اردو | हिन्दी | English
182 Views
Politics

ٹرینڈ ٹیچرو ں کوکم اور اَن ٹرینڈ ٹیچرو ں کو زیادہ ادائیگی کیوں؟ : پریم کمار

dr. prem kumar cmyk
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ 11 جو لائی (طارق حسن)بہارقانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر ڈاکٹر پریم کمار نے کہاکہ بہارمیں ٹرینڈ ٹیچرو ں اور ان ٹرینڈ ٹیچرو ں کے بیچ حکومت بھید بھاؤ کررہی ہے ۔ ریاست کے پرائمری ، مڈل نگر پنچایت ٹیچرو ں کوزیادہ تنخواہ دی جارہی ہے۔وہیں کستو ربا اسکولوں کے ٹیچرو ں کو تنخواہ کم دی جارہی ہے ۔ اس طرح کے پے اسکیل میں بھید بھاؤ ں کوختم کر کستوربا اسکولوں کے ٹیچرو ں کو بھی سرکاری ٹیچر وں کی طر ح سہولیات سرکار دے۔ڈاکٹر کمارنے کہاکہ ریاست میں پرائمری ، مڈل ، نگر پنچایت، ٹیچرو ں کو نیوجن سرٹیفیکٹ کی بنیا دپر پنچایت سکریٹری ، نگر پنچایت اور بلاک کے ذریعہ کیا جاتاہے وہیں کستو باراسکولو ں کے ٹیچرو ں کاانتخاب اور نیو جن سرٹیفیکٹ اور ضلع سطحی تحریری امتحان کے بنیادپر میریٹ لسٹ پر کیاجاتاہے ۔پرائمری ، مڈل ، نگر پنچایت کے ٹیچرو ں کوصرف 6 گھنٹے کام کرنے پڑتے ہیں۔ وہیں کستوربا اسکول کے ٹیچروں کو 24 گھنٹے طلباء کے ساتھ گزار نا پڑتاہے ۔ڈاکٹر کمار نے کہاکہ پرائمری ، مڈل پنچایت اسکولوں میں ایک سال میں 60 دن کی چھٹیا ں ہو تی ہے ۔ جب کہ کستور بااسکول میں صرف 30 دنو ں کی چھٹی ہو تی ہے ۔ پرائمری ، مڈل،پنچایت اسکولوں میں ٹیچرو ں کو دو ماہ کی خصوصی چھٹی ملتی ہے۔ جبکہ کستو ر با میں ٹیچرو ں کیلئے اسکا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ڈاکٹر کمار نے کہاکہ اسی طر ح پنچایتو ں کے اسکولوں میں پے اسکیل 9300 سے 34800 رو پئے ہے۔وہیں کستوربا میں ماندئے صر ف 7,000 دیا جاتاہے ۔پنچایت اسکولو ں میں مہنگائی بھتا ، میڈیکل بھتا ، ہاؤس رینٹ سمیت دیگر بھتے شامل ہیں جبکہ کستو ربا میں ان ساری سہولیات میں سے کوئی نہیں ہے ۔ کستو بار میں سروس بک ، پی ایف ، پینشن کے ساتھ ساتھ ہر دو سالو ں میں 01 انکریزمنٹ ہو تی ہے۔وہیں کستور با میں یہ ساری سہولیات نہیں ہیں کیونکہ ان کی سروس بک نہیں بنتی ہے ۔ڈاکٹر کمارنے کہاکہ پرائمری میڈل پنچایت اسکولو ں کے ان ٹرینڈ ٹیچرو ں کو ٹریننگ دی جاتی ہے ۔جبکہ کستو ر با میں سبھی ٹرینڈ ٹیچرو ں کی بحالی ہوتی ہے لیکن وہ آج بھی سر کاری سہولیات سے محروم رہ کر رو ز انہ مزدوروں کی طر ح کام کرتے ہیں سرکار کستو ر با اسکو لو ں کے ٹیچرو ں کو ساری سہولیات مہیا کراتے ہوئے انہیں بھی سرکاری ٹیچرو ں کی کٹگری میں فوراً لائے۔

About the author

Taasir Newspaper