اردو | हिन्दी | English
122 Views
Politics

کوئی بھی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے لوگوں کابھروسہ ٹوٹے: وزیر اعلیٰ

nitish-kumar
Written by Taasir Newspaper

شراب بندی سے گھریلو تشدد ختم ہوگا اور دیگر سماجی فائدہ ملے گا:نتیش کمار

پٹنہ، 11اپریل (طارق حسن): جنتا کے دربار میں وزیراعلیٰ پروگرام کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے جے ڈی یو کے قومی صدر بننے کے سوال پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے۔ شرد یادو اب قومی صدر کے طور پر کام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لئے خواہشمند نہیں ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ مجھے اس ذمہ داری کو سنبھال لینا چاہئے۔ قومی صدر کے طور پر میرے اوپر ذمہ داری آگئی ہے۔ پہلے بھی ہم پارٹی کا کام کرتے رہے ہیں۔ سب لوگوں کی خواہش کو ہم نے قبول کیا ہے اور اپنی اس ذمہ داری کو نبھائیں گے۔ اس سے بہار کے کاموں میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔ بہار کے لوگوں نے جو ذمہ داری مجھے دی ہے، وہ میری پہلی ترجیح ہے۔ پارٹی کی ذمہ داری بھی نبھاتا رہوں گا۔ قومی صدر کا انتخاب پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں 23 اپریل 2016 کو پٹنہ میں جے ڈی یو کے قومی کونسل کی میٹنگ ہوگی، جس میں قومی صدر کے انتخاب کو انڈورس کیا جائے گا، ساتھ ہی موجودہ سیاستی صورتحال پر چرچا کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے سامنے کوئی بھی قومی مدا آیاہے تو انہوں نے ہمیشہ اپنی واضح رائے رکھی ہے۔ وہ گاندھی، لوہیا، جے پرکاش نارائن کے ذریعہ دکھائے گئے راستے پر چلنے والے ہیں، ان کی پالیسی اور رائے اسی پر منحصر ہے۔ وزیراعظم کی سبھی خوبیاں موجود ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں کسی عہدہ کی دعویداری نہیں کرتا ہوں۔ بہار میں جو کام کررہا ہوں، وہ بھی ملک کے مفاد کا ہے۔ قومی مدوں پر اپنی واضح رائے ظاہر کرتا ہوں اور یہ میری ذمہ داری ہے۔ کس شخص میں کتنی صلاحیت ہے، اس کا فیصلہ لوگ کریں گے۔ بہار کے تئیں جو میری ذمہ داری ہے اور بہار کے لوگوں نے جو مجھے لگاتار تیسری مرتبہ مینڈیٹ دیا ہے، میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کرتوں گا، جس سے لوگوں کا بھروسہ ٹوٹے۔ پارٹیوں کے انضمام اور اتحاد کے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2014ء لوک سبھا انتخاب کے بعد ہم لوگ مسلسل بھاجپا کے مخالف لوگوں کو متحد کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ (باقی صفحہ 7 پر)بہار اسمبلی انتخاب میں عظیم اتحاد کی بڑی کامیابی لوگوں کے لئے ایک مثال ہے۔ اس سے ملک میں ایک نئی امید کی کرن دکھائی دی ہے۔ ہم لوگ بڑے پیمانے پر اتحاد کے کوشاں ہیں، جس میں پارٹیوں کا ملن، مورچہ، گٹھ بندھن جیسے مختلف امکانات ہیں، کوئی ایک نہیں۔ سبھی کا من ہے کہ کوئی نیا گٹھ جوڑ چاہئے، جو بھاجپا کو اقتدار سے دور کرسکے۔ سبھی پارٹیوں کا انضمام ہی ایک واحد حل نہیں ہے بلکہ کئی متبادل ہیں۔ آج بہار کی کامیابی سب سے بڑی مثال ہے۔ امکانات کے کئی دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ بھاجپا کی پالیسیاں جمہوریت اور ملک کے اتحاد و سالمیت کے لئے خطرہ ہے اور آج سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدم رواداری کا ماحول تیار کرکے لوگوں کا دھیان اصل سوال سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سبھی پارٹی اپنے اپنے آئین کے مطابق کام کرے گی۔ جو بھی اتحاد بنے گا، اس میں نظریاتی اتحاد اور پروگراموں کا اتحاد ہوگا۔ بہار ایک مثال ہے، جہاں تین پارٹیوں کا عظیم اتحاد ہے اور تینوں پارٹیوں کے بیچ آپسی تعاون، تال میل اور نظریاتی اتحاد ہے اور ہم لوگوں نے ایک مشترکہ پروگرام تیار کیا ہے اور اسے لاگو کرنے کے لئے کام کررہے ہیں۔ ہم سب سے بڑا اتحاد، جو ممکن ہوسکے گا، اسے بنانے کی کوشش کریں گے۔ گورنینس کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے سات عزائم میں سے ایک عزم لاگو کردیاہے۔ خواتین کو سبھی سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد کا ریزرویشن دیا گیا ہے۔ باقی عزائم لوگوں کو بنیادی سہولیات دستیاب کرانا، جیسے گھر گھر کا نل کا پانی، بجلی، گلی، نالی کی پختہ کاری، طلبا کو اعلیٰ تعلیم اور روزگار اور کوشل وکاس کی سہولت وغیرہ لاگو کرنے کے لئے کام کیا جارہاہے۔ ہم سات عزائم کو پورے طور پر لاگو کریں گے اور دکھائیں گے کہ انصاف کے ساتھ ترقی کیسے ہوتی ہے۔ ہم عوامی شکایت ازالہ ایکٹ لاگو کرنے جارہے ہیں، اس کے لئے دستور العمل بنا لیا گیاہے۔ جون کے پہلے سوموار سے یہ شروع ہوجائے گا۔ 5جون کو عوامی شکایت ازالہ ایکٹ کی باضابطہ شروعات کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ سبھی ضلعوں میں طلبا کے لئے ایک رجسٹریشن سینٹر بنانے کی بڑے پیمانے پر تیاری کی جارہی ہے۔ ساری تیاریاں ہورہی ہیں۔ سبھی تیاری ستمبر تک پوری کرلی جائے گی اور 2 اکتوبر سے اسے لاگو کیا جائے گا۔ اب طلباکو اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ، امدادی بھتہ، کوشل وکاس وغیرہ کے لئے ایک ہی سینٹر پر درخواست دینی ہوگی۔ شراب بندی کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج شراب بندی کی مانگ پورے ملک میں کی جارہی ہے۔ شراب بندی کے لئے تمل ناڈو اور جھارکھنڈ میں مانگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شراب بندی کے وقت ہم نے سبھی پہلوؤں پر غور کیا تھا۔ سبھی ضلعوں میں لوگوں کو شراب کی عادت چھڑانے کے لئے ڈایڈکشن سینٹر کا قیام کیا گیا ہے، جہاں پر ڈاکٹر اور کاؤنسلنگ لوگوں کو دستیاب کرائی جاتی ہے۔ ڈی ایڈکشن سینٹر کی مانگ کو دیکھتے ہوئے ہم نے صحت محکمہ کو ڈی ایڈکشن سینٹروں کی تعداد اور سینٹر پر توسیع بڑھانے کا حکم دیاہے، جس پر کام شروع ہوگیا ہے۔ ہم شراب کے خلاف ہیں۔ فرد کے خلاف نہیں۔ غلطی کرنے پر سزا قانون کے مطابق دی جائے گی۔ شراب کی عادت سے کسی کی موت ہونے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مہلوک شخص کے گھروالوں کو ضروری امداد دی جائے گی۔ شراب بندی سے سیاحتی صنعت پر اثر پڑے گا، کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے یہاں زیادہ تر سیاح جو آتے ہیں، وہ مذہبی سیاح ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وزیر اعلیٰ نے صاف کہا کہ اگر شراب پینا ہے تو یہاں مت آئیں۔ انہوں نے کہاکہ شراب بندی سے لوگوں کی سطح زندگی میں اضافہ ہوگا اور بہار میں دیگر تجارت بڑھے گی۔ شراب بندی سے گھریلو تشدد ختم ہوگی اور دیگر سماجی فائدہ ملے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ہم نے سوچ سمجھ کر شراب بندی کا فیصلہ لیا ہے، جسے بہار میں مکمل حمایت ملی ہے، ساتھ ہی پورے ملک سے حمایت مل رہی ہے۔ آج تمل ناڈو، جھارکھنڈ وغیرہ ریاستوں میں شراب بندی کی مانگ کی جارہی ہے۔ بہار سے ایک ایسی عوامی تحریک کی جوالا نکلی ہے، جو پورے ملک میں دھیرے دھیرے لاگو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شراب بندی کے حق میں پورا بہار ہے۔ انہوں نے سبھی کو رائے عامہ کے ساتھ مل کر چلنے کو کہا۔

About the author

Taasir Newspaper