اردو | हिन्दी | English
132 Views
Deen Politics

وزیراعظم کے دورۂ سعودی عرب میں پوشیدہ رازکیاہیں

4
Written by Taasir Newspaper

ڈاکٹراسلم جاوید
وزیر اعظم نریندر مودی تین ممالک کے دورے کے آخری مرحلے میں جمعہ کو واشنگٹن سے سعودی عرب پہنچ گئے۔ یہاں وہ دو روز کے قیام کے بعد آج وطن لوٹ رہے ہیں۔ ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن السعود نے کنگ خالد انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر وزیر اعظم نریندر مودی کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ نے ٹویٹ کرکے یہ اطلاع دی ہے۔وزیراعظم کے اس دو روزہ دورے سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات کو حکومت ہندکتنی اہمیت دے رہی ہے۔ اب تک عالمی برادری کی نگاہ میں ہندوستان اور سعودی عرب کا رشتہ تیل اور مزدوروں کی کمائی سے زیادہ نہیں تھا، لیکن اربوں کے تیل کی تجارت، سرمایہ کاری کی چکاچوندھ کے پیچھے ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلق آگے بڑھ رہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کوخیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اہم تعمیراتی منصوبے میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں (مزدوروں) کے گروپ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔ مودی نے ایل اینڈٹی ورکرز کے رہائشی احاطے میں کارکنوں سے خطاب کے بعد ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سعودی عرب کی ترقی میں ان کی حصہ داری کی تعریف کی۔
مودی نے کارکنوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے ایک تصویر ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں ایل اینڈٹی ورکرز کے رہائشی احاطے میں ایک ساتھ کھاتے ہوئے اور ایک دوسرے کے خیالات اور تجربات سنتے ہوئے کافی کچھ سمجھنے اور صورت حال کو جاننے کا موقع ملاہے، کارکنوں نے وزیر اعظم کی اس خیر سگالی کے لئے ان کی تعریف کی ہے۔کیرالہ کے ایک مزدور نے کہاکہ یہ بے مثال ہے،کبھی ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتاتھا کہ عام مزدوروں کے ساتھ بیٹھ کر ہندوستان کا کوئی وزیرکھانا بھی کھا سکتا ہے۔ ہم اسے کبھی فراموش نہیں کریں گے۔غور طلب ہے کہ ہندوستانی لیبرز یہاں ایل اینڈٹی کے دو ارب ڈالر کے رہائشی منصوبے کے تحت زیر تعمیر کام میں لگے ہوئے ہیں۔اس سے پہلے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ عزیز بھائیو! آپ کی محنتیں اور پسینے مجھے یہاں لے کر آئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آپ کے پسینے اور محنت پر ہندوستان کوفخر ہے۔وزیراعظم کے دورے سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیا سعودی عرب سے تعلقات کو کتنی اہمیت دے رہا ہے۔عام افراد انڈیا اور سعودی عرب کے تعلقات کو تیل اور مزدوروں کی کمائی سے زیادہ اہمیت نہیں دیا کرتے تھے۔مگر شایداب یہ نظریہ ماضی کی بات بن کررہ جائے ۔ اکثریت کے خیال میں سعودی عرب پاکستان کے لیے نجات دہندہ اور ایک بنیاد پرست ملک ہے،لیکن اربوں کھربوں کے تیل کے کاروبار اور سرمایہ کاری کی وجہ سے انڈیا اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات بڑھ رہے ہیں۔سنہ 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد دونوں ممالک نے یو پی اے ۔2 کے دوران سیکورٹی تعاون شروع کرنے پر غور کیا تھا، جس کے تحت انڈیا کو خلیجی ممالک سے خفیہ اطلاعات مل سکتی تھیں۔قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم مودی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات کے گذشتہ دورے کے دوران اْن کے مشترکہ بیان کے اہم نکات بھی یہی تھے۔اس درمیان وزیر اعظم کے دورۂ سعودی عرب سے قبل ہی یہ بات میڈیا میں گردش کررہی تھی کہ حکومت ہند مقامی بنیاد پرستوں کو خلیجی ممالک سے ملنے والی مالی معاونت یا دیگر تعاون روکنا چاہتا ہے۔انڈیا جنوبی ایشیا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ارادوں کو ناکام کرنا چاہتا ہے ۔ خلیجی ممالک سے انتہا پسندوں کوملنے والی مالی مدد کا مسئلہ طویل عرصے سے چل رہا ہے، لیکن حساسیت کی وجہ سے اس کو کم توجہ دی جاتی رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے تحت بنائے جانے والے انڈین سیکورٹی نظام میں دہشت گردوں کی فنڈنگ کوروکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 25 ارب ڈالرسے بڑھ کر48 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ہندوستان 20فیصد خام تیل سعودی عرب سے ہی لیتا ہے۔
سنہ 2012میں ایران پر عائد پابندیوں سے سعودی عرب کوبڑا فائدہ ہوا تھا۔سعودی عرب میں 30 لاکھ ہندوستانی شہری ملازمت کرتے ہیں۔ان وجوہات کی بنا پر انڈیا سعودی عرب سے خفیہ اطلاعات تک رسائی حاصل کرنے اور سیکورٹی تعاون بڑھانے پر مجبور ہوا ہے۔ خاص کر سائبر سیکورٹی کے میدان میں دونوں ملکوں کے درمیان قربت ہوئی ہے۔انڈیا کے اندر پاس بنیاد پرستی پھیلانے والی آن لائن پروموشنل مواد کا پتہ لگانے کی ٹیکنالوجی اور مہارت موجود ہے ،لیکن اگر یہ انڈیا سے باہر موجود ہیں تو اعلی سطحی سیکورٹی اور خفیہ معلومات کا اشتراک کیے بغیر اس کی جانچ ممکن نہیں ہوتی۔سعودی حکومت کو انتہا پسندی سے مقابلے اور بنیاد پرستی سے نمٹنے کا کچھ تجربہ ہے اور اس کے پاس تعاون کرنے کی وجوہات بھی ہیں۔ دراصل سعودی عرب کو یہ لگتا ہے کہ ساحلی علاقے میں سلامتی اور استحکام قائم کرنے میں ہندوستان کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ابتدا میں ہندوستان مقامی بنیاد پرست تنظیموں کو خلیجی ممالک سے مالی یا دیگر تعاون روکنا چاہتا ہے۔بعد ازاں ہندوستان جنوبی ایشیا میں پاؤں پھیلانے کی کوشش میں سرگرم شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے ارادے ناکام بنانا چاہتا ہے۔جون 2012 میں سعودی عرب نے ممبئی حملوں کے معاملے میں ذبیح الدین انصاری (ابو جندل) کو حکومت ہند کے حوالے کیا تھا۔ اس سے پہلے تک ہندوستان کے ساتھ سعودی عرب کے اسٹریٹجک معاملات میں ہر موڑ پرپاکستان اہم ہواکرتا تھا، لیکن انصاری کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہونے کے باوجود ہندوستان اسے اپنے حوالے کروانے میں کامیاب رہا تھا۔ اسی وقت سے ہند- سعودی عرب باہمی سیکورٹی تعاون میں تبدیلی کے اشارے ملنے لگے تھے۔ اس کے بعد انتہا پسندوں کو مالی امداد دینے اور بنیاد پرستوں کی سرگرمیوں میں شامل ہونے والے بہت سے ملزمان کو سعودی عرب ہندوستان کے حوالے کر چکا ہے، جن میں اے رئیس اور فصیح محمود وغیرہ شامل ہیں،حالاں کہ فصیح محمود وغیرہ پر اب تک الزام ثابت نہیں کیا جاسکا ہے اور اس وقت بھی مذکورہ ملزمان کا معاملہ زیر تحقیق ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں کہا کہ منفی عالمی حالات کے باوجودہندوستان نے اپنی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھ کر دنیا میں’نئی امیدیں‘ جگائی ہیں اور اسی لیے بہت سے لوگ ہندوستان کو روشن منارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے پاس دنیا کو دینے کے لئے کافی کچھ ہے۔ خاص طور پر باصلاحیت اور ہنر مند لیبر قوت کے طور پر افرادی تعداد اور ان کی حکومت ’سب کا ساتھ، سب کاوکاس‘ کے ایجنڈے کو لے کر اس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ سعودی عرب کے دو روزہ دورے پروزیراعظم مودی نے ہندوستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دنیا کی نظروں میں ہندوستان دیگر ممالک میں سے ایک ملک کی حدتک ہی تصور کیا جاتا تھا، لیکن دنیا کے لئے اب یہ’’ایک اہم ملک‘‘ بن گیا ہے۔مودی نے کہا کہ عالمی سطح پر منفی حالات کے باوجود ہندوستان نے اپنی معیشت کومضبوط بنائے رکھا ہے۔ آج ہندوستان اقتصادی طور پر ترقی کر رہا ہے اور دنیا ہماری طرف پرامید نظروں سے دیکھ رہی ہے۔سوا سو کروڑ سے زیادہ لوگوں کا ملک بہت کچھ کر سکتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے اپنے جمہوری اقدار اور حکومت کے’’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے ایجنڈے نے نئی امیدیں جگائیں اور’نیا جوش‘ پیدا کیا ہے۔حالاں کہ جمعہ کے روز ہی تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جیہ للیتا نے اپنے ماہی گیروں کی گرفتاری اور سعوی عرب کی جیلوں میں قید ہندوستانی مزدوروں کی رہائی کیلئے وزیراعظم سے پر احتجاج مطالبہ بھی کیا تھا۔مگر نہ جانے کس مصلحت کے تحت مملکت سعودیہ کے ساتھ بات چیت میں وزیراعظم نے اس مسئلہ کو اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔اس کئی قسم کی تشویش جنم لے رہی ہے۔اب یہ دورہ دنیا کے سامنے خود صلح کل نمائندہ بناکرپیش کرنے کی کوشش ہے یا صحیح معنی میں ہندوستان کی جانب عالمی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی فکر اس کا بہتر جواب پی ایم مودی ہی دے سکتے ہیں۔مگر اپنے شہریوں کی گلوخلاصی کی بات زبان پر نہ لاناوزیراعظم مودی کے دورہ کو ذومعنی بناتاہے۔

About the author

Taasir Newspaper