اردو | हिन्दी | English
454 Views
Uncategorized

کشمیر تشدد میں ہلاکتوں کی تعداد30ہوگئی،450زخمی

وادی کے اسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی،طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ،بیشتر علاقوں میں بدستور کرفیو جاری

سری نگر ، 11جولائی (یو ا ین آئی) وادی کشمیر میں حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ ترین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی تشدد کی لہر میں مرنے والوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے ۔ اِن میں سے 29 ہلاکتیں جنوبی کشمیر جبکہ ایک ہلاکت گرمائی دارالحکومت سری نگر میں ہوئی ہے ۔ ہلاک شدگان میں ایک پولیس ڈرائیور بھی شامل ہے ۔ پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 450 کے قریب پہنچ گئی ہے ۔ اِن میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے قریب 60 شہریوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں جبکہ قریب ایک درجن افراد کو پیلٹ گن کے زخم لگے ہیں جن میں سے قریب دو درجن کی حالت اسپتالوں میں تشویشناک بنی ہوئی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق اتوار کی شام سے 9 افراد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے ہیں۔ اِن میں سے سب سے زیادہ چھ کا تعلق ضلع کولگام سے تھا۔ اِن کی شناخت یاسمینہ، فیروز احمد، شاہد حسین بٹ، زبیر کھانڈے ، نذیر احمد شیخ اور مشاق احمد ساکنان ضلع کولگام جبکہ شاہد گلزار ساکنہ شوپیان، عبدالرشید ساکنہ پلوامہ اور بلال احمد شاہ ساکنہ اننت کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ اس دوران سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی آٹھ کمپنیاں( 8 سو اہلکار) وادی کشمیر روانہ کردی گئی ہیں۔ اس سے قبل 9 جولائی کو 1200 اہلکار یہاں پہنچے تھے ۔ وادی کشمیر کے درجنوں مقامات سے پیر کو بھی سیکورٹی فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اِن اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے کرفیو توڑنے والے مشتعل احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ، ہوائی فائرنگ اور بعض مقامات پر مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کی۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بج بہاڑہ اننت ناگ اور زینہ پورہ شوپیان میں احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر مظاہرین پر بندوقوں کے دھانے کھولے جس کے نتیجے میں کم از کم 5 نوجوان زخمی ہوگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مشتعل مظاہرین نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع اور شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور میں کئی سرکاری ڈھانچوں بشمول پولیس چوکیوں کو نذر آتش کیا۔ وادی کے اسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں۔ وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو بدستور نافذ جبکہ سری نگر جموں قومی شاہراہ و تاریخی مغل روڑ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے ۔ جنوبی کشمیر میں موبائیل فون سروس، وادی اور خطہ جموں میں انٹرنیٹ خدمات اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے جموں خطہ کے بانہال تک چلنے والی ریل سروس بھی بدستور معطل ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے دمہال ہانجی پورہ علاقہ میں گذشتہ روز احتجاجی مظاہرین کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی یاسمینہ نامی ایک لڑکی اتوار کی شام کو سری نگر کے صدر اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق ضلع شوپیان کے زونی پورہ میں گذشتہ رات آصف نامی ایک 13 سالہ کمسن لڑکا اُس وقت ہلاک ہوا جب سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھولے ۔ سری نگر کے ٹینگ پورہ بتہ مالو میں اتوار کی سہ پہر 24 سالہ شبیر احمد میر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ سیکورٹی فورسز نے شبیر کو اُس وقت گولیاں کا نشانہ بنایا جب علاقہ میں کسی بھی طرح کا احتجاج نہیں ہورہا تھا۔ تاہم شبیر کی ہلاکت کے بعد علاقہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے تھے ۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ علاقہ میں مزید احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے بتہ مالو پولیس تھانے کے تحت آنے والے علاقوں میں بھی آج کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی گئیں۔ سری نگر کے شہر خاص اور ڈاؤن ٹاون میں پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، رعناواری، ایم آر گنج، صفا کدل اور خانیار جبکہ سیول لائنز میں پولیس تھانہ مائسمہ کے تحت آنے والے علاقوں میں 9 جولائی کی صبح کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اتوار کو ایک پولیس اہلکار اُس وقت ڈوب کر ہلاک ہوگیا جب ایک مشتعل ہجوم نے جموں وکشمیر پولیس کے ایک موبائیل بنکر کو دریائے جہلم میں دھکیل دیا۔ ایک مقامی روزنامے نے 9 اور 10 جولائی کو سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے 11 نوجوانوں کی شناخت ثاقت منظور میر ساکنہ کھندرو اچھہ بل، خورشید احمد بٹ ساکنہ ہروت کولگام، سفیر احمد بٹ ساکنہ چراری گام اننت ناگ، عادل بشیر ساکنہ ڈورو اننت ناگ، عبدالحمید موچی ساکنہ آرونی کولگام، دانش یعقوب شاہ ساکنہ اچھہ بل اننت ناگ، جہانگیر احمد گنائی ساکنہ حسن پورہ بج بہاڑہ اننت ناگ، شوکت احمد میر ساکنہ حسن پورہ بج بہاڑہ اننت ناگ، آزاد حسین ساکنہ شوپیان، اعجاز احمد ٹھوکر ساکنہ سلہ گام سیر ہمدان اننت ناگ، محمد اشرف ڈار ہل پورہ کوکرناگ اننت ناگ، حسیب احمد گنائی ساکنہ بتہ پورہ کھنہ بل، امتیاز احمد منڈو ولد محمد شفیع ساکنہ منڈ پورہ کھنہ بل اننت ناگ، معشوق احمد ساکنہ کنڈ قاضی کولگام، محمد الطاف راتھر ساکنہ راجپورہ پلوامہ، فیاض احمد میر ساکنہ لتر پلوامہ، عرفان احمد ملک ساکنہ ورون نیوہ پلوامہ، گلزار احمد پنڈت ساکنہ موہن پورہ شوپیان، شبیر احمد میر ساکنہ ٹینگ پورہ بائی پاس سری نگر، فیروز احمد (پولیس اہلکار)، زبیر احمد ساکنہ کیموہ کولگام کی حیثیت سے ظاہر کی ہے ۔حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی و میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال میں 11 جولائی تک توسیع کا اعلان کر رکھا تھا۔ وادی میں جہاں بیشتر علیحدگی لیڈران بشمول مسٹر گیلانی اور میرواعظ کو نظر بند جبکہ یاسین ملک کو پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں مقید رکھا گیا ہے ۔ برہان اور اُس کے دو دیگر ساتھیوں کو 18 جولائی کی شام ضلع اننت ناگ کے ڈورو کوکرناگ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک شدید جھرپ میں ہلاک کیا گیا تھا۔ 21 سالہ برہان وانی کشمیر میں جنگجوؤں کی نئی نسل کا چہرہ اور پوسٹر بوائے کہلاتا تھا۔ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جنگجوؤں کی ویڈیوز، اپنے ویڈیو بیانات اور گروپ تصاویر پوسٹ کرنے کی بناء پر مشہور تھا۔ انہوں نے اپنے حالیہ ویڈیو بیان میں سیکورٹی فورسز اور جموں وکشمیر پولیس پر حملے کرنے کی دھمکی جبکہ کشمیر آنے والے امرناتھ یاتریوں کو کسی بھی صورت میں نقصان نہ پہنچانے کا اعلان کیا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے برہان کا پتہ بتانے والے کے لئے نقدی دس لاکھ روپے کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ برہان کی ہلاکت کے بعد سے پوری وادی خاص طور پر جنوبی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ برہان وانی کے رسم چہارم کے پیش نظر جنوبی کشمیر خاص طور پر ضلع پلوامہ میں آج کرفیو سختی سے نافذ رہا۔ اگرچہ کشمیر انتظامیہ نے اتوار کو وادی بھر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ، تاہم سری نگر کے سیول لائنز اور بالائی شہر میں اسے سختی سے نافذ نہیں کیا گیا ہے اور سڑکوں پر سیکورٹی فورسز کی بہت ہی کم تعیناتی دیکھی گئی۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر ڈاکٹر اصغر سامون نے کل نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ وادی میں امن وامان کی صورتحال کو بنانے رکھنے کے لئے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ جموں وکشمیر کی کابینہ نے کل وادی کی موجودہ صورتحال کے نتیجے میں ہونے والے انسانی جانوں کے اتلاف پر افسوس اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے امن کی بحالی کے لئے سیاسی جماعتوں کاتعاون طلب کیا ۔کابینہ اجلاس کے بارے میں میڈیا نمائندوں کو تفصیلات دیتے ہوئے حکومتی ترجمان نعیم اختر نے کہا تھا’ کابینہ میٹنگ میں انسانی جانوں کے اتلاف پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں بشمول مین سٹریم و علیحدگی پسند جماعتوں سے قیام امن میں تعاون دینے کی اپیل کی گئی کیونکہ تشدد سے نہ ماضی میں کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ اب کوئی مسئلہ حل ہوگا’۔نعیم اختر نے کہا تھا کہ کابینہ نے سول سوسائٹی اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو تشدد پر آمادہ نہ ہونے دیں اور سرکاری و غیر سرکاری جائیداد کے علاوہ پولیس و فورسز تنصیبات کو نقصان پہنچانے سے روکیں۔ انہوں نے کہا تھا ‘ بچوں کے تئیں والدین کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ اگر آپ ویڈیو دیکھیں گے تو آپ چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں بھی پتھر دیکھیں گے ، جن کو خود بھی پتہ نہیں ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں’۔ وادی کشمیر اور جموں خطے میں پیر کو تیسرے روز بھی موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں۔وادی میں یہ خدمات 8 اور 9 جولائی کی درمیانی رات جبکہ جموں میں 9 جولائی کی شام کو معطل کردی گئیں۔ موبائیل انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے عہدیدار نے بتایا کہ انہیں سیکورٹی انتظامیہ کی جانب سے موبائیل انٹرنیٹ خدمات تاحکم ثانی بند رکھنے کی ہدایات ملی ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ انہیں خدمات بند رکھنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام کسی بھی طرح کی افواہوں کو روکنے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری آنے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ خدمات بحال کردی جائیں گی۔ ڈویژنل کمشنر جموں ڈاکٹر پون کوتوال کے مطابق وادی کشمیر کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر جموں ضلع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس آج تیسرے دن بھی معطل رہی۔ ریلوے ایک افسر نے بتایا کہ وادی میں ریل سروس سیکورٹی وجوہات کی بناء پر آج تیسرے دن بھی معطل رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل گاڑیاں آج بھی پٹری پر نہیں دوڑیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں ہڑتالوں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا، اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر 300 کلو میٹر طویل سری نگر جموں قومی شاہراہ اور تاریخی مغل روڑ کو آج تیسرے دن بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رکھا گیا۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ شاہراہ پر گذشتہ تین دنوں کے دوران مختلف مقامات خاص طور پر جنوبی کشمیر اور بانہال میں پر تشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد اس شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت اتوار کو معطل کردی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی مسافر یا مال بردار گاڑی کو آج سری نگر سے جموں یا جموں سے سری نگر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو جموں خطہ کے راجوری اور پونچھ اضلاع سے جوڑنے والے تاریخی مغل روڑ کو بھی گاڑیوں کی آمد ورفت کے لئے بدستور بند رکھا گیا ہے ۔ کشمیر کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے مال بردار گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد سری نگر جموں قومی شاہراہ پر درماندہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ وادی میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے مدنظر تقریباً تمام تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیوں نے 11 جولائی تک لئے جانے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر نے 18 جولائی تک لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

About the author

Taasir Newspaper