اردو | हिन्दी | English
121 Views
Politics

کجریوال کا حوالہ کاروباریوں، مافیاؤں سے تعلق : کپل

KAPIL
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی,19 مئی (یو این آئی) دہلی کے سابق وزیر کپل مشرا نے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر حوالہ کاروباریوں اور مافیاؤں کے ساتھ ساز باز کا سنسنی خیز الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ جب تک وہ وزیر اعلی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں پہنچا دیتے خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ عام آدمی پارٹی (آپ) سے نکالے گئے کراول نگر سے ممبر اسمبلی مسٹر مشرا نے آج پریس کانفرنس میں مسٹر کیجریوال پر نئے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی نے کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے نوٹ کی منسوخی کی مخالفت کی۔ ان کا حوالہ کاروباریوں اور مافیاؤں سے تعلق ہے۔ ان الزامات کے بعد مسٹر کیجریوال سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسٹر مشرا نے کہا کہ نئے انکشافات کے بعد انہیں اپنی جان کا بھی خطرہ ہے۔ اس موقع پر مبینہ ثبوت جمع کرنے میں مسٹر مشرا کی مدد کرنے والے نیل بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا، ’’کیجریوال کا کا لر میرے ہاتھ میں ہے اور میں اب انہیں جیل پہنچا کر ہی دم لوں گا‘‘۔ مسٹر مشرا نے کہا کہ دو کروڑ روپے کے چندے کی وصولی کے لئے جس مکیش کمار نام کے شخص کا ویڈیو سامنے لایا گیا، وہ جھوٹا ویڈیو ہے۔ سابق وزیر نے کہا کہ نوٹ کی منسوخی کے دوران گرفتار کئے گئے روہت ٹنڈن کی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیم پرکاش شرما نام کے شخص کو بچانے کے لیے مکیش کمار کو آگے کیا گیا۔ کمپنیوں کے جس لیٹر پیڈ پر کل آپ پارٹی نے چندہ دینے کی بات کہی تھی، مسٹر مشرا نے کہا کہ یہ فرضی ہے اور گھر میں بیٹھ کر بنایا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی دعوی تھا کہ ایک کمپنی کے لیٹر پیڈ پر لکھے خط میں جو دستخط ہے وہ مکیش کمار کا ہے ہی نہیں۔ پہلے مسٹر کیجریوال نے کہا تھا کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ پارٹی کو چندہ کہاں سے ملا وزیر اعلی انڈین ریونیو سروس کے سابق افسر اور قانون جانتے ہیں۔ اس لئے انہیں اب یہ بتانا ہوگا کہ دو کروڑ روپے کا چندہ کہاں سے آیا۔ چندے کی تاریخ کو لے کر بھی مسٹر مشرا نے سوال اٹھائے اور کہا کہ مکیش کمار نے جب چندہ دیا اس وقت وہ کمپنی میں ڈائریکٹر تھے ہی نہیں۔مسٹر مشرا نے مکیش کمار کو بینک ڈفالٹر بتاتے ہوئے کہا کہ جو شخص کو ویٹ ادا نہیں کرتا، قرض نہیں اتارتا، ٹیکس نہیں بھرتا لیکن دو کروڑ کا چندہ دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس کمپنی پر 2014 میں ہی تالا لگ جانا چاہیے تھا وہ ابھی تک کس طرح چل رہی ہے۔ یہ سیدھے سیدھے عوامی دولت کی لوٹ اور کرپشن کا معاملہ ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حوالہ سے منسلک ہیم پرکاش شرما کو بچانے کے لیے مکیش کمار کو آگے کیا گیا۔ آپ پارٹی کو چندہ دینے والی کمپنیوں کو فرضی قرار دیتے ہوئے مسٹر مشرا نے دعوی کیا کہ نوٹ کی منسوخی کے دوران مسٹر کیجریوال اس لئے بدحواس اور بوکھلائے ہوئے تھے کیونکہ جن کمپنیوں پر چھاپے پڑ رہے تھے ان کے مالکوں اور ڈائریکٹرز سے ان کے تعلقات تھے۔ پریس کانفرنس میں مبینہ انکشاف کرنے سے پہلے مسٹر مشرا نے ٹویٹ کرتے ہوئے آپ کے ممبران اسمبلی سے درخواست کی تھی کہ وہ آج دکھائے جانے والے ثبوتوں کو ضرور دیکھے۔ غور طلب ہے کہ مسٹر مشرا نے مسٹر کیجریوال پر توانائی کے وزیر ستیندر جین سے دو کروڑ روپے لینے کا الزام لگایا تھا۔ کابینہ سے نکالے جانے کے بعد مسٹر مشرا مسلسل مسٹر کیجریوال پر نشانہ لگا رہے ہیں اور پانی ٹینکر گھپلے میں انسداد بدعنوانی بیورو اور مرکزی تفتیشی بیورو اور سنٹرل ڈائرکٹ ٹیکس بورڈ میں اپنی شکایت درج کرا چکے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper