اردو | हिन्दी | English
169 Views
Sports

کرکٹ کا بے تاج بادشاہ سچن تندولکر

Sachin-Tendulkar
Written by Taasir Newspaper

، راگھو نگر بھوارہ ، مدھوبنی(بہار) 9534677175
سچن تیندولکر نے نئی بلندی سے کر کٹ کو روشناس کیا وہ جس نے چھکوں سے چوکوں سے بد حواس کیا جہاں میں اس نے علم سنچر ی کے لہرائے
یقین نہیں کہ کھلاڑی سچن سا پھر آئے
24اپریل 1973ء ؁ کو کرکٹ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کہے جا نے والے سچن رمیش تندولکر ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہو ئے ۔ ان کے والد کا نام رمیش تیندو لکر اور ماں کا نام رجنی تیندو لکر ہے 24اپریل 1973ء کو پروفیسر رمیش تندولکر کے گھر جو بیٹا پیدا ہو ا اس نے سا ری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کیا ۔ پرو فیسر رمیش نے اپنے بیٹے کے لئے اچھا نا م رکھنے کی غرض سے مراٹھی اور سنسکر ت زبان کی کتا بوں میں الفاظ تلاش کئے مگر کو ئی مو زوں نام نہیں ملا ۔ پرو فیسر رمیش کے بچوں کو مو سیقی میں بڑی دلچسپی تھی اور معروف گلو کار اور مو سیقا ر سچن دیو برمن کو بہت پسند کیا جاتا تھا ۔ لہذا سچن کے نام پر سب متفق ہو گئے اور گھر کے اس لاڈلے کو سچن رمیش تند ولکر نام دیا گیا ۔ پیا ر سے اسے “ٹینڈلیہ “اور ”سچو ”پکارا جانے لگا گھر گلی اور محلے کے اس لاڈلے کو کرکٹ کا کھیل وراثت میں نہیں ملا اس کے خاندان میں دور دور تک کو ئی کرکٹ کھیلنے والا نہ تھا خود سچن تندولکر کو کرکٹ سے زیادہ ٹیبل ٹینس کا شوق تھا لیکن محلے کی گلیوں میں کھیلتے کھیلتے اور پروسیوں کے شیشے تو ڑتے توڑتے اس کھیل کا دیوانہ ہو گیا اور بہت جلد اسکول کی کر کٹ ٹیم میں جگہ حاصل کر کے اپنے بلے سے چھکوں اور چوکوں سے برسات کرنے لگا اس دوڑ میں ان کی کار کرد گی حیرت انگیز ہے ۔
سچن تندولکر ممبئی کی یاس شلا میں اپنے اسکو ل ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہو ئے 329رنوں کی شاندار اننگز کھیلی اور آؤٹ نہیں ہو ئے ۔ اپنے سا تھی ونو د کامبلی کے ساتھ انہوں نے ریکارڈ 664رنوں کی شراکت داری بھی کی ۔ اس اننگز سے قبل تندو لکر 121ناٹ آؤٹ ، 125، اور 207، ناٹ آؤٹ بہترین رنز بنا چکے تھے ۔ انٹر اسکو ل لیگ میچ کے فا ئنل میں انہوں نے بہترین سنچری بنا ئی 324رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور ان کے لئے فرسٹ کلاس کرکٹ جے دروازے کھل گئے ۔
1988,1989کا سیزن سچن تندولکر کے لئے فرسٹ کلا س کیرےئر کے لئے آغاز کی یا دگار ہے ۔ 15سال 7ماہ اور 16دن چھوٹی سی عمر میں انہوں نے ممبئی کی طرف سے کھیلتے ہوئے گجرات کے خلاف سنچر ی بنا ئی ۔ ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں 1دسمبر 1988ء کو شروع ہو نے والا تین روزہ میچ دیکھنے والے شاہد ہیں کہ دنیا ئے کر کٹ کے آسمان پر ایک نئے انجم نے جلو ہ نما ئی کی ہے ۔ اسکی چمک کہہ رہی ہے کہ آنے والے سالوں میں اس کی روشنی دوسرے تمام ستاروں کو مندمل کر دے گی ۔فرسٹ کلاس کرکٹ میں نمایاکامیابی نے ٹسٹ کر کٹ کی راہ ہموار کر دی 1989ء کے اوائل میں ویسٹ انڈیز جانے والی ہندوستان کی ٹسٹ ٹیم میں جگہ مل سکتی تھی لیکن امتحا نات کی مجبو ری اور کم عمری مانع رہیں لیکن اسی سال کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرنے والی ہندوستان کی ٹسٹ ٹیم میں انہیں شامل کر لیا گیا ۔ سچن کے ٹسٹ کیر ئر کا آغاز کراچی نیشنل اسٹیڈیم میں ہوا اس وقت اس کی عمر محض 16سال اور 205دن تھی ۔ سچن ہندوستا ن کرکٹ ٹیم کی نما ئند گی کر نے والے سب سے کم عمر کھلا ڑی بنے ۔
دنیا مانتی ہے کہ سچن تندولکر خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں ایسے کرکٹرز صدیوں میں پیدا ہو تے ہیں ۔ 1988میں پاکستان کی سر زمین پر جب سچن تندولکر نے اس وقت کے مایہ ناز لیگ اسپنر عبدا لقادر کے ایک اور میں چار چھکے لگا ئے تھے تو کپتان عمران خان کو عبد القادر کو محاذ سے ہٹانا پڑا تھا ، اس وقت کسی کے خواب وخیال میں نہ تھا کہ یہ لڑکا 24سال تک انٹر نیشنل کر کٹ میں جما رہے گا ۔
سچن تندولکر کرکٹ میں سب کچھ حاصل کر لئے ہیں سچن تندولکر نے کر کٹ کی دنیا میں کسی ریکارڈ کو نہیں بخشا 200ویں ٹسٹ کرکٹ میں ، 15921رن 51سنچریاں ، جبکہ ون ڈے کرکٹ میں ،463میچوں میں 18426رنوں اور 49 سنچر یوں کے ساتھ انٹر نیشنل کرکٹ میں سنچریوں کی سنچری ایسے ریکارڈ ہے جو تندولکر کی شخصیت مختلف پہلو ؤں کو اجاگر کرتے ہیں ۔ سچن تندولکر بولنگ میں بھی دھمال مچا چکے ہیں ٹسٹ کرکٹ میچ میں 46وکٹ اور ونڈے میں 154وکٹ لے چکے ہیں اگر ان کی بہترین کا ر کرد گی کی وجہ سے سچن ریکا رڈ تندولکر کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا ۔ سچن تندولکر کبھی ہمت نہیں ہا رے ، آگے بڑھتے گئے ۔ کہتے ہیں نا!
ہمت اگر جواں ہے تو منزل بھی پا ؤ گے
مایوس ہو گئے ہو تو منزل کو ئی نہیں
سچن تندولکر صرف عظیم بلے باز ہی نہیں بلکہ عظیم انسان بھی ہیں وہ سب کی عزت کرتے تھے اور کرتے ہیں اور اپنے کھیل پر غرور تکبر نہ کئے نہ کسی سے لڑائی جھگڑا کئے اور وہ آج بھی نئے کھلا ڑی کو عزت دیتے ہیں چا ہے وراٹ کو ہلی ہو ، یا مہند ر سنگھ دھو نی ہو پرانے کھلا ڑیوں میں چا ہے محمد اظہر الدین ہو یا کپل دیو ، سنیل گواسکر ، رکی پونٹنگ، یا عمران خان وغیرہ وغیرہ وہ سب کی عزت کرتے تھے اور کرتے ہیں اور دنیا کے ہر کھلا ڑی سچن کو بھی عزت دیتے ہیں ۔ سچن تندولکر کے بارے میں بہترین اسپین گیند باز عبد القادر نے دسمبر 1989ء میں یہ پیشن گو ئی کی تھی کہ “میری بات غور سے سنیں یہ سچن مستقبل کا بہت بڑا کھلا ڑی بنے گا ۔ یہ امر ناتھ جیسا بلکہ کہنا ئی یا سو برس جیسا ہو گا یہ کمزور گیند کا انتظار نہیں کرے گا اور ہر اعتبار سے اچھی گیند کو ہٹ کرکے چار رن حاصل کرے گا یہ اس طرح کا بلے باز ہو گا جس سے با لر دور رہنا پسند کریں گے ۔ ”سچن تندولکر نے عبد القادر کی پیش گو ئی سچ ثا بت کی ان کی شہرت اور مقبو لیت کا یہ عالم ہے کہ کڑوڑوں لوگ انہیں کرکٹ کا بھگوان کہتے ہیں ۔
بشن سنگھ بیدی نے تو انہیں ”مریادہ پروشتم ”کے لقب سے سرفراز کیا جو شری رام چندر کا لقب ہے ۔ ماسٹر بلاسٹرووین رچرڈس نے کہا ” وہ کسی بھی دور اور کسی بھی سطح پر کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ میں کہنا چا ہوں گا کہ وہ 99اعشاریہ صفر پانچ فیصد پر فیکٹ ہیں ”مشہو ر تیز گیندباز ڈینس للی نے بڑی دلچسپ بات کہی ”اگر میں سچن کے خلا ف گیند کروں تو مجھے ہلیمیٹ پہن کر گیند پھینکنا ہوگا کیوں کے وہ گیند پر بہت طا قتور ہٹ لگا تے ہیں ”بہت سے کھلا ڑی سچن کے بارے میں تا ثرات دے چکے ہیں ۔ سچن تندولکر جس مقام پر پہنچے ہیں دوسرے کھلاڑی کو پہنچنا آسان نہیں ہے ۔ وہ کھلا ڑی کے ساتھ ساتھ نرم دل انسان بھی ہیں کبھی منہ سے جواب نہیں دیتے تھے صرف بلے سے جواب دیتے تھے ۔
18مارچ2012ء کو انہوں نے اپنا آخری ونڈے انٹر نیشنل میچ پاکستان کے خلاف کھیلا اور 14نو مبر 2013ء کو ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری ٹسٹ کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ سے سبکدوش ہو گئے ۔
ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں جو بیان دئے سنیاس کے وقت وہ کو ئی بھی کرکٹ کے دیوانے نہیں بھول سکتے ہیں تندولکر جب بو لے تو ہندوستان سنتا گیا ، کو ئی رو رہا تھا ، کو ئی سسک رہا تھا ، کو ئی ہچکیاں لے رہا تھا ۔ سچن تندولکر نے اپنے والد کا ذکر کیا اور بتایا کہ 11سال کی عمر میں انہوں نے کس طرح مکمل آزادی دی ۔ انہوں نے نصیحت دی تھی کہ محنت کرو ، مگر شارٹ کٹ تلاش مت کرو ، والد کی موت کے بعد تندولکر نے جب بھی سنچری بنا ئی اپنا بیٹ اٹھا کر آسما ن کی جانب اشارہ کیا تھا ۔ تندولکر نے کہا تھا ہر سنچری میرے والد کیلئے تھی اسی لئے میں آسمان کے جانب بیٹ اٹھا تا تھا ۔ اور ماں کے بارے میں کہتے ہیں میں ماں کی دعاؤ ں کی وجہ سے میں اس مقام تک پہنچا ہوں ، سچن تندولکر 1992ء میں بیوی انجلی کو اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت تبدیل قرار دیا، سچن تندولکر کے ایک لڑکا جس کا نام ارجن تندولکر اورایک لڑکی جس کا نام سارا تندولکر ہے ۔سچن تندولکر اپنے کو چ راما کانت آچریکر سے جذبا تی التجاں کی کہ سر اب تو ویلڈن بہت اچھا کہہ دیں ، مجھے کو ئی میچ نہیں کھیلنا ہے”تندولکر کا کہنا کے سر نے میرے کبھی اچھے کھیل کے بعد ”بہت اچھا” یا شاباش نہیں کہا تھا ، کیوں کہ انہیں ایسا لگتا تھا کے کہیں تندولکر مہنت کرنا بند کر دے ۔ سچن تندولکر کو کسی نے اتنا بو لتے ہو ئے نہیں سنا تھا اس نے دل کھو ل کر رکھ دیا تھا ۔ اس دن پو رے ہندوستانہی رو دئے اس کے الودا ئی پے تندولکر 20منٹ تک اپنی دل کی بات دنیا کے سامنے رکھ دی تھی ، چالیس سال کی عمر میں اس کے چہرے پر ایک معصومیت اس با ت کی گو ہی دے رہی تھی کہ کرکٹ کا یہ سفر کتنا بے داغ رہا ہے اسی لئے توماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر ہر میدان میں مقبول تھا اورہر مداح کا فیو ریٹ کھلا ڑی ۔
سچن تندولکر نے کہا سچن سچن کی صدائیں میرے کانوں میں ہمیشہ گو نجیں گی ۔ یہ ایسانعرہ تھا جس نے ہندوستانی کرکٹ کے چمن کو ہمیشہ ہرا بھرا رکھا تھا ۔ ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر سب سے پہلے ڈبل سنچری مارنے والے پہلے کھلاڑی بنے جو کہ افریقہ کے خلاف مارے ۔ سو ویں سنچری پر وزیر اعظم ڈاکٹر منمو ہن سنگھ نے کہا تھا ”سو ویں سنچری بنا کر سچن نے تا ریخ رقم کی ہے اور ملک کا سر فخر سے اونچا ہو اہے میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ سچن کو مبا رک با د دیتا ہوں ان کا طویل کرکٹ کیرےئر کا اس کرکٹر حو صلے کی فتح ہے میں دعا گو ہوں کہ وہ اس طرح ساندار کھیل مظا ہرہ کرتے رہے اور نوجوانوں کی حوصلہ افضا ئی کرتے رہیں ”دنیا بھر سے بھی بہت مبا رک با د ملے گذشتہ دو دہا ئی میں عالمی کر کٹ میں سچن تندولکر اور ریکا رڈ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم بنے ہو ئے تھے ۔ سچن تندولکر کھیلتے جا رہے تھے لیکن نہ تو انہیں اعتمادکی کمی آئی اور نہ ہی ان کا بلا ریکارڈ بنا تے بناتے تھکا تھا ۔ یہاں تک کہ انہوں نے سیکڑوں کا سیکڑوں بنا نے کا ریکارڈ بھی قائم کیا ۔
پانچ فٹ پانچ انچ کے سچن تندولکر ہندوستان کے سب سے اعلیٰ شہری اعزاز ”بھا رت رتن ”ایوارڈ 2014ء میں نوازے جانے والے پہلے کھلاڑی اور سب سے کم عمر کے ہیں ۔ انہیں 1994ء میں ارجن ایوارڈ تفویض کیا گیا تھا ، راجیو گاندھی کھیل رتن 1997ایوارڈ ، حاصل کرنے والے واحد کرکٹ کھلا ڑی ہیں ۔ انہیں پدم شری 1999ء، اور پدم ویبھوشن 2008ء سے سرفراز کیا جا چکا ہے بادشاہ سچن تیندولکر کو 2012ء سے راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں ۔
شہرت اور دولت کی بلندیوں کو چھو نے والا چھو ٹے قد کا یہ عظیم بلے باز نو جوان کر کٹرس کے لئے ترغیب کا ذریعہ بن گیا ہے ۔ 24اپریل 1973ء ہندوستان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد کیا جا ئے گا ۔
دعا یہی ہے ، تیری ہودراز عمر سچن
ہو نسل نو کی تیرے دم سے تربیت ممکن
جہان گیند کو ، بلیّ کو اک خراج ہے تو
وطن کے سر کا عزیز ایک حسین تاج ہو تم

About the author

Taasir Newspaper