اردو | हिन्दी | English
80 Views
Politics

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ختم، کئی اہم بل منظور

parliament
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی 12 اگست (یواین آئی) گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) سے متعلق تاریخی آئینی ترمیم (122) بل اور کچھ دیگر اہم بلوں کو منظور کرنے اور کشمیر کے لوگوں سے امن کی بحالی کی اپیل کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج غیر معینہ مدت کے ملتوی کر دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی 16ویں لوک سبھا کا نواں اور راجیہ سبھا کا 240واں سیشن ختم ہوگیا۔لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے وقفہ صفر شروع ہونے سے قبل اور راجیہ سبھا کے چیرمین حامد انصاری نے وقفہ سوالات شروع ہونے سے پہلے ہی سیشن کے ختم ہونے کا اعلان کردیا۔گذشتہ 18 جولائی کو شروع ہوئے اس اجلاس کے دوران راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی 20 میٹنگیں ہوئیں۔ لوک سبھا میں مجموعی طورپر 121 گھنٹے کام کاج ہوا، رکاوٹ کی وجہ سے 6 گھنٹے 33 منٹ کا وقت ضائع ہوا لیکن اراکین نے 18 گھنٹے 5 منٹ فاضل وقت بیٹھ کر کام کاج نمٹایا گیا۔ راجیہ سبھا میں 112 گھنٹے سے زیادہ کام کاج ہوا جبکہ ہنگامے کی وجہ سے 20 گھنٹے سے زیادہ کا وقت ضائع ہوا لیکن اراکین نے 20 گھنٹے فاضل وقت بیٹھ کر کام کاج نمٹایا۔لوک سبھا نے اس سیشن میں 13 بل منظورکئے اور 14 سرکاری بل ایوان میں پیش کئے گئے ۔راجیہ سبھا نے 14 بلوں کو منظوری دی۔ ان میں تاریخی 122 ویں آئین ترمیم بل، جنگل کاری معاوضہ بل، زچگی سہولت ترمیم بل، سیکورٹیز اور ر وصولی بل، گمنام جائیداد سے متعلق بل، فیکٹری ترمیم بل شامل ہیں۔دونوں ایوانوں نے کشمیر میں تشدد اور اس کی وجہ سے پیدا ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور وہاں کے لوگوں سے امن اور ہم آہنگی کو بحال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے قرارداد بھی منظور کی۔لوک سبھا نے رواں مالی سال کی تکمیل گرانٹ مطالبات اور اس سے متعلق تصرف بل کو بھی منظوری دی لیکن راجیہ سبھا میں کچھ دن درج فہرست رہنے کے باوجود دیگر کام کاج نپٹائے جانے کی وجہ سے اس پر بحث نہیں ہو سکی۔ تصرف بل کے مالی بل ہونے کے ناطے راجیہ سبھا سے اس کی منظوری لازمی نہیں ہے اور وہ اس کے بغیر بھی منظور سمجھا جائے گا لیکن حالیہ برسوں میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب تصرف بل راجیہ سبھا میں منظوری کے لئے نہیں آسکا۔راجیہ سبھا کے چیئرمین محمد حامد انصاری اس سیشن کو کام کاج نمٹانے کے لحاظ سے انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسدوران قومی اہمیت سے وابستہ کئی مسائل پر بحث ہوئی اور کئی اہم بلوں پر تخلیقی بحث ہوئی۔لوک سبھا میں سیشن اختتام کا اعلان کرتے ہوئے صدر سمترا مہاجن نے کہا کہ اس اجلاس میں جی ایس ٹی بل پر تقریبا چھ گھنٹے بحث ہوئی اور اس میں راجیہ سبھا سے منظور ترامیم کو منظور کر دیا گیا۔ اس مدت میں جی ایس ٹی کے ساتھ ہی میڈیکل کونسل آف انڈیا اور ڈینٹل کونسل آف انڈیا ترمیم بل، بچہ مزدوری پرروک سے متعلق ترمیمی بل، بے نامی جائیداد ترمیمی بل، ملازم معاوضہ ترمیم بل اور فیکٹری ترمیم بل سمیت مجموعی طورپر 13 بل منظور ہوئے ۔انہوں نے بتایا کہ اس مدت میں 400 سوال پیش کئے گئے جن میں سے 99 سوالات کے جوابات متعلقہ محکمہ کے وزراء کی طرف سے دیے گئے اور اس طرح ہر روز اوسطا پانچ سوالات کے جواب دیے گئے ۔ اس دوران 4600 سوالات کے تحریری جواب بھی دیے گئے ۔ سیشن کے دوران مختلف محکموں سے وابستہ مستقل کمیٹیوں کی 32 رپورٹیں بھی ایوان میں پیش کی گئیں۔ وزراء کی طرف سے 42 بیان دیے گئے ۔وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا پر انڈین نیشنل لوک دل کے دشینت چوٹالہ کی تجویز پر نصف گھنٹے بحث ہوئی اور وقفہ صفر میں اراکین نے عوامی مفاد کے 618 معاملات اٹھائے ۔ ضابطہ 193 کے تحت وادی کشمیر کی صورت حال، قیمتوں میں اضافہ اور دلتوں پر مظالم سے متعلق معاملات سمیت مجموعی طورپر چار معاملے اٹھائے گئے ۔محترمہ مہاجن نے کہا کہ توجہ طلب تجویز کے ذریعے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے مہاندی کے اوپر بیراج کی تعمیر کے سبب مبینہ طور اڑیسہ میں ہیراکنڈ ڈیم سے پانی کے بہاؤ میں بہت زیادہ رکاوٹ پیدا ہونے اور ملک میں بالخصوص مشرقی اتر پردیش میں انسیفلائٹس کے پھیلنے سے متعلق معاملات اٹھائے گئے ۔ دونوں معاملوں میں متعلقہ وزراء نے جواب بھی دیا۔راجیہ سبھا میں چیئرمین انصاری نے بتایا کہ اجلاس میں مجموعی طورپر 300 سوالات پوچھے گئے ۔ وقفہ صفر کے دوران 120 معاملات اٹھائے گئے جن میں سے 21 کا متعلقہ وزراء نے فوری طور پر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیشن کے دوران 91 خصوصی معاملات اٹھائے گئے اور چار خصوصی توجہ طلب تجاویز پر بھی بحث کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کا یہ سیشن بامعنی رہا اور اس میں مفاد عامہ سے متعلق کئی حساس مسئلے اٹھائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان میں کشمیر کی صورتحال، دلتوں پر مظالم، مہنگائی، آندھرا پردیش کی تشکیل نو، اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ کے سلسلے میں گورنروں کے کردار اور قومی تعلیمی پالیسی کی شکل و صورت پر بحث شامل تھی۔ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے بعد تقریبا 45 منٹ تک قانون سازی کام کئے گئے ۔پونے 12 بجے مسٹر انصاری ایوان میں آئے اور سیشن کے اختتام کا اعلان شروع کر دیا۔ اس وقت ایوان میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود تھے ۔ایوان کے اس سیشن کے دوران تقریبا ایک تہائی نئے اراکین کو حلف دلایا گیا اور تقریبا 12 سال سے زیر التوگڈس اینڈ سروس ٹیکس سے متعلق آئینی ترمیم بل منظور کیا گیا۔

About the author

Tariq Hasan