اردو | हिन्दी | English
222 Views
Politics

نہ جانے کتنے طوفان پلٹ دیتا ہے ساحل تنہا

Mamata-Banerjee
Written by Taasir Newspaper
ممتا بنرجی : بڑھتے ہندوتوا کے خلاف مضبوط چٹان

ملک ایک انتہائی پر آشوب دور سے گزر رہا ہے ۔ جس کی ایک خاص وجہ مرکز میں آر ایس ایس کی نور نظر ہندو توا وادی بی جے پی کی حکو مت ہے ۔ جس کے وزیر اعظم آر ایس ایس جیسی غیر جمہوری فرقہ پرست پارٹی کے پرچارک نریندر مودی ہیں ۔ آدمی کے ماضی اور حال سے اس کے مستقبل کا اندزہ لگتا ہے ۔جس سے مرکز میں ہندو توا وادی بی جے پی کی حکومت آئی ہے اقلیتوں ، دلتوں ، مسلمانوں چھوٹے کسانوں صنعت کاروں طلباء وغیرہ کی زندگی اجیرن ہے ۔ جس سیاسی و سماجی انسانی اقدار پر مودی سرکار پر لگام کسی جا سکتی ہے ملک کے اکثر و پیشتر سیکولر سیاستدانوں میں مودی سرکار کو لگام لگا سکتے ہیں طاقت نظر نہیں آتی ۔ بالخصوص کانگریس اور ملائم سنگھ پر لوگوں کو اعتماد نہیں ۔ انسان اقدار پر ان کی منافقت ان کے ماضی اور حال کی کار گزاریوں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ بالخصوص پورے ہندوستا ن میں اگر یہ کہا جائے کہ سیکولرزم ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ۔ قومی یکجہتی سماجیات میں ۔ ملائم سنگھ یادو سے بڑھ کر کوئی اور ملک میں منافق سیاست داں کوئی اور نہیں ۔ شرد پوار ، چندرا بابو نائیڈو بھی کم وبیش ۔ اسی قطار میں حد تو یہ ہوگئی کہ کشمیر کی محبوبہ مفتی بھی کھلم کھلا بی جے پی کے ساتھ ریاستی حکومت میں شامل ہو کر وزیر اعلیٰ بن گئیں ۔یہ اجلاقیات کا جنازہ اٹھانے والی بات نہیں تو اور کیا ہے ۔ کہیں ’ کامن مینم پروگرام یعنی کم از کم باتوں پر اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے آر ایس ایس و بی جے پی جیسی پارٹیوں کا ساتھ دیا ۔ راست بالراست ہندو تو وادیوں کے ہاتھ مضبوط کرتے رہے ۔ سماجیاب و فرقہ وارانہ جیسی اہم باتوں کو زک پہنچاتے رہے ۔یہ سب کچھ دستور ۔ آئین ہند پر نیک نیتی کے ساتھ چلنے کا لینے کے با وجود کرتے رہے ۔ آزادی کے بعد سے آج تک ملک میں ہزاروں فسادات ہوئے ۔ فسادات کے بعد بٹھائے گئے سرکاری عدالتی کمیشنو ں نے آر ایس ایس اور اس کی دیگر ذیلی شاخوں کے نام اور اس کے خاطی لیڈروں اور ممبران کا نام فسادیوں میں کنوائے ۔ ان کے خلاف کاروائی کی مانگ سرکار سے کی ۔ 1992میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی میں ہونے والے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ۔ کانگریس سرکار نے ایک جج شری کرشنا کی سربراہی میں فسادات کی جانچ کے لئے بٹھایا ۔کرشنا کمیشن کی جانچ میں شیو سینا سمیت کتنے ہی پولس والے و دیگر کے نام فسادیوں میں گنوائے ۔ ان کے خلاف جانچ کی اپیل کی ۔ کانگریس سرکار نے اپنے انتخابی مینوفیسٹو میں سری کرشنا کمیشن کی سفارشات پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ۔ نے انتہا یقین دہانیوں کے باوجود کانگریس سرکار کے کان پر جوں تک نہ ریگی ۔ ۔
آج پورے ملک میں بڑھتی عدم رواداری ، عدم تشدد ، بڑھتے ہندوتووادی قدم پورے ملک میں آر ایس ایس کا بڑھتا قدم یہاں تک کہ تعلیمی نصاب کو بھگوا بھگوا کیا جا رہا ہے ۔ کالجوں یونیورسٹیوں تک میں آنے والی نسلوں کو ہندو توا سے پراگندہ کرنے کی کوشش ، جبر و تشدد ، غیرآئنیے طریقہ سے کی جا رہی ہیں ۔ ہندو توا وادی مودی سرکار کے اراکیم وزرا بھی شامل ہیں ۔ اپنی انسانیت سوز باتوں کو غیر سماجی اقدامات کو مودی سمیت سطھی ہندو توا وادی حب الوطنی سے تعبیر کررہے ہیں ۔ ہندوتوا واد ، انسانی اقدار ، گنگا جمنی تہذیب ، فرقہ واریت ، اونچ نیچ کے خلاف لڑنے والوں کو دیش دروہی ۔ غدار وطن ، پاکستان چلے جاؤ کہا جا رہا ہے ۔ یہوہ لوگ کررہے ہیں جن کا ملک کی آزادی میں کوئی حصہ نہ تھا ۔وہ انگریزوں کے مخبر تھے ۔ ملک کی جنگ آزادی سے انہیں خطرہ تھا ہندوتوا وادی بے پناہ حیوانیت ، دستور و آئین سے کھلواڑ کرنے کے بعد اپنے آپ کو سب سے بڑا دیش بھگت ، محب وطن قرار دے رہے ہیں ۔
خرد کا نام جنوں ، جنوں کا نام حزد رکھ دیا جو چاہے آپ کا حسن کرچمہ ساز کرے
ملک کی پارلیمنٹ کے ذریعہ پورے ملک کے لئے اسمبلیوں کے ذریعہ صوبوں میں نظام حکومت قائم رکھنے کے لئے سرکاریں بنائی جاتی ہیں ہم اپنے ایک ووٹ کے ذریعہ پارلیمنٹ اور سمبلی کے اراکین حکومت بنانے کے لئے منتخب کرتے ہیں ۔ عنقریب مغربی بنگال کا اسمبلی الیکشن قریب ہے ۔ انتخابی سرکرمیاں عروج پر ہیں مسلمانوں کو اپنے ووٹوں کا صحیح استعمال کرنا ہے ذرا سی بھول یہ کہنے پر مجبور نہ کردے : لمحے نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی ۔
ہندوستانی عوا م کی اکثریت فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، قومی یکجہتی پر عمل پیرا ہے ۔ کثرت میں وحدت ہمارا زرین سرمایہ ہے ۔ انسانی اقدار ، فرقہ وارانہ اتحاد ، سیکولرازم کا ہمارے ملک کے دستور میں نمایاں حصہ ہے ۔
موجودہ مرکزی ہندوتوا وادی سرکار اور ملک کے متعدد صوبوں میں ہندو توا وادی کی سرکاریں تیزی سے ہندو تو کے اتیجنڈے پر جاری و ساری ہے ووٹ ایک اہم اثاثہ ہے فرقہ واریت کے خلاف ۔ ہم جمہوریت بچا رہے ہیں اس کا استعمال بڑا سوچ سمجھ کر کرنا ہے ۔ ایک سے زائد سیکولر پارٹیاں اور وقت کے ملت کے ٹھیکیدار نام نہاد قائد سیاسی و سماجی مذہبی ٹھیکیدار سے بچنا ضروری ہے ۔ جس میں اویسی برادران ، اعظم خا ں ، شاہی امام جیسی جماعتوں ایزاء کو سمجھنا ضروری ہے ، جو براہ راست تو نہیں بالراست فرقہ واریت کا اضافہ کرتی ہیں ۔
ملک کی موجودہ پر آشوب صورتحال اس بات کا تقاضہ کررہی ہے کہ صوبہ بنگال ہی میں نہیں بلکہ پورے ملک کی ترقی و بقا اور بڑھتے ہندو تو وادیوں کے قدم روکنے کے لئے مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن میں انسانیت ، غریبوں کی فلاح و بہبود اور فرقہ واریت کے ازالہ کے لئے ممتا بنرجی اور ان کی ترنمول کانگریس ہی کوووٹ دے کر کامیاب بنایا جائے ۔ ان کی سالہاسال کی سماجی و سیاسی کارگزاریاں روز روشن کی طرض عیاں ہے کہ پھر سے دیدی کو بھاری ووٹوں سے کامیا ب بنایا جائے ، مغربی بنگال میں آزادی کے بعد ۔ کانگریس اور کمیونسٹوں کی صوبائی حکومت کی کارگزاریاں ، فی الحال تقریبا دس سالوں سے ممتا بنرجی کی کارگزاریا ں سامنے ہے ۔ دوسرے ممتا بنرجی کا سالوں سال سے سیاسی و سماجی سفر ہے یہ کانٹوں بھرا ہی تھا یہاں تک کہ وہ تنہائی مشکل ترین بیچ دار راستو ں سے گزر کر آئیں وزیر بننا حکومت کرنا انہیں ورثہ میں نہیں ملا سماجیات پر ایک لمبی لڑائی ۔ جانفشانی جان جوکھم میں ڈال کر اصولوں پر لڑنا ان کا وظیرہ رہا ہے ۔ پٹنا جھپٹنا پلٹ کر جھپٹنا  لہو گرم کرنے کا ہے یہ اک بہانہ
غریبو ں ، مزدوروں ، چھوٹے کسانوں ، صنعت کاروں ، اقلیتو ں کمزور کی طرف داری وہ اپنے سیاسی و سماجی دور کے روز اول سے نظر آیے ہے ۔ جھوٹ ریاکاری سے انہیں سخت نفت ہے ۔ جا بجا عام آدمی انسانی اقدار کی بات کرتی ہے ۔ کانگریس میں رہ کر بے پناہ انسانی حقوق کے لئے لڑتی رہیں ۔ کانگریس اپنے طویل ترین کامیاب سماجی و سیاسی کی بناء پت اکیلے ہندو تو وادیو ں کا مقابلہ کر نہیں سکی ۔ اس سلسلہ میں اس کے پاس نیک نیتہ ۔ خلوص ، ولولہ اور جو کچھ بھی دکھا رہی ہیں وہ کھوکھلا ہے ۔ سونیا گاندھی ، راہل گاندھی کا نگریس بڑھ چڑھ کر ہندو تو ا واد پر بول رہے ہیں حملہ کررہے ہیں آخر ہندو تو آر ایس ایس کو یہاں تک کس نے تقویت دی اگر صوبہ مہاراشٹر میں کانگریس نے سری کرشنا کمیشن کی سفارشات پر حسب وعدہ عمل کیا ہوتا ۔ فرقہ پرستوں کو سزا دی ہوتی تو شاید گجرات کا ۲۰۰۲ا فرقہ وارانہ فسادات اور آج تک یوں ہندو تو وادیوں کی بھیانک کارگزاریاں نہ ہوتیں ۔نہ ہی تھوک کے بھاؤ میں خود کو محبت وطن ، دیش بھکت اور انسانی اقدار کے لئے اٹھنے والوں کو اس قدر دیش دروہی ، غدار وطن کہنا پڑتا ۔ یقیناًفرقہ واریت پر گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں فرقہ پرستی پر مودی اور ہندو تو وادیوں کی آنکھ میں آنکھ ملا کر بات کہی ۔ اپنا عزم و حوصلہ دکھایا کہ پارلیمانی الیکشن امن و امان سے گزر گیا ۔ ورنہ عین الیکشن کے وقت فرقہ ورانہ فسادات ہندو تو وادیوں کی کامیابی کا باعث بن جایا کرتے ہیں ۔ گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں مظفر نگر ۔ یوپی میں بے پناہ فساد ہوا تباہ حال لوگوں کو پناہ کیمپ سے سماجوادی پارٹی کی حکومت کے سرکاری کارندوں نے باہر نکالا ۔ اس پر بل آڈر جلائے ۔ ہندو فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی دل آزاریا ں کیں تاکہ ہندو ووٹ بی جے پی کے لئے متحد ہو جائے ۔ ملائم سنگھ سیکولرازم کی بے پناہ بات کرتے رہتے ہیں یہ تقاضہ تھا کہ بہادری دکھلائے مگر وہ جا ن بوجھ کر چپی مارے رہے ۔ یوں ہندو تو وادی ووٹ بڑھتا رہا ۔ یو پی کی اسی پارلیمانی سیٹوں پر بی جے پی قابض ہو گئی ۔یوں ملائم نے بی جے پی کو مرکز میں حکومت بنانے کے لئے راستہ آسان کردیا ۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو شاید مرکز میں بی جے پی کی حکومت نہ ہوتی ۔ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال میں ہمت ولولہ کے ساتھ فرقہ وارانہ کشیدگی پر قابو پایا ۔ جو آج تک ہے ۔ جو آج تک ملائم کی یو پی میں نہیں یہاں مہاراشٹر میں گزشتہ اسمبلی الیکشن میں اویسی برداران نے متعدد جگہوں پر امیدوار کھڑے کئے صرف دو امیدوار کامیاب ہوئے تقریبا بارہ چودھ جگہوں پر شیو سینا ، بی جے پی کے امیدوار کو کامیاب کرانے میں مدد پہنچائی ۔ اس طرح صوبہ مہاراشٹر میں قائد ملت نے بھگوا حکومت کے بنانے میں حصہ لیا ۔ ہندو وتو وادی حکومت مہاراشٹر میں آئی ۔ آتے ہی بیف پر پابندی اور مسلمانوں کا تعلیمی ریزرویشن منسوخ کردیا ۔
آج الیکٹرونک میڈیا و دیگر تیز ترین وسائل سے حالات کی معلومات ایک جگہ سے دوسری جگہ انتہائی تیزی سے ہو رہی ہے پوری دنیا گویا ایک گاؤں ہے ۔ ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ مغربی بنگال میں سماجی کارگزاریوں ، اقلیتوں کی بقا و ترقی میں ان کا تعاون قابل اطمینان ہے اس کی گونج ممبئی اور مہاراشٹر میں بھی ہے ۔
یقیناًمغربی بنگال کے عوام بالخصوص مسلمان اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ مزدور کو اس کی مزدوری اس کے پسینہ کے خشک ہونے سے پہلے دینا چاہئے ۔ یہ انتہائی قابل قدر بات ہے جو انشاء اللہ محترمہ ممتا بنرجی یعنی دیدی کے حو میں ہوگا ۔

About the author

Taasir Newspaper