اردو | हिन्दी | English
539 Views
Sports

ٹویٹر پر سمیع کی بیوی کے بارے میں نازیبا تبصرہ

shami
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی، 26 دسمبر (یو این آئی) سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ شخصیات کے لیے شائقین سے جڑنے کا آسان ذریعہ بن گیا ہے لیکن اکثر اس پر لوگوں کے قابل اعتراض تبصرے ان کے لیے درد سر بھی بن جاتے ہیں۔ایسا ہی کچھ ہندستانی فاسٹ بولر محمد سمیع کے ساتھ ہوا ہے ۔سمیع نے اپنی بیوی حسین جہان اور بیٹی کے ساتھ اتوار کو کچھ تصاویر پوسٹ کیں کچھ شائقین نے اپنے بیانات سے انہیں پریشان کر دیا۔سمیع کی بیوی کے لباس کو لے کر ٹوئٹر پر کچھ لوگوں نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے انہیں اسلام مذہب کی یاد دلا دی اور حجاب تک پہننے کا مشورہ دے ڈالا۔کرکٹر کے فالوورز میں ایک پرستار نے انہیں مذہب کی یاد دلاتے ہوئے کہا “سمیع بھائی آپ ایک سنی مسلمان ہیں اور آپ اپنی بیوی کو پردے میں رکھیں تو مہربانی ہو گی۔وہیں ایک اور پرستار نے کہا ”سمیع تم مسلمان ہو اور اچھی طرح جانتے ہو کہ عورتوں کو کس طرح رکھا جانا چاہیے ”۔26 سالہ بلے باز فی الحال گھٹنے کی چوٹ میں مبتلا ہیں۔ٹویٹر پر شائقین کے ان کی بیوی پر نازیبا بیان بازی کئے جانے سے ناراض کرکٹر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا “ہر کوئی زندگی میں اتنا خوش نصیب نہیں ہوتا ہے ۔میری بیوی اور میری بیٹی میری زندگی ہیں اور مجھے پتہ ہے کہ کیا کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ “سمیع نے ناراضگی بھرے الفاظ میں کہا کہ لوگوں کو دوسروں کے بجائے اپنے تجزئے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے ہیں۔اس درمیان سابق ہندستانی کرکٹر محمد کیف نے سمیع کا دفاع کرتے ہوئے اس طرح کے تبصرے کو شرمناک قرار دیا۔کیف نے لکھا “اس طرح کے بیان بہت ہی شرمناک ہیں۔میں سمیع تمہاری حمایت کرتا ہوں۔ اس ملک میں کئی اور مسئلے اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ “ہندستانی ٹیم کے فاسٹ بولر گزشتہ کچھ وقت سے چوٹوں سے دو چار ہیں۔وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے آخری دو ٹسٹ میچوں میں ٹیم کا حصہ نہیں بن پائے تھے ۔ہندستان نے سیریز 4۔0 سے جیت لی۔بیوی پر تبصرے سے سمیع ہی نہیں بلکہ آف اسپنر روی چندرن اشون بھی ناراض نظر آئے ۔ اشون نے بھی ٹوئٹر پر ان کی بیوی کو شائقین کی طرف سے ہراساں کیے جانے کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے لکھا کہ میں اپنے مداحوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ براہ مہربانی میری بیوی پریتی کو ہر بار اپنے ٹویٹس میں ٹیگ نہ کریں۔ان کے پاس اور بھی کئی اہم کام کرنے کے لئے ہیں۔اشون بھی ٹوئٹر پر کافی سرگرم رہتے ہیں ۔

About the author

Tariq Hasan