اردو | हिन्दी | English
216 Views
Uncategorized

کاوِشؔ اور ان کی شاعری کا جائزہ

ممبئی کے نئی نسل کے شاعروں میں محمد حسین کاوِشؔ کا نام آتا ہے۔ ان کے ہمعصروں میں کچھ تو اڑ کر بام تک آگئے ، کوئی کہکشاں سے گزر ے،کسی نے شاعری کے لئے اپنا گھر جلا دیا، کسی نے یہ سوچا کہ دونوں طرف کا کام چلتا رہے ،ہوا بھی چلتی رہے اور دیا بھی جلتا رہے۔غرضیکہ یہ ان کے اپنے اپنے حوصلے اور اڑان کی بات ہے۔ کاوشؔ نے اپنی زندگی ہی میں سینکڑوں لوگوں کو شاعری کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگاتے ہوئے دیکھا ہو گا ، انہیں اپنی زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹتے ہوئے دیکھا ہو گا،ان کی زندگی میں بھی دور دور تک مایوسیاں ، محرومیاں اور ناکامیاں رہی ہونگیں،اس لئے انہوں نے اس خاردار رستے کواپنے لئے نہیں چنا ۔شاعری کی شروعات توکی مگر بڑی ہوشمندی کے ساتھ اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا ۔پہلے وہ خود درس کے اہل ہوئے اور پھر اپنی اولاد کو اس لائق بنایا کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی سہارے کے جی سکیں .اور اب تو وہ ہیں اور ان کی شاعری ہے ۔ اور ان کے درمیان عوام ہے۔ کاوشؔ ایک آرٹسٹ ہیں. شاعر بھی اک آرٹسٹ ہوتا ہے .دونوں میں بڑی مماثلت ہے۔میرے خیال سے شاعر ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے پیشے میں بڑی مدد ملتی ہوگی۔زندگی میں نئے پن کی بڑی اہمیت ہے۔اگر ندی میں نیا پانی آنا بند ہو جائے تو وہ سڑ کر بدبوپھیلانے والا گندہ جوہڑ بن جاتا ہے۔ اسی طرح انسانی افکاروخیالات میں اگر نئے رویں نہ چلیں تو انسان فکری اعتبار سے بانجھ ہو کر رہ جائے گا۔ ادھر نئی نسل نے قدرت کے فکری تخلیقی حسن کو پوری شعوری توانائیوں کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔روایت ترقی پسندی اورجدیدیت کی خوبییوں کو اپنا کر اپنے اشعار کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا ہے۔کاوشؔ نے بھی آگے بڑھ کرایسے ہی خیالات سے اپنی شاعری کو سجایا ہے۔ اکثر شعرا ء و ادباء اپنے خیال اور احساس کو افضل مان لیتے ہیں اور تمام لوگوں کو حقیر جاننے لگتے ہیں ۔اور وہ جب خیالی دنیا سے ہٹ کر ان خیالوں کو عملی زندگی میں جانچتے ہیں تو دونوں میں کافی فرق نظر آتا ہے۔ان کے دل افسردہ ہو جاتے ہیں۔کاوشؔ اپنی محرومیوں سے دو چار ہونے کے بعد زیرِ اثر نہیں رہے ۔ کاوِشؔ رہو ہمیشہ بلندی کی فکر میں تم وہ کہو جو پہلے کسی نے کہا نہ ہو اور پھر یہ مانا میں نے بدن میں تکان باقی ہے ابھی تو آگے بہت آسمان باقی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ زندگی جہدِ مسلسل کا نام ہے۔ تاریخ ہے گواہ انہیں ساحل نہیں ملا طوفاں سے گزرنے کی جو ہمّت نہیں کرتے زندگی سرگرمِ عمل رہنے کا نام ہے۔آدمی دیوار کے نقش کی طرح نہ بنے۔ جہاں جہاں کاوشؔ کے یہاں پیکر تراشی کی گئی ہے،وہ فرضی اور خیالی نہیں ہے ،بلکہ ان کے آس پاس کا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ان اشعار میں لفظوں کے سہارے جو معنی آفرینی کی گئی ہے، وہ سچّائی ہے ۔اور کوئی بھی شعر یا فن عصری سچّائی کے سہارے ہی سے غیر فانی بن سکتا ہے۔جوزعمِ ترقی اور جدیدیت میں فراموش کر دی گئی تھی۔ نئی غزل اور نئے شاعروں کی شاعری میں صحت مند اقدار کا حسن کارانہ اظہار موجود ہے۔کاوشؔ نے بھی اس موضوع کو چھوا ہے۔ اگر اخلاق ہی باقی نہیں کس کام کی ڈگری کوئی ایم،اے ،بی،اے کرنے سے ہی بابو نہیں ہوتا انسان بٹ گئے ہیں سبھی ذات پات میں اب یاری دوستی کا بھی بندھن نہیں رہا وقت کے ساتھ ساتھ نسلیں بدل گئی ہیں ، لوگوں کے احساسات بدل گئے ہیں۔لوگوں کے جینے کے انداز بدل گئے ہیں۔ لیکن اقدار کی باتیں کہاں بدل سکتی ہیں ۔ جھوٹ بولنا کل بھی غلط تھا اورآج بھی غلط ہے۔خاکساری سے پیش آنا بڑے پن کی دلیل ہے۔ کل آج بھی ہے۔ چھوٹا بن کے ملنے والا کل بھی بڑا تھا آج بھی بڑا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے انداز کو نیا پن دیا جائے ۔ایسا نہ ہو کے گلوں کی تازگی ہے لب پہ لیکن ترے لہجے سے پتھّر جھانکتا ہے بحالت موجود کاوشؔ کی شاعری اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی ہے ۔ مگر قارعین ان سے امید رکھ سکتے ہیں۔ کاوشؔ میں ذہنی اور فکری اڑان ،تحقیق اور تدبیر کی کمی نہیں ہے۔اس لئے انہیں دوسروں کے کے تجربے پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔بس شاعری چکّی کی مشکت چاہتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper