اردو | हिन्दी | English
502 Views
Around the World

چین۔پاکستان کے درمیان درار

chin
Written by Taasir Newspaper

بیجنگ، بلوچستان میں دو چینی اساتذہ کے قتل کے بعد چینی صدر شی چنفنگ نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو جھڑکی دیتے ہوئے ان سے آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے دوران رسمی ملاقات نہیں کی۔ دونوں ممالک کی قریبی دوستی کے درمیان یہ نایاب واقعہ ہے۔ مسٹر شریف شنگھائی تعاون تنظیم (شنگھائی تعاون تنظیم) میں حصہ لینے کے بعد واپس لوٹ گئے۔ کانفرنس سے الگ انہوں روس، قازقستان، ازبکستان اور افغانستان کے صدور سے ملاقات کی۔ لیکن شی کے ساتھ ان کی ملاقات نہیں ہوئی۔ چینی سرکاری میڈیا نے قزاق صدر نورسلطان نجروائے، بھارتیہ وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے شی کی ملاقات کا خاکہ پیش کیا ہے۔ وہ مردوں کے غیر متوقع جھڑکی پاکستانی صوبہ بلوچستان میں دو چینی شہریوں کے اغوا اور ان کے قتل کو لے کر ملک کے عوام میں دکھ اور گہری مایوسی کے بعد سامنے آئی ہے۔ بلوچستان کے کوئٹہ میں گزشتہ ماہ دو چینی شہریوں کو اغوا کر لیا گیا تھا. بعد میں مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے دہشت گردوں نے دونوں کی بربریت قتل کر دیا. اس واردات سے چینی شہریوں میں انتہائی ناراضگی تھی. خاص بات یہ ہے کہ ان ہلاکتوں کی خبر 8۔9 جون کو منعقد شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے پہلے عوامی ہوئی. اس اجلاس میں بھارت اور پاکستان دونوں کو رکن کے طور پر تنظیم میں شامل کر لیا گیا. اگرچہ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنگ نے جمعہ کو کہا تھا کہ ان ہلاکتوں کا ‘چین پاکستان اقتصادی کوریڈور (سی پی ای سی) سے کوئی لینا دینا نہیں ہے. بلوچستان کے لوگ 50 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے بن رہے اس کوریڈور کی مخالفت کر رہے ہیں. یہ چین کے جن زیانگ کو پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے راستے بلوچستان واقع گوادر بندرگاہ کو جوڑتا ہے۔ سی پی ای سی چین کا سی پی ای سی چین کے اہمیت کے حامل’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو’ (بی آر آئی) کا حصہ ہے۔

About the author

Taasir Newspaper