اردو | हिन्दी | English
351 Views
Deen

گستاخ رسول کو معاف کرنے کا حق کس کو؟

Gustakh-Rasool
Written by Taasir Newspaper

ہماری قوم کی یادداشت بہت کمزور ہو گئی ہے ۔وہ کسی مسئلے اور کسی بات کو ایک دو روز میں ہی بھلا دیتی ہے ۔اب اگر کسی واقعہ کو مہینوں یابرسوں بیت جائے تو اسے کون یاد رکھتا ہے ۔جنوری 2015 میں اردو اخباروں کو داغ لگانے کا کام جس خاتون ایڈیٹر نے انجام دیا تھا اس کو بھی ہمارے ارباب دانش جن کا تعلق اردو صحافت سے ہے، بھلا دیا ۔یہی سبب ہے کہ وہ خاتون گستاخ رسول نے نو تخلیق تنظیم اردو جرنلسٹس ایسو سی ایشن کے 6 ؍ اپریل کے پروگرام میں شرکت کی جرات کی ۔لیکن ایک سوال تو یہ اٹھتا ہی ہے کہ کیا یہ اس کی ذاتی جرات ہے ؟حالات اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ اس نے کسی کی شہہ پر کیا ہے ۔اس کو شہ کس نے دیا اور کون اس کو پروموٹ کررہا ہے ۔یہ سبھی جانتے ہیں کہ اس کی دریدہ دہنی کرنے کے وقت سے ہی ایک اردو روزنامہ کے مالک و مدیر اس کی حمایت و نصرت میں پیش پیش ہیں ۔اور یقینی طور پر مذکورہ پروگرام میں اس کی شرکت بھی ان کی ہی مرضی سے ہوئی ہوگی ۔کیوں کہ اس کی جس ذلیل حرکت کی وجہ سے کم از کم اردو صحافت سے اس کا بن واس ہو چکا تھا ۔اور اس کے حمایتی اسے دوبارہ اردو صحافت کا حصہ اور ملت کا جز بنانے کی سعی لا حاصل میں جٹے ہوئے ہیں ۔ یہ جرات صرف اس لئے کی جارہی ہے کہ ہم میں بھول جانے کا رجحان کچھ زیادہ ہی ہے ۔بھلا مسلمان نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کو بھول بھی سکتا ہے ۔اور کیا اسے بھول بھی جانا چاہئے ۔اس سلسلے میں میرا ایک ہی سوال ہے کہ اگر کوئی غیرت مند ہے اور اس کی حس بھی زندہ ہے تو کیا وہ اپنے ماں باپ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو معاف کردے گا اور اسے بھلابھی دے گا۔اس کا جواب یقیناًنفی میں ہوگا۔تو پھر ماں باپ ،جان و مال سے زیادہ عزیز شخصیت جس کی محبت دلوں میں جاگزیں ہوئے بغیر ایمان کا کوئی تصور ہی نہیں اس محبوب کی شان میں گستاخی کرنے والے کو ہم کیوں کر بھلا سکتے ہیں ۔یا ہم مسلمانوں میں بھی دوغلے کردار اور دورخے لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے۔
جب 6 ؍اپریل کے پروگرام میں ملعونہ آئی تو اس کا کسی کو پتہ نہیں تھا ۔یا ہو سکتا ہے کہ چند لوگوں کو پتہ ہو ۔احتجاج کرنے اور صدر تنظیم اردو جرنلسٹس ایسو سی ایشن کے روح رواں کہتے ہیں کہ اس (سکریٹری ) نے بلایا ہوگا ۔ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ آخر آپ کی اجازت کے بغیر کسی انتہائی متنازعہ خاتون کو کیسے دعوت دے دی گئی لیکن اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ۔لیکن ایک گروپ پر یہ کمینٹ پوسٹ کرنے پر کہ ’’ لگتا ہے کہ صدر تنظیم کی گرفت کمزور ہے ،اس لئے ایسی خاتون کو بلانے کی ذلیل حرکت کی گئی ‘‘۔ اس کمینٹ سے وہ ناراض نظر آئے ۔لیکن معاملہ اتنا سنجیدہ اور مسلمانوں کی غیرت کا امتحان لینے والا تھا کہ اس پر خاموش رہنے کا مطلب یہ تھا کہ اس گستاخ کو مسلمانوں نے بھلا دیا اور اسے کمیونٹی میں شامل کرلیا گیا ہے ۔اس لئے دوسرے اجلاس سے تین دن پہلے سے اسی تنظیم سے متعلق گروپ پر اس تعلق سے احتجاج اور جواب طلبی کی کوشش کی گئی ۔لیکن صرف چند گھنٹے قبل کچھ لوگ بولے اور شاید ایک گھنٹہ قبل ایک نائب ذمہ دار کا مسیج پوسٹ ہوا کہ آپ اطمینان رکھیں ’’اب وہ کبھی بھی اجلاس میں شامل نہیں ہو گی‘‘۔وہ شامل تو نہیں ہوئی لیکن اس اجلا س میں اردو صحافیوں کی حاضری انتہائی کم رہی ۔اس کی مختلف لوگ مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں ۔لیکن وہ میری دلچسپی کا مرکز نہیں ہے ۔میری دلچسپی کا مرکز صرف مسلمانوں کی بے حسی ہے ۔
میرے احتجاج اور اس کے جواب میں چند اور لوگوں کی حمایت پر کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ اس نے معافی مانگ لی ہے ۔اس لئے معاملہ ختم کر دینا چاہئے ۔ایک عالم کی بھی رائے تھی کہ عورت ناقص العقل ہو تی ہے اسے نظر انداز کردینا چاہئے۔حالانکہ میں نے قرآن و سنت میں عورت کے تعلق سے ایسے الفاظ نہیں دیکھے ۔ہاں کچھ صنفی کمزوری ضرور ہوتی ہے ۔لیکن جہاں تک میرے مطالعہ کا تعلق ہے اسلام نے خواتین کو عزت و وقار عطا کیا ہے ۔اسلام نے ہی سب سے پہلے اس نصف مخلوق کو وہ حقوق دئے جو آج کی جدید ترقی یافتہ دور میں بھی اسے نہیں ملے ۔بہرحال گفتگو کا مرکز یہ ہے کہ اگر اس کو ناقص العقل سمجھ کر معاف یا نظر انداز کردیا جائے تو پھر تسلیمہ اور شیطانی کتاب کے خالق کو کیوں نہ معاف کردیا جائے ۔اگر اسے نظر انداز کردیا جائے تو پھر ان لوگوں پر کیوں واویلا مچایا جاتا ہے ۔اوائل اسلام کے مسلمانوں کا ایمان ایسا تھا کہ ان کی کسی سے دشمنی اور دوستی صرف اللہ کے لئے ہوتی تھی ۔اسی لئے ان سے اللہ راضی ہوا اور اللہ نے انہیں زمین پر حکومت دی جس کی مثال دنیا دیکھنے سے قاصر ہے ۔جبکہ آج ہم اللہ کے لئے کوئی کام کوئی دوستی دشمنی نہیں کرتے بلکہ سب میں ذاتی مفاد مصلحت پنہاں ہوا کرتے ہیں نتیجہ، جو ذلت و رسوائی ہم نے یہودیوں کے دیکھی اور پڑھی ہے آج وہی ہم پر نافذ ہے ۔
میرے احتجاج میں اللہ جانتا ہے کہ میرا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے اور نہ ہی مجھے مذکورہ تنظیم سے کچھ امید ہے یا اس سے کچھ حاصل کرنے کی چاہت ہے ۔احتجاج تو صرف اس لئے جاری ہے اور رہے گا کہ مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا جاتا رہے ۔اور وہ میں کرتا رہوں گا ۔خواہ کوئی اس میں میرا ساتھی بنے یا نہ بنے ۔کیوں کہ نتائج کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے ۔مجھ سے تو صرف اتنا سوال ہوگا کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو تم نے کیا کیا ؟اس لئے مجھ سے جو ہو سکتا ہے وہ میں کررہا ہوں ۔نبی کی ایک حدیث یاد آرہی ہے ۔فرمایا ’’تم میں سے جو کوئی برائی ہوتا دیکھے اسے چاہئے کہ وہ طاقت سے روکے اگر وہ ایسا نہیں کرسکے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کو زبان سے برا کہے اور اگر ایسا بھی کرنے کے لائق نہیں تو اسے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمترین درجہ ہے ‘‘۔اللہ کا شکر ہے کہ مجھ میں ایمان کا اوسط درجہ موجود ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی تحریر اور زبان سے کسی بھی برائی کو برائی بولنے کی قوت مجھ میں ہے ۔اللہ قوت دے گا تو برائی کو قوت سے بھی روکوں گا ۔
آخری بات یہ کہ بعض احباب کے کہنے کے مطابق اس نے معافی مانگ لی ہے ،اسے معاف کردیا جائے ۔اول تو کسی گستاخ نبی کو معاف کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس نے ندامت کا اظہار کیا ہے اور کہ کیا اس کے عمل سے ظاہر ہے کہ یہ گستاخانہ کارٹون کی اشاعت سہواً سر زد ہونے والا فعل تھا جس میں اس کے ارادوں کو کائی دخل نہیں تھا۔میں نے بہت غور کیا ہر زاویہ سے پرکھا لیکن مجھے کہیں بھی ایسا نہیں لگا اسے اپنی کرتوت پر ندامت کا احساس ہے ۔الٹے اس نے اپنی حرکت کی توجیہہ کی نیز اس نے اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ذلت آمیز الفاظ سے نوازا ۔اگر کسی کو یقین نہ آئے تو فروری 2015 کے پہلے ہفتہ کے انگریزی اور ہندی اخبارات میں اس کے بیانات پڑھ لے ۔حد تو یہ ہے کہ اس نے ہندوستان ٹائمز کے رپورٹر کو یہ بیان دیا کہ اسے دفتر میں چھیڑا گیا تھا ۔اس پر اس نے رد عمل کے طور پر اس شخص کی سرزنش کروائی اور اخبار سے بے دخل کردیا ۔اسی سبب سے یہ لوگ اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں نیز اس کے خلاف جان بوجھ کر معاملہ کو طول دے رہے ہیں ۔ایک چھوٹے اردو اخبار کے ایڈیٹر و مالک کے احتجاج پر ہی اس کو عارضی طور پر گرفتار کیا تھا اور فورا ضمانت مل گئی ۔اس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے اخبار والے اس کے خلاف تحریک چلارہے ہیں ۔اسی طرح اس نے بڑی تنظیموں کے بارے میں کہا تھا انہوں نے میرے معذرت کو قبول کرلیا ہے ۔اس پر رضا اکیڈمی نے پریس کے لئے جاری اپنے بیان میں اس کی تردید کی تھی۔اب اس سلسلے میں میرا کہنا تجربات اور مشاہدات کی بنیا د پر یہ ہے کہ اس نے نہ ہی معافی مانگی ہے اور نہ ہی اس کے برتاؤ سے یہ لگتا ہے کہ وہ نادم ہے ۔اس لئے اس کے گناہوں کو نظر انداز کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ہمیں نہ کسی سے ذاتی دشمنی ہے اور نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں ۔لیکن اس کے بارے میں میرا موقف ہے کہ وہ کمیونٹی کا حصہ بن کر اس میں اپنی زہر ناکی نہ پھیلائے تو بہتر ہے اور اس کے لئے اردو کے ارباب دانش کو تعاون ضرور کرنا چاہئے۔

About the author

Taasir Newspaper