اردو | हिन्दी | English
438 Views
Education

کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے کیلئے سخت محنت اور عزم مصمم ضروری : گورنر

DSC_1795
Written by Tariq Hasan

پٹنہ، 20 اگست (طارق حسن)۔ سخت محنت، قوت ارادی اور عزم مصمم ان سب کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے، اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا۔ کوئی بھی ہدف چھوٹا نہیں ہوتا، سبھی اہداف اپنی اہمیت کے ذریعہ ہمیشہ اہم بنے رہتے ہیں ۔‘‘ مذکورہ خیالات کا اظہار گورنر مع چانسلر رام ناتھ کووند نے آج مقامی ایس کے میموریل ہال میں پٹنہ یونیورسٹی کے ذریعہ منعقد تقسیم اسناد تقریب کو صدارتی عہدے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چانسلر رام ناتھ کووند نے کہا کہ آج گلوبلائزیشن کے دور میں علم سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے افق کھل رہے ہیں اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں اور زیادہ بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹیوں کی اندرونی اور بنیادی ساخت مناسب طور پر تیار نہیں ہوپائی ہے، لیکن وسائل کی کمی کے باوجود، ہماری قوت ارادی میں ذرا بھی کمی نہیں ہے۔ بعض سہولتوں کی عدم دستیابی کے باوجود ہم نئی نسل کو ہمیشہ تراش رہے ہیں۔مسٹر کووندنے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جب آپ اپنی اعلیٰ ڈگریاں لے کر گھر جائیں گے، تو یہ ڈگریاں آپ کے مستقبل کے سنہرے سپنوں کے لئے اہم دستاویزات بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جن کو پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہوئی ہے، انہیں زندگی کے نئے تجربات پر اور بھی تحقیق کرنے ہوں گے اور ملک ومعاشرے کو اور بھی بہتر بنانا ہوگا۔جنہیں ’گولڈ میڈلس‘ مل رہے ہیں، انہیں اور بھی نئے کردار کے عمل درآمد کیلئے تیار رہنا ہوگا اور معاشرے کو نئی سمت دینے کے لئے قائدانہ رول ادا کرنا ہوگا۔ چانسلر نے کہا کہ پٹنہ یونیورسٹی کی پروقار تاریخ رہی ہے۔اس یونیورسٹی کے بہت سے ٹیچر اور طلبا ’پدم شری‘ ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں اور انہیں ساہتیہ اکیڈمی اور راج بھاشا ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔گورنر نے ڈگری حاصل کرنے والے تمام طلباء کو مبارکباد دی۔گورنر نے کہا کہ 42 گولڈ میڈل حاصل کرنے والے طلباء میں طالبات کی تعداد 29 ہے جو سماج میں بیٹیوں کے ہنر اور وقار کا مظہر ہے۔ انہوں نے اولمپک میں تمغہ حاصل کرنے والی پی وی سندھو اور ساکشی کو بھی بھارت کو فخرسے نوازنے کرنے کے لئے مبارک باد دی۔تقریب کو خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کے گورنر سی ودیا راؤ نے کہا کہ بہار علم کی سرزمین رہی ہے اور تحریک آزادی میں بھی اس کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے اعلیٰ دو سو اعلی تعلیمی اداروں میں ہندوستان کے صرف دو یونیورسٹیوں کا شامل ہونا تشویش کی بات ضرور ہے، لیکن اگر ہم اس کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ’سینٹر آف ایکسیلینس‘ کے طور پر تیار کریں اور جدید صنعتی اور سماجی ضروریات کے نقطہ نظر سے مستحکم کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اعلیٰ تعلیم کے نقطہ نظر سے بھی بہترین بن جائیں گے۔اس موقع پر ریاستی وزیر تعلیم ڈاکٹر اشوک چودھری نے بھی خطاب کیا۔

About the author

Tariq Hasan