اردو | हिन्दी | English
1172 Views
Deen

مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے بالمقابل کلاک ٹاور ،قیامت کے آثار؟

deen
Written by Taasir Newspaper

نبی اکرمﷺ نے فرمایا تھا ’’ بکریاں چرانے والوں کا بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ‘‘(مسلم)۔تازہ ترین خبروں میں یہ سامنے آیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت دبئی میں برج خلیفہ سے بھی بلند وبالا عمارت تعمیر کر رہی ہے ، عمارت کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے ، اس منصوبے پر ایک ارب ڈالر خرچ ہونگے اور یہ عمارت2020 تک تیار ہوجائے گی۔ دوسری جانب جدہ میں بھی ایک بلندوبالا ٹاور تیار ہو رہا ہے جس کی بلندی ایک کلومیٹر تک ہوگی جوکہ برج خلیفہ سے بھی زیادہ ہے اور یہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہوگی۔ایک دوسرے سے اونچی عمارتیں تعمیر کا شوق اور اربوں ڈالر کی لاگت سے بننے والی یہ عمارتیں اگر عزت وفخر کا باعث بنتی تو تاریخ میں فراعین مصر یا عاد وثمود کی فن اور کاریگری کے نمونے جس نے اقوام عالم کو حیرت میں ڈال رکھا ہے معرض وجود میں نہ آتے اور یہ سب سلاطین و بادشاہ نشان عبرت نہ بنتے۔ برج العرب ، پام آئی لینڈاور نیو ائر نائٹ کے موقع پر ان بلڈنگز میں کئی ملین ڈالر کے اسراف سے ہونے والی پارٹیز اور لائٹنگ دنیا بھر کے غرباء4 ومساکین کے چہروں پر طمانچہ ہیں وہاں قرآن اصول کے مطابق شیطان کے بھائی بن کر رحمت الٰہی سے اپنے آپ کو دور کرنا کا بڑا سبب بھی ہیں۔ ہر ذی شعور سوچ سکتا ہے یہی رقوم اگر جہالت کے خلاف اور مسلم امہ کی تعمیر میں لگا دی جائے تو آنیو الی نسلیں اپنے ان آباء4 کو دعاؤں اور محبتوں سے یاد رکھ کر دعاگوہونگی۔تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مغل حکومت کے چرچے ہماری نصابی و تاریخی کتب میں نمایاں طور پر بیان کئے جاتے ہیں لیکن مغل حکمرانوں کے تاج محل، لال قلعہ، پرانا قلعہ، فتح پورسیکری سمیت پورے برصغیر میں انکی شاہی دلچسپیوں کا خمیازہ آج پوری مسلمان قوم بھگت رہی ہے ،مغل حکومت کی یہ شاہی عمارات آج عبرت انگیز ہوچکی ہیں ،تاریخ کا مطالعہ کرنے والا ان عمارتوں کی تعمیر پر لگنے والا بے پناہ سرمایہ اور عیاشیوں کی داستان پڑھنے کے بعد بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ کاش تاج محل کی بجائے ایک یونیورسٹی تعمیر ہوجاتی ، کاش ان فضول خرچیوں کی بجائے اصحاب علم وفن کو عزت دیکر ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ، کاش یہ حکمران صرف قلعوں اور شاہی محلوں کی تعمیر کی بجائے اپنی آئندہ نسلوں کیلئے اچھے ادارے، پانی کے مضبوط ڈیم ، بہترین نہری نظام، معیشت کی ترقی اور مستقبل کے اہداف کو سامنے رکھ کر کوئی ایک بھی کام کرجاتے تو خود ان کی زندگی اور مرنے کے بعد اغیار کے قبضے، تخت نشینی کے جھگڑے، اور مسلم قوم کی بدحالی کی وہ ذلت آمیز داستانیں ہمیں سننے کو نہ ملتیں۔ لال قلعہ پر ہندوستانی ترنگا، تاج محل کی عمارت، قطب مینار کی بلندی سے ہمیں کیا فائدہ پہنچا ، آثار قدیمہ کے نام سے یہ عمارات آج ہمارے سوئے ہوئے ضمیر کو جگاتی ہیں لیکن ہم ٹکٹ خرید کر انہی آثار قدیمہ کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اونچی عمارتیں آئندہ آنے والی نسلوں کو ان حکمرانوں کی لاپرواہیوں اور مستقبل کے بارے میں کوتاہ علمی حالات و واقعات سے بے رغبتی کے قصے سناتی ہیں۔ اور شاید عربوں کے اس شوق کا خمیازہ آئندہ نسلوں کو ایسے ہی دیکھنا پڑے گا جیسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی دیکھیں کہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے بالمقابل کلاک ٹاور کے نام سے اونچی عمارت کھڑی کر دی گئی ، اگرچہ اسکی آمدنی حرمین شریفین کیلئے وقف ہے لیکن پوری دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت جس نے بھی مسجد الحرام کی زیارت کی ہے اس کو ناپسند کیا ہے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ جب تم دیکھو کہ مکہ مکرمہ کا پیٹ چیر کر نہروں جیسی چیزیں بنادی گئی ہیں اور مکہ کی عمارتیں پہاڑوں کی چوٹیوں کے برابر اونچی ہوگئی ہیں تو سمجھ لو کہ معاملہ تمہارے سر پر آچکا ہے اس لئے سنبھل کر رہو ‘‘(مصنف ابن شیبہ) نہروں کا پیٹ چیرنے سے مراداسکی تعمیرات ہیں آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں واقع کتنے ہی پہاڑوں کو چیر کر سرنگیں اور زمین دوز راستے بنادئے گئے ہیں ، مکہ مکرمہ کی عمارتیں نہ صرف پہاڑ کی چوٹیوں کے برابر ہوگئی ہیں بلکہ بعض جگہ ان سے بھی اونچی چلی گئی ہیں نبی اکرمﷺ نے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا’’اونٹوں اور بکریوں کے چرواہے جو برہنہ اور ننگے پاؤں ہونگے وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی بلڈنگیں بنائیں گے اور فخر کریں گے (بخاری) ایک اور موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا :قیامت سے پہلے عرب دوبارہ سرسبز ہوجائیگا (مسلم) آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عرب کے ریگستانوں میں گالف کلب کھولے جارہے ہیں ، وہ صحرا اور خشک جگہیں جہاں کوئی ایک پتا بھی نہیں ملتا تھا وہاں اب گندم کاشت ہو رہی ہے اور خصوصا سعودی عرب گندم کی کاشت میں خود کفیل ہوچکا ہے ، قحط سالی کے ان علاقوں میں اب بارشیں بے انتہا ہوتی ہیں بلکہ سیلابی کیفیت پیدا ہو رہی ہے ، جدہ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات ہم میڈیا پر دیکھ چکے ہیں ، پہاڑوں پر بھی سبزہ نظر آنا شروع ہوچکا ہے ، اگرچہ اس کو گلوبل وارمنگ کا نام بھی دیا جاسکتا ہے لیکن نبی محترمﷺ نے اس کو قیامت کی نشانیاں بیان کیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ ریگستان اور دوبارہ سرسبز ہوجائیں گے مکہ کے قریب ہاتھی کی باقیات مل چکی ہیں اور ہاتھی عموما وہاں ہوتا ہے جہاں سبزہ ہوتا ہے یعنی یہ علاقے پہلے سرسبز ہوتے تھے، ستر کی دہائی سے قبل عرب پاکستان وانڈیا میں تعلقات اور چندہ وتعاون کیلئے آتے تھے لیکن اب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان علاقوں میں جب تیل کی دولت کا فضل کیا تو شاید لوگ اپنی اوقات بھول چکی ہے لیکن اللہ کے اصول ’’ ہر کمالے رازوالے‘‘ کے مصداق قیامت کی نشانیوں کے تناظر میں دیکھ لیں تو شاید وہ وقت قریب آرہا ہے۔ ’’ عقلندوں کیلئے نصیحت ہے ‘‘ قرآن کے اس اصول کو اپنانے والے کہیں کھو چکے ہیں، فاعتبروا یا اولی الابصار۔

About the author

Taasir Newspaper