کی شکل دی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں لیڈروں نے اعلان کیا کہ زمینی مشاہدات مریخ کے تجربے ، خلائی تعلیم اور انسانوں کو خلائی مشن پر بھیجے جانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دی جائے گی۔دونوں لیڈروں نے اس بات کا بھی زور دے کر اعتراف کیا کہ سائبر اسپیس سے معاشی نمو اور ترقی ممکن ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اپنے اس عہدکا بھی ایک بار پھر اعادہ کیا کہ کھلے ، مشترکہ طورسے کام کرنے کے لائق اور بھروسہ مند انٹر نیٹ نظام فراہم کرایا جائے گا۔ اس موقع پر انٹرنیٹ گورننس کو ہمہ جہت دعوے داری موڈل کی شکل دئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔علاوہ ازیں سائبر سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید گہرا کئے جانے کی عہد بستگی کا بھی اظہار کرتے ہوئے ہند۔ امریکہ سائبر ریلیشن شپ کے خاکے کو حتمی شکل دئے جانے کے سلسلے میں باہمی مفاہمت کا خیر مقدم کیاگیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئی سی اے این این ، آئی جی ایف اور دیگر شعبوں سمیت انٹر نیٹ گورننس فورا کے میدان میں مذاکرات جاری رکھنے کے عہد کا بھی اعادہ کیا اور ان شعبوں میں دونوں ملکوں کے دیگر دعوے داروں کو عملی طورسے شریک کرنے کا وعدہ کیا۔اس سلسلے میں اس عہد کا بھی اظہار کیا کہ اس رضاکارانہ قاعدے کی پابندی کی جائے گی کہ کوئی بھی ملک کسی ایسی آن لائن سرگرمی کی حمایت نہیں کرے گا جس سے بین الاقوامی سطح پر اہم ترین انٹر نیٹ ڈھانچے کو نقصان پہنچے یا جس سے عوام الناس کو انٹر نیٹ کی خدمات فراہم کرنے والے خدمات فراہم کاروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
دہشت گردی اور متشدد انتہا پسندی کے خلاف شانہ بہ شانہ جدوجہد :
دونو ں لیڈروں نے دہشت گردی سے انسانی تہذیب کو مسلسل درپیش خطرات کا اعتراف کرتے ہوئے پیرس سے پٹھانکوٹ تک اور بروسلز سے کابل تک ہونے والے حالیہ دہشت گرد دھماکو ں کی مسلسل مذموم حرکتوں کی شدت کے ساتھ مذمت کی۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردوں یا دہشت گردی کی ڈھانچہ جاتی سہولیات کے خلاف باہمی طور سے اور دیگر ہم مزاج ملکوں کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے کے عزم حکم کا بھی اظہار کیا۔
دونو ں لیڈروں نے القاعدہ ، داعش / آئی ایس آئی ایل ، جیش محمد ، لشکر طیبہ ڈی کمپنی اور اس کی ذیلی انتہاپسند تنظیموں کےَ خلاف باہمی تعاون کو مستحکم کرنے کے عزم حکم کا بھی اظہار کیا جس کے لئے اقوام متحدہ کے ٹیررسٹ ڈیزگنیشن پر باہمی اشتراک میں مزید گہرائی پیدا کی جائے گی۔اس سلسلے میں دونوں لیڈروں نے اپنے اپنے افسران کو ہدایت کی کہ باہمی اشتراک کے ان نئے میدانوں کا پتہ لگائیں جسے یوایس انڈیا کاؤنٹر ٹیررزم جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے۔دونوں لیڈروں نے ہند۔ امریکہ انسداددہشت گردی کی شراکت داری کی اہمیت کو یادگار قراردیتے ہوئے دہشت گردوں کی اسکریننگ سے متعلق معلومات کے آپس میں لین دین کے نظام کو حتمی شکل دیے جانے کے نظام کا خیر مقدم کیا اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان سے زور دے کر یہ بات کہی کہ 2008 کے ممبئی دہشت گرد دھماکوں اور 2016 کے پٹھان کوٹ دہشت گرد دھماکوں کے پشت پناہوں کو فوری طور سے انصاف کی عدالتوں میں گرفتار کرکے لایا جائے۔مذکورہ بالا اعلامیہ کا ایک ایک لفظ یہ ظاہر کرہاہے کہ ہند امریکہ تعلقات ان دنوں کس قدر بلندی پر ہیں۔اس ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کے بعد ہندوستان کے روایتی حریف چین اور پاکستان کے پیٹ میں 8جون سے ہی مروڑ شروع ہوگیا ہے اوران کی بیتابی کی سرخیاں بن رہی ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper