اردو | हिन्दी | English
235 Views
Sports

ون ڈے میں نمبر ون بن سکتا ہے انگلینڈ : اسٹوکس

stoks
Written by Tariq Hasan

ڈھاکہ، 13 اکتوبر (یو این آئی) بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں فتح حاصل کرنے والی انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر بین اسٹوکس کا خیال ہے کہ ٹیم گزشتہ کچھ وقت سے بہترین فارم میں ہے اور ون ڈے رینکنگ میں نمبر ون بننے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اسٹوکس نے میچ کے بعد کہاکہ یہ واقعی دلچسپ ہے کہ ہم نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز جیت کر اس سال مسلسل تیسری سیریز جیتی ہے ۔ہمارا مقصد نمبر ون ٹیم بننا ہے ۔انگلینڈ اس وقت ون ڈے رینکنگ میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور ہندستان کے بعد پانچویں نمبر پر ہے ۔ انگلینڈ نے اس سے پہلے سری لنکا اور پاکستان کو شکست دی تھی اور اب بنگلہ دیش کو اسی کی سرزمین پر ون ڈے سیریز میں شکست دی۔بنگلہ دیش کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ا سٹوکس کا خیال ہے کہ ٹیم غضب کی فارم میں ہے اور تیزی سے نمبر ون کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ٹیم میں مکمل صلاحیت ہے کہ ٹاپ رینکنگ حاصل کرے ۔25 سالہ اسٹوکس نے کہاکہ گزشتہ 18 ماہ میں ٹیم نے جس قسم کا کھیل کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ واقعی حیرت انگیز ہے ۔بنگلہ دیش کے خلاف میرا اور جوس بٹلر کا مظاہرہ تسلی بخش رہا۔ہم نے کھیل کے تینوں شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ٹیم کی حکمت عملی پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہے اور یقینی طور پر ہم نمبر ون بن سکتے ہیں۔انگلینڈ نے اتوار کو چٹگام میں کھیلے گئے آخری ایک روزہ میچ میں بنگہ دیش کو شکست دے کر سیریز بھی اپنے نام کر لی اور اسٹوکس نے ناقابل شکست 47 رنز کی اننگ کھیل کر اس فتح میں اہم کردار ادا کیا۔یہ انگلینڈ کی لگاتار تیسری ایک روزہ میچوں کی سیریز میں فتح ہے جہاں اس سے قبل انہوں نے سری لنکا اور پاکستان کو شکست سے دوچار کیا تھا۔اس وقت ایک روزہ میچوں کی عالمی درجہ بندی میں انگلینڈ پانچویں نمبر پر موجود ہے جہاں اس سے اوپر آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور ہندوستان کی ٹیمیں موجود ہیں ۔ اسٹوکس نے اسکائی اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت دلچسپ تھا، اگر ہم نے اسی کارکردگی دکھانے کا سلسلہ جاری رکھا تو ہم نمبر ایک بننے کا ہدف حاصل کر لیں گے ۔انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ 2015 میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کے بعد پہلے ہی راؤنڈ میں ایونٹ سے باہر ہو گئی تھی تاہم اس کے بعد انگلش بورڈ اور ٹیم میں چند اہم تبدیلیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں ورلڈ کپ 2015 کے بعد انگلینڈ سب سے زیادہ تسلسل سے کارکردگی دکھانے والی ٹیم ہے ۔مین آف دی سیریز کا ایوارڈ حاصل کرنے والے آل راؤنڈر نے کہا کہ یہ ٹیم 18 ماہ سے ایک ساتھ رہتے ہوئے ناقابل یقین کرکٹ کھیل رہی ہے ۔یاد رہے کہ موجودہ انگلش ٹیم اپنے اصل کپتان ایان مورگن سے محروم ہے جو سیکیورٹی خدشات کے سبب دورے سے دستبردار ہو گئے تھے اور ان کی غیر موجودگی میں جوز بٹلر ناتجربہ کار ٹیم کی ایسے حریف کے خلاف قیادت کر رہے تھے جس نے گزشتہ چھ ہوم سیریز میں کامیابی حاصل کی۔ٹیم کے نائب کپتان اسٹوکس نے کہا کہ میں اور بٹلر بہت اچھے سے کام کر رہے ہیں، کرکٹ کس طرح کھیلنی ہے اس حوالے سے ہم جارحانہ سوچ رکھتے ہیں اور اس بات پر عمل درآمد صرف بیٹنگ اور بالنگ ہی نہیں بلکہ فیلڈنگ میں بھی کرتے ہیں۔

About the author

Tariq Hasan