اردو | हिन्दी | English
521 Views
Uncategorized

وادی میں امن وامان درہم برہم

18-July-13-police-use-force-to-quarrel-protest-in-Srinagar.640x368
Written by Taasir Newspaper

پرتشدد مظاہروں کے خلاف کارروائی میں 18 نوجوان ہلاک،200 سے زائد زخمی،عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف جے کے ایل ایف نے کیا 11 جولائی تک ہڑتال کی توسیع کا اعلان

 

سری نگر ، 10جولائی (یو ا ین آئی) حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ ترین کمانڈر برہان وانی کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے کے بعد وادی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے ۔پرتشدد جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں مرنے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 18 ہوگئی ہے ۔ یہ سبھی ہلاکتیں جنوبی کشمیر میں ہوئی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جھڑپوں میں 18 ہلاکتوں کے علاوہ تاحال 200 سے زائد عام شہری و سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قریب 50 شہریوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں جبکہ قریب ایک درجن افراد کو پیلٹ گن کے زخم لگے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اتوار کو ایک پولیس اہلکار اُس وقت ڈوب کر ہلاک ہوگیا جب ایک مشتعل ہجوم نے جموں وکشمیر پولیس کے ایک موبائیل بنکر کو دریائے جہلم میں دھکیل دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق کشمیرکے اسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں۔ اس دوران ریاستی انتظامیہ نے وادی بھر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ڈویژنل کمشنر کشمیر ڈاکٹر اصغر سامون نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وادی میں امن وامان کی صورتحال کو بنانے رکھنے کے لئے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن وامان کی بحالی میں تعاون کریں ۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے اتوار کی صبح ضلع پلوامہ کے مران چوک میں مشتعل مظاہرین پر مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عرفان احمد ملک نامی ایک نوجوان شدید زخمی ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ عرفان کو فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔ وادی میں کل درجنوں مقامات پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں 11 نوجوان ہلاک جبکہ قریب 100 دیگر بشمول سیکورٹی فورسز اہلکار زخمی ہوگئے تھے

About the author

Taasir Newspaper