اردو | हिन्दी | English
148 Views
Science

پلاسٹک بیگ تلف کرنے میں مددگار سنڈی کی دریافت

plastic bag
Written by Tariq Hasan

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک بیگ کھانے والی سنڈی ان بیگز سے پیدا ہونے والی آلودگی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے شہد کی مکھی کے چھتے سے موم کھانے والی ایک سنڈی دریافت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے یہ سنڈی پلاسٹک بھی کھا سکتی ہے۔ تجربات سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ سنڈی پلاسٹک کی کیمیائی ساخت کو اسی طرح توڑ سکتی ہے جیسے وہ مکھی کے چھتے کو ہضم کر لیتی ہے۔ خیال رہے کہ ہر سال دنیا بھر میں آٹھ کروڑ ٹن پلاسٹک پولیتھلین بنائی جاتی ہے۔ اس پلاسٹک کا استعمال شاپنگ بیگز کی تیاری اور اشیائے خوردونوش کی پیکیجنگ میں ہوتی ہے لیکن ان کے مکمل طور پر گلنے اور سڑنے میں سینکڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ‘گیلیریا مولونیلا’ نامی سنڈی ایک گھنٹے میں ہی پلاسٹک میں سوراخ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یونیورسٹی آف کیمبرج کے با?و?یمسٹ ڈاکٹر پاؤلو بومبیلی اس تحقیق سے منسلک ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ‘یہ نقط? آغاز ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اسے کس طرح انجام دیتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پلاسٹک کے کوڑے کے مسئلے کو کم سے کم کرنے کے لیے کوئی تکنیکی حل ڈھونڈا جا سکے گا۔’ ڈاکٹر بومبیلی اور سپینش نیشنل ریسرچ کونسل کی فیڈریکا برٹوچینی نے اس دریافت کو پیٹنٹ کرایا ہے۔ ڈاکٹر برٹوچینی کا کہنا ہے کہ اگر پلاسٹک کو گلانے کے کیمیاء? عمل کی شناخت ہو جاتی ہے تو اس سے پلاسٹک کے کوڑے سے نمٹنے کے عمل کی جانب رہنمائی مل سکتی ہے۔

About the author

Tariq Hasan