اردو | हिन्दी | English
579 Views
Uncategorized

نیاشراب بندی قانون اور کریڈٹ کارڈ منصوبہ نافذ

nitish
Written by Tariq Hasan

پٹنہ، 02 اکتوبر (خورشید ہاشمی؍ سنجیو کمار) گاندھی جینتی کے موقع پر 2اکتوبر سے ریاست میں شراب پر پابندی سے متعلق نیا قانون اورترقی یافتہ بہار کیلئے ریاست کے نوجوانوں کو اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کی غرض سے ریاستی حکومت کے 7 عزائم میں سے ایک عزم اقتصادی حل نوجوانوں کو بل کے تحت سیلف ہیلپ بھتہ منصوبہ، بہار کریڈٹ کارڈ منصوبہ اور اسکلڈ یوتھ منصوبہ نافذ ہوگیا ہے۔نئے شراب بندی قانون کے نفاذ کا اعلان وزیر اعلی نتیش کمار نے ریاستی کابینہ کی خصوصی میٹنگ کے بعد منعقد پریس کانفرنس میں کیا جبکہ کریڈٹ کارڈ منصوبہ کا آغاز ایک باوقار تقریب میں کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے علاوہ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو، منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ ،وسائل محنت کے وزیر وجئے پرکاش ،وزیر تعلیم اشوک چودھری ، مویشی اور ماہی پروری کے وزیر مہیشور ہزاری کے علاوہ اعلیٰ افسران بھی موجود رہے۔ ان دونوں مواقع پر وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ شراب پر پابندی کا نیاقانون، بہار شراب بندی و آبکاری قانون 2016 کو آج سے نافذ کر دیا گیا ہے اور اس بارے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں شراب بندی ہر حال میں نافذ کرنے کا عہد کیا گیا۔ اس قانون میں شراب بندی کی خلاف ورزی کرنے پر سخت ضابطے بنائے گئے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مانسون اجلاس میں ہی دونوں ایوانوں سے اس سے متعلق بل کی منظوری ملی تھی اور اس کے بعد گورنر نے بھی اس پر مہر لگا دی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ شراب بندی کے بعد لوگوں میں خاص طور پر خواتین میں جوش کا ماحول ہے ۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی ریاست میں فوری طور پر شراب بندی کا نیا قانون موثر ہو گیا ہے ۔ مسٹر کمار نے کہا کہ شراب بندی کے معاملے میں ریاستی حکومت پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے ۔ جو عوامی بیداری شراب کے معاملے میں آئی ہے اسے آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی عوامی بیداری کی علامت ہیں اور اسی لیے گاندھی جینتی کے دن بہار شراب بندی اور آبکاری ایکٹ 2016 مؤثر ہو گیا ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ریاستی حکومت پٹنہ ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی جس میں بہار حکومت کے پانچ اپریل کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپیل میں جانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے اس مدت میں حکومت کی طرف سے کئے گئے فیصلے اور بہت سے دوسرے معاملات پر اس کا اثر پڑے گا۔ مسٹر کمار نے کہا کہ شراب بندی نے بہار کی حالت اور سمت بدل دی ہے ۔ ریاستی حکومت نے اس مہم کو سب کے تعاون سے شروع کیا اور اس سے ریاست میں امن اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہوا ہے ، جو محسوس کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چمپارن ستیہ گرہ کے سو سال اور مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش پر نیا قانون نافذ کر کے بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے ۔ گاندھی جی شراب بندی کو معاشرے کے لئے انتہائی ضروری مانتے تھے اور انہی سے تحریک ملی ہے ۔وزیر اعلی نے بتایا کہ بہار میں مہم جاری رہے گی اور وہ ملک میں شراب بندی کو نافذ کرنے کی مہم چلاتے رہیں گے ۔ شراب بندی ملک کے مفاد، سماج کے مفاد اور اپنے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت تمام لوگوں سے اس ایکٹ کی دفعات پر عمل کرنے کی توقع کرتی ہے ۔ مسٹر کمار نے کہا کہ حزب اختلاف مسلسل الزام لگاتے ہوئے شراب بندی قانون کو غیر قانونی بتانے میں لگا ہوا ہے ۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اپوزیشن کو اس پر اپنا مشورہ بھی دینا چاہئے ۔اپوزیشن پارٹیاں جب کہتی ہیں کہ وہ شراب بندی کے حق میں ہیں تو انہیں اپنا مشورہ دینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو صرف الزام نہیں لگانا چاہئے بلکہ انہیں اپنی ذمہ داری بھی ادا کرنی چاہیے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ موجودہ قانون کی شکل اگر ٹھیک نہیں ہے تو اپوزیشن کو یہ بتانا چاہئے کہ ان کے پاس اس کا متبادل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے بننے سے پہلے سب سے بات چیت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اہم اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں سے بھی تجاویز حاصل کی گئی تھیں ۔ نئی شراب بندی پالیسی میں ایکٹ کی دفعہ 13 میں منشیات یا شراب بنانے ، باٹلنگ، تقسیم، نقل وحمل ، ذخیرہ کرنا، خرید و فروخت یا اس کے استعمال پر پابندی ہے ۔ اس کی خلاف ورزی قابل سزا جرم ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ایکٹ کی دفعہ 30 میں منشیات یا شراب کی غیر قانونی طور پر درآمدیا برآمد، نقل و حمل، اسکی تیاری ، اسے رکھنا اور فروخت کرنا قابل جرم سزاہے ۔ اسی طرح قانون میں کسی شخص کی طرف سے دوسرے کے لئے درآمدیا برآمد، اسکی تیاری، نقل و حمل، فروخت یا اسے رکھنا بھی سزا کے ز مرے میں شامل ہے ۔ نئے قانون میں غیر قانونی شراب کی تجارت میں نابالغ افراد اور خواتین کو ملازمت پر رکھنا قابل سزا جرم مانا گیا ہے ۔ وہیں باہمی تنازعہ کی وجہ سے کسی شخص کو سزا دلانے کے مقصد سے لگایا گیا غلط الزام تفتیش کا موضوع ہوگا اور ایسا کرنے والوں کو سزا دینے کا بھی انتظام نئے قانون میں کیا گیا ہے ۔ شراب بندی کے نئے قانون میں اس طرح کے معاملات میں سزا بڑھا کر تین سال کردی گئی ہے اور شراب سے متعلق جرائم کو غیر ضمانتی کیا گیا ہے ۔ کسی کے گھر سے شراب ملنے پر 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کے لئے سزا کا التزام ہے ۔ ساتھ ہی خصوصی عدالت کے قیام کی بھی تجویز ہے ۔کریڈٹ کارڈ منصوبے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت انصاف کے ساتھ ترقی کے اپنے عہد پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جملہ بازی نہیں کرتے جو وعدہ کرتے ہیں۔ اس پر عمل کرتے ہیں اور اسی کے تحت ریاست کے نوجوانوں کو اقتصادی طور پر مضبوط بنانے کی غرض سے 7 عزائم میں سے ایک اقتصادی حل نوجوانوں کو بل کے تحت وزیراعلیٰ سیلف ہیلپ بھتہ ، بہار اسٹوڈنٹس کریڈٹ کارڈ منصوبہ اور اسکلڈ یوتھ منصوبے کا آغاز کیا جارہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہار میں ترقی ہورہی ہے تو باہری لوگوں کی ہوا نکل رہی ہے۔ یہی نہیں بہار میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو بہار کو بدنام کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ بہار کی شکایت کے بغیر ان کا کھانا نہیں پچتا ہے۔ اس موقع پر اسٹوڈنٹ کریڈ کارڈ کے علاوہ اسٹوڈنٹس کی سہولت کیلئے ٹال فری نمبر 18003456444 بھی جاری کیا گیا۔

About the author

Tariq Hasan