اردو | हिन्दी | English
317 Views
Politics

پاکستان کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری؟

modi-purnab
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی 19 ستمبر (ایجنسی): اڑی فوجی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سوموار کو تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں وزیراعظم نریندر مودی نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کی جس سے یہ اشارہ ملا کہ بھارت پاکستان کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی تیاری میں ہے۔ وزیراعظم نے حملے کے فوراََ بعد کہا تھا کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا اور انہیں سخت جواب دیا جائے گا۔ اس سے قبل وزیر اعظم کی صدارت میں ان کی رہائش گاہ سات ریس کورس روڈ پر اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی جس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ، وزیر دفاع منوہر پاریکر ، وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور قومی سلامتی کی مشیر اجیت دوول کے علاوہ فوجی سربراہ اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں صورتحال کا مفصل جائزہ لیاگیا۔اڑی میں دہشت گردانہ حملے پر پوری قوم نے غم و غصہ کا اظہار کیاہے ۔ ملک کی عوامی اور فوجی قیادتیں اس نہج پر غور کر رہی ہیں کہ حالات موثر جوابی کارروائی کے متقاضی ہیں۔ یہ اطلاع ذرائع نے دی ہے ۔اعلیٰ سرکاری وزراء اور فوج کے نزدیک پاکستان واضح طور پر مورد الزام ہے لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حملے میں پاکستان کا عمل دخل ہے کیونکہ مارے جانے والے دہشت گردوں کے پاس پاکستانی ساخت کے ہتھیار اور گولہ بارود تھے ۔قبل ازیں مسٹر سنگھ نے کہا تھا کہ حملہ آور پاکستانی تھے اور وہ بڑے پیمانے پر مسلح تھے ۔ مملکتی وزیر دفاع سبھاش بھامبرے نے کہا ہے کہ اب کوئی شہادت پیش کرنے کی ضرورت نہیں پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے ۔اس بیچ پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ہندوستان کسی شہادت کے بغیر پاکستان پر الزامات عائد کر رہا ہے ۔ جنہیں پاکستان دو ٹوک مسترد کرتا ہے ۔ انہوں نے ایک بیان میں یہ الزام بھی لگایا کہ یہ ہندوستان کی طرف سے برہان وانی کی موت کے بعد ”ہندوستانی مقبوضہ کشمیر ”میں انسانی حقوق کی صورتحال اور تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی حالت کی طرف سے توجہ ہٹانے کی ایک چال ہے ۔

About the author

Tariq Hasan