اردو | हिन्दी | English
210 Views
Sports

وراٹ سے مشورہ لینے لگا ہوں : دھونی

dhoni
Written by Tariq Hasan

دھرم شالہ، 15 اکتوبر (یو این آئی) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے محدود اوور کے کپتان اور وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ انہوں نے اب میدان پر ٹیسٹ کپتان وراٹ کوہلی سے مشورہ لینا شروع کر دیا ہے ۔دھونی نے اتوار سے نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والے پانچ میچوں کی ون ڈے سیریز کی شام کہاکہ میں نے پہلے ہی وراٹ کا زیادہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔آپ دیکھیں گے کہ میں میچ کے دوران میدان پر ان سے زیادہ بات چیت کرتا ہوں کیونکہ یقینی طور پر دو شخص مختلف طرح ہی سوچیں گے ۔وراٹ نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 3۔0 سے کلین سویپ کیا ہے ۔ٹیم میں اس کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی ہے لیکن ہندستانی کرکٹ کے مستقبل کی نسل کے مینٹر کی اضافی ذمہ داری بڑھ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2004 میں ڈیبو کرنے کے بعد کرکٹر کے طور پر وہ کافی بہتر ہو گئے ہیں۔ہندستانی کپتان نے کہاکہ جب آپ ٹیم کے سینئر ممبر ہوتے ہو تو ذمہ داری نہیں بدلتی، اگرچہ آپ کپتان ہو یا پھر نائب کپتان۔آپ کے اوپر اضافی ذمہ داری ہوتی ہے ۔آپ کو نوجوانوں سے بات کرنی ہوتی ہے ، ان کی رہنمائی کرنا ہوتی ہے ۔2004 میں جب میں نے کرکٹ میں ڈیبو کیا تھا اس کے بعد سے بہت کچھ تبدیل کر دیا گیا ہے ۔کرکٹ کھیلنے کا طریقہ بدل گیا ہے ۔ اس لئے میری ذمہ داری ایک جیسی رہتی ہے ۔عالمی فاتح کپتان نے ون ڈے سیریز سے روی چندرن اشون، رویندر جڈیجہ اور محمد سمیع جیسے کھلاڑیوں کو آرام دینے کے سلیکٹرز کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بڑے کھلاڑیوں کو آرام دے کر کافی اچھا کام کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ٹیم کو اس سیزن میں 13 ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں اور اس کے لئے اہم کھلاڑیوں کو آرام دینا اور بنچ اسٹرینتھ کو آزمانا بھی ضروری ہے ۔اس بار سیریز کے درمیان زیادہ وقفہ بھی نہیں ہے ، اس لیے سلیکٹرز نے صحیح فیصلہ کیا ہے ۔35 سالہ دھونی نے کہاکہ کسی بھی کھلاڑی کی جگہ بھرنا آسان نہیں ہوتا ہے اور اس میں وقت لگتا ہے ۔فنشر کی ذمہ داری سب سے مشکل ہوتی ہے اور اس کے لئے مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہنا ہوتا ہے ۔کوئی کھلاڑی چھ ماہ یا سال بھر میں فنشر نہیں ہو جاتا ہے ۔آپ طویل عرصے تک یہ ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے ۔وکٹ کیپر دھونی نے کہاکہ میری ذاتی رائے ہے کہ جو پانچویں یا چھٹے نمبر پر بلے بازی کرتے ہیں، وہ ہی فنشر ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ کئی بار ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں کی طرف سے زیادہ تر رن بنانے کی وجہ سے آپ کو بلے بازی کا موقع ہی نہیں ملتا۔

About the author

Tariq Hasan