اردو | हिन्दी | English
180 Views
Politics

نتیش کمار کے بڑھتے قدم اور علاقائی پارٹیوں کے مسائل

Nitish-Kumar
Written by Taasir Newspaper

گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں نتیش کمار نے جو مقبولیت حاصل کی ہے،اس کی مثال ہندوستانی سیاست میں کوئی دوسری نہیں ملتی۔ بہار میں ترقی کا ایجنڈہ ہو، لاء اینڈ آرڈر کا معاملہ ہو یا مرکزی حکومت سے نوک جھونک، ہر محاذ پر نتیش کمار کو کامیابی ملی ہے اور ان کی شہرت میں اضافہ ہوا ہے۔ بہار میں شراب بند کرکے انہوں نے جو تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے اور جس کی وجہ سے بطور خاص جھارکھنڈ اور یوپی میں شراب بند کرنے کی آوازیں بلند ہوئی ہیں، اس سے ان کی شہرت مزید بلندی پر پہنچ گئی ہے۔ نتیش کمار کا گزشتہ دس سالہ اقتدار میری نگاہ میں ہے، جب وہ بی جے پی کی حمایت سے بہار میں حکومت چلارہے تھے۔ انھوں نے بی جے پی کو کبھی اتنی چھوٹ نہیں دی جس سے کہ وہ کسی طرح کی بدامنی پھیلانے کی کوشش کرے اور بلاشبہ دس برسوں میں بہار نے بجلی، سڑک، تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بے مثال ترقی کی ہے۔ غنڈہ گردی جس کی وجہ سے شام کو نکلنا تک دشوار تھا، اس میں نہ صر ف کمی آئی بلکہ پوری طرح ختم ہوگئی۔ کبھی کبھار کوئی ناخوشگوار واقعہ سننے میں ضرور آیا لیکن ان کی تعداد اتنی کم تھی کہ اس وجہ سے لااینڈ آرڈر کو شبہ کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ بی جے پی سے علاحدہ ہوکر بھی نتیش کمار نے کم وبیش ڈیڑھ برس حکومت آر جے ڈی یا کانگریس کی حمایت سے چلائی ہے لیکن اس زمانے میں بھی کوئی بڑے مسائل پیش نہیں آئے، ذاتی رنجش میں قتل اور پولیس کی ذیادتی کے معاملے ضرور سامنے آئے لیکن ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں حکومت نے کسی طرح کی کوئی کوتاہی نہیں دکھائی۔ عدالت کے معاملات حکومت سے الگ ہیں اور اس وجہ سے حکومت کی منشاء پر شبہ کرنا مناسب نہیں ہے۔نومبر 2015میں نتیش کمار ایک بار پھر بڑی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے، اس بار ان کو راشٹریہ جنتادل اور کانگریس پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ انتخاب سے قبل ہی مہاگٹھ بندھن کے نام سے ایک اتحاد قائم ہوا اور جس نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ گٹھ بندھن ہوجانے کی وجہ سے راشٹریہ جنتادل اور کانگریس کو خاصا فائدہ ہوا کیونکہ نتیش کمار کی شبیہ بہار میں صاف ستھری تھی۔ نتیش کمار نے کامیابی کا پرچم بلند کیا تو پورے ملک سے انہیں نہ صرف تعریفیں موصول ہوئیں بلکہ کئی سیاسی پارٹی کے لیڈران نے انہیں آئندہ پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی کے مخالف وزیر اعظم کا امیدوار تک کہہ دیا۔ بھلے ہی یہ بات وقتی ہو لیکن کسی کو وزیر اعظم کا امیدوار بتانا بڑی بات ہوتی ہے۔ اس کے بعد نتیش کمار کو شراب بندی کے بعد بڑی مقبولیت حاصل ہوئی اور پورے ملک میں ان کے نام کا جو گن گان کیا گیا، اس سے حوصلہ پاکر انہوں نے ’’سنگھ مکت بھارت‘‘ کا اعلان کردیا۔ سنگھ مکت بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ان دنوں چھوٹی چھوٹی علاقائی پارٹیوں کو ملاکر کوئی بڑا اتحاد بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ابھی اس میں انہیں کامیابی نہیں ملی ہے اور یہ راہ اتنی آسان بھی نہیں ہے لیکن نتیش کمار سخت وسنگین راستوں پر چل کر ہی کامیاب ہوئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے اور ممکن ہے وہ کوئی اتحاد بنانے میں کامیاب ہوبھی جائیں۔نتیش کمار کے بڑھتے قدم کو روکنے اور ان کی راہ میں دشواریاں پیدا کرنے کے لیے حزب اختلاف نے جہاں آسمان سر پر اٹھارکھا ہے، وہیں اپنوں نے بھی سخت تنقید کی راہ اپنالی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن یہاں تو ان کے معاونین میڈیا کے سامنے ہی ان کی اہلیت پر سوال اٹھانے لگے، وہ وزیر اعلیٰ جس نے دس برس کی بہتر حکومت بہار کو دی ہے، اس کی اہلیت پر سوال اٹھانے والے کسی شماروقطار میں نہیں ہیں اور ان کے بیان سے نہ صرف ان کی ذہنی ناپختگی کی وضاحت ہوتی ہے بلکہ وہ جہاں سے روشنی حاصل کررہے ہیں، ان کے قول وعمل سے بھی پردہ اٹھتاہے، کیا یہ تمام لوگ جو نتیش کمار کی اہلیت پر سوال اٹھارہے ہیں، وہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ڈر گئے ہیں اور ان لوگوں کو اپنا وجود ختم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے یا پھر نتیش کمار کا لہجہ بدل گیا ہے اور وہ ہر کس وناکس کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔ ان دونوں میں کوئی ایک بات تو ضرور صحیح ہوگی اور جو بھی درست ہو، اس سے تنیش کمار کے قد میں اضافہ ہی ہوتا ہے، بعض فیصلے مروت کی چادر اوڑھ کر نہیں لیے جاسکتے، اس کے لیے کلیجہ ذرا سخت کرنا پڑتا ہے، یہ سختی کبھی کبھی اپنوں کو بھی ناگوار گزرتی ہے اور اس کا کسی نہ کسی طرح وہ اظہار بھی کرتے ہیں۔ابھی جن پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج سامنے آئے ہیں اور جن پر تجزیہ مکمل ہوچکا ہے اور تمام تجزیہ نگاروں نے اپنی بات یہیں ختم کی ہے کہ علاقائی پارٹیوں کو نظر انداز کرکے قومی سطح کی پارٹیاں اب ملک میں حکومت قائم نہیں کرسکتی ہیں۔ اب اس پیغام کو جو پارٹی جتنی جلدی سمجھ لے گی، اتنی جلدی اس کی راہ میں حائل دشواریاں کم ہونے لگیں گی۔ علاقائی پارٹیوں میں بھی کئی ایسی پارٹیاں ہیں جو بھلے ہی مرکزی سطح پر سرگرم ہوں لیکن ریاست میں ان کی پوزیشن اچھی نہیں ہے، اس لیے اتحاد کرتے وقت اس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ آنے والا وقت یقیناًاتحاد کا ہے اور اب دیکھنا ہے کہ اتحاد قائم کرنے میں کون سی پارٹی زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس کردار کے بدلے کیا حاصل کرتی ہے۔ علاقائی اور چھوٹی پارٹیوں میں بڑے مسائل ہوتے ہیں۔ ان کے پاس وسائل محدود ہوتے ہیں اور خواہشیں بے انتہا ہوتی ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ان چھوٹی علاقائی پارٹیوں کے لیڈران محدود وسائل اور بے انتہا خواہش پر کس قدر قابو پاتے ہیں اور آنے والے انتخابات کے لیے کس طرح تیار ہوتے ہیں۔ دشواریاں راہ میں حائل نہ ہو تو پھر نہ سفر کا مزہ ملتا ہے اور نہ منزل پر پہنچ کر سکون حاصل ہوتا ہے۔چھوٹی پارٹیوں کے بہت سے مسائل ہوتے ہیں، ان مسائل سے تھوڑی سی بھی راحت کہیں ملتی نظر آتی ہو تو ان کے نظریات دم توڑ دیتے ہیں۔ ویسے نظریات دم توڑنے والے الزامات تو بڑی پارٹیوں پر صادق آتے ہیں۔ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ دشمن، اس لیے جہاں سے کچھ ملا وہاں چلے گئے اور ان ہی کا گن گان شروع کردیا۔ ابھی یو پی میں راجیہ سبھا سیٹ کے لیے بینی پرساد ورما جس طرح سماج وادی سائیکل پر سوار ہوئے ہیں، اس سے کیا اشارہ ملتا ہے۔ یو پی اے حکومت میں وہ کانگریس کی جانب سے مرکزی وزیر تھے۔ اس طرح کے سیاسی اچھل کود سے نوجوان جنہوں نے ابھی سیاست میں قدم رکھا ہے، کیا سبق حاصل کریں گے اور ان کے نزدیک کیا کسی نظریے کی اہمیت ہوگی۔ جب بڑے بڑے لیڈران صبح میں کہیں اور رات میں کہیں اور نظر آتے ہیں تو پھر سیاست میں کیریکٹر رول ادا کرنے والے کہاں جائیں گے۔ سیاست میں جو گراوٹ آئی ہے، اس میں لیڈران کے قول وعمل میں تضاد کا ہونا اہم ہے۔ عوام انہیں اپنا آئیڈیل مانتی ہے اور مان کر ووٹ دیتی ہے لیکن وہ اپنا بھرم خود ہی قائم رکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ملک میں کئی بار علاقائی پارٹیوں نے مل کر تاریخ بنائی ہے اور آئندہ بھی بناسکتی ہے لیکن اس کے لیے بطور خاص پارٹی سربراہ کو اپنے اپنے جذبات وخواہشات کو سرد خانو ں میں ڈالنے ہوں گے۔ یوں بھی دنیا جانتی ہے کہ تاریخ یونہی نہیں بنتی ہے کبھی کبھی تو تاریخ بنانے والے، تاریخ بناتے بناتے خود ہی تاریخ بن جاتے ہیں لیکن اس کے بعد بھی ان کا نام ان کے کام کی وجہ سے زندہ رہ جاتا ہے،آج بھی سماج وادی لیڈران اپنی تقریر میں جے پرکاش راج نرائن اور لوہیا جی کا نام کیوں لیتے ہیں، کیاں وہ کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ یا ملک کے وزیر اعظم بنے تھے، بالکل نہیں، اس کے باوجود ان کا نام جہاں بھی اور جو بھی لیتا ہے، احترام سے لیتا ہے۔کیونکہ انہوں نے نظریات کی لڑائی لڑی اور کامیاب ہوئے،وہ لوگ کرسی کی خواہش سے کہیں دور بہت دور تھے، آج بھی ایسی قربانی کا کوئی جذبہ پیش کرتا ہے تو یقیناًآنے والے زمانے میں اس کا نام بھی اسی طرح احترام سے لیا جائے گا۔ایسے تمام لیڈران جو علاقائی پارٹیوں کے سربراہ ہیں، نتیش کمار کے بڑھتے قدم کی حوصلہ افزائی کریں تو ایک بار پھر تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کو تیار بیٹھی ہے۔ نظریہ ساز ہر کوئی نہیں ہوتا اور ہو بھی نہیں سکتا، اگر کوئی نظریہ ساز ہے تو اس کی حمایت کی جانی چاہیے تاکہ تبدیلی کی کوئی صورت سامنے آئے۔




About the author

Taasir Newspaper