اردو | हिन्दी | English
268 Views
Sports

چلی نے ارجنٹائن کو شکست دے کر کوپا امریکہ جیتا،میسی نے فٹ بال کو الوداع کہا

Lionel-Messi
Written by Taasir Newspaper

ایسٹ ردرفورڈ،27جون؍(آئی این ایس انڈیا)بارسلونا کے سپر اسٹار لیونل میسی نے آج یہاں ارجنٹائن کے کوپا امریکہ کے فائنل میں چلی سے ہارنے کے بعد ڈرامائی طریقے سے بین الاقوامی فٹ بال کو الوداع کرنے کا اعلان کر دیا۔ بیتاب میسی نے پنالٹی شوٹ آؤٹ میں چلی کے گول پوسٹ کو پارکرنے میں ناکام رہنے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ارجنٹائن کی ٹیم  2014کے بعد مسلسل تین بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل سے باہر ہو گئی۔وہ 2007کوپا امریکہ کے فائنل میں ہارنے والی ٹیم میں بھی شامل تھ۔اس سٹار فٹ بالر نے کہا کہ یہ میرے اور میری ٹیم کے لیے بہت مشکل لمحہ ہے،یہ کہنا مشکل ہے لیکن ارجنٹائن ٹیم کے ساتھ میرا سفر ختم ہو گیا ہے۔اس 29سالہ اسٹار نے نامہ نگاروں سے کہا کہ میرے لئے قومی ٹیم کا سفر مکمل ہو گیا،میں جو کر سکتا تھا وہ میں نے کیا،میں چار فائنل میں ٹیم میں تھا اور اس بات سے دکھ ہوتا ہے کہ ہم چمپئن نہیں بن پائے۔ارجنٹائن اور چلی کی ٹیم اضافی وقت کے بعد 0.0پر تھی،میسی شوٹ آؤٹ میں ٹیم کے ابتدائی پنالٹی میں چوک گئے، جس سے وہ کافی مایوس ہو گئے۔ارجنٹائن کے گول کیپر سرگیو رومیرو نے شوٹ آؤٹ میں چلی کے ابتدائی شاٹ کا شاندار دفاع کرکے اچھی شروعات کرائی لیکن میسی گول نہیں کر سکے۔لوکاس بگلیا بھی گول کرنے سے چوک گئے جس سے چلی کی ٹیم نے 4.2سے جیت درج کی۔ارجنٹائن کے کوچ گیراڈرے مارٹنو میچ کے بعد ہوئی پریس کانفرنس میں میسی کے فیصلے سے لاعلم تھے لیکن انہوں نے اپنے کپتان کے فیصلے پر ہمدردی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ وہ اسی طرح محسوس کر رہا ہے جس طرح کسی بھی فٹ بال کھلاڑی کو محسوس کرنا چاہئے جو فائنل میں پہنچ جاتا ہے لیکن ہار جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر دوبارہ ہارنا کافی تکلیف دہ ہے۔یہ فائنل بھی گزشتہ سال کے کوپا امریکہ فائنل کی مانند ہی رہا، جس چلی نے گولرہت ڈرا کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ارجنٹائن کو شکست دی تھی۔ارجنٹائن کو 2014کے ورلڈ کپ کے فائنل میں جرمنی نے 1-0سے شکست دی تھی۔شاندار کیریئر اور پانچ بار دنیا کے بہترین فٹ بالر کا خطاب جیتنے کے باوجود میسی کو کئی مواقع پر اپنے ملک کے شائقین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔دنیا کے عظیم ترین فٹ بال کھلاڑیوں میں شمارمیسی اپنے ہی ملک کے عظیم فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا کی کامیابیوں کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔میراڈونا نے 1986کے ورلڈ کپ میں اپنے ملک کو فتح دلائی تھی۔کچھ مواقع پر میراڈونا نے میسی کی تنقید کی۔یورو 2016کے آغاز سے ٹھیک پہلے پیرس میں میراڈونا نے کہاکہ میسی بہت اچھا شخص ہے لیکن اس کے پاس وہ پروفائل نہیں ہے۔اس میں قیادت کرنے کے مزاج کی کمی ہے۔میسی نے تھوڑے مشکل بھرے سیشن کے بعد اپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔گزشتہ سال ان کی چوٹ نے بھی انہیں پریشان کیا،چوٹ سے ابھرکر انہوں نے ایک بار پھر لا لیگا میں بارسلونا کی جیت کی عبارت لکھی اور اس کے بعد یہ امیدیں بڑھ گئیں تھی کہ وہ اس بار ارجنٹائن کو کوپا امریکہ کا خطاب دلوائیں گے۔ارجنٹائن کے لئے کھیلنے کا ان کا عزم اس وقت صاف نظر آیا جب وہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہنڈورس کے ساتھ ایک دوستی مقابلے میں شامل ہونے سپین سے ارجنٹینا پہنچ گئے، تاہم وہاں ان کی پیٹھ میں چوٹ لگ گئی۔اس کے بعد وہ سپین واپس آئے اور پھر کوپا کے لئے امریکہ پہنچ کر ارجنٹائن ٹیم کا حصہ بنے۔ٹورنامنٹ کے ابتدائی وقت میں وہ زخمی تھے، لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے تال پکڑ لی۔پانامہ کے خلاف ارجنٹائن نے 5-0سے جیت درج کی تو اس میں میسی کی ہیٹ ٹرک کا اہم تعاون رہا۔اسی ٹورنامنٹ میں انہوں نے ارجنٹائن کی جانب سے سب سے زیادہ 55بین الاقوامی گول کرنے کا ریکارڈ بنایا۔پہلے یہ ریکارڈ گیبریل بتستتا کے نام تھا جنہوں نے بین الاقوامی کیریئر میں اپنی قومی ٹیم کے لئے 54گول داغے تھے۔

About the author

Taasir Newspaper