اردو | हिन्दी | English
217 Views
Politics

کشمیر میں تشدد پاکستانی دہشت گردی کا نتیجہ : مودی

1
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی’ 12اگست (یوا ین آئی) کشمیر میں تشدد کو پاکستانی اعانت یافتہ دہشت گردی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ دہشت گردی سے پوری سختی سے نمٹا جائے گا او رقانون کی حکمرانی کے تئیں ہندوستان کی عہد بندی کو مخالف طاقتوں کو ہندوستان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے ۔مسٹر مودی نے وادی کشمیر کی موجودہ صورت حال پر غور کرنے کے لئے یہاں ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں اپنی اختتامی تقریر میں کہا کہ حکومت کشمیر کے معاملے پر آئین کے بنیادی اصولوں کے تحت مستقل اور پرامن حل کے تئیں عہد بند ہے اور اس کے لئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ذریعہ دکھائے گئے راستے پر عمل کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی حکومت وہاں کے ہر کسی شخص کی تمام جائز شکایتوں کو سنے گی اور انہیں دور کیا جائے گا لیکن تشدد’ دہشت گردی اور ہندوستان مخالف سرگرمیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔وزیر اعظم نے کشمیر میں 1989-90میں دہشت گردی شروع ہونے سے آج تک سیکورٹی فورسیز کی کارروائی میں ضبط ہتھیاروں او راس دوران پانچ سو سے زیادہ غیر ملکی دہشت گردوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواہ لاکھ جھوٹ بولے لیکن سرحد پار دہشت گردی کے سلسلے میں دنیا اس کی باتوں پر قطعی بھروسہ نہیں کرے گی۔انہو ں نے کہا کہ اتنے ہتھیار برآمد ہوں اتنے غیر ملکی دہشت گرد وادی میں مار کاٹ کے لئے آئیں ہو’ پھر پاکستان لاکھ جھوٹ بولے تو بھی دنیا کبھی اس کے جھوٹے پروپگنڈہ کو تسلیم نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے اب وقت آگیا ہے کہ وہ دنیا کے سامنے بلوچستان اور اپنے قبضے والے کشمیرمیں لوگوں پر ہونے والی زیادتیوں کا جواب دے ۔مسٹر مودی نے جموں کشمیر کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے حکومت کی عہد بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف بھی ہندوستانی قوانین جتنے انسانی ہیں اتنے دنیا کے کسی اور جمہوریت میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومتوں اور سیکورٹی فورسیز نے ان واقعات سے نمٹنے میں بہترین تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ۃوزیر اعظم نے کہا کہ کچھ عناصر کے پروپگنڈے کے باوجود کشمیر میں غلط فہمی اور عدم تشدد پھیلانے والوں او ربچوں کو اکسانے والوں کا فیصد بہت کم ہے ۔ ہر کشمیری امن چین چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون و انتظام کے لئے وہاں کچھ اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ امن پسند عوام کی زندگی پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں لیکن عام شہریوں کو ان سے اتنی پریشانی نہیں ہوئی جتنی علیحدگی پسندوں کے ذریعہ ہڑتال کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ کل جماعتی میٹنگ میں تمام پارٹیوں کا ایک نمائندہ وفد وہاں بھیجنے کے سلسلے میں فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا لیکن سبھی نے وادی میں بحالی امن کے اقدامات پر غورکرنے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ہندوستانی مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے جنرل سکریٹری اور ممبر پارلیمنٹ سیتا رام یچوری نے چار گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ تمام سیاسی پارٹیوں نے وادی کشمیر کے لوگوں میں اعتماد کی بحالی کے اقدامات کرنے کی ضرورت پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ میٹنگ میں ان لیڈروں نے سبھی متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کئے جانے پر زور دیا۔مسٹر یچوری نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت وہاں کل جماعتی نمائندہ وفد بھیجنے سے پہلے ”گراؤنڈ ورک،، کرنا چاہتی ہے ۔ سی پی آئی ۔ایم کے لیڈر کہا کہ ان کی پارٹی کاخیال ہے کہ علاحدگی پسندوں لیڈروں سمیت تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت شروع کی جانی چاہئے اور ایسا پہلے بھی ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ وہاں کے مسائل کے حل کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ۔مسٹر یچوری نے کہاکہ کشمیر میں نوجوان جہاں کہیں بھی ہیں ان پر کسی طرح کا حملہ نہیں کیا جانا چاہئے اور اس سلسلہ میں حکومت سے ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے نہ تو سیاسی پارٹیوں کے مطالبات کو منطور کیا ہے اور نہ ہی مسترد کیا ہے ۔راشٹریہ جنتا دل ( آر جے ڈی) کے لیڈر جے پرکاش نارائن یادو اور شیو سینا کے سنجے راوت نے کہا کہ وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال کے سلسلہ میں تمام سیاسی پارٹیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعہ وہاں کے مسائل حل کئے جانے پر زور دیا ہے ۔

About the author

Tariq Hasan