اردو | हिन्दी | English
198 Views
Science

گٹھیا کے مریضوں کے لیے لچکدار ہڈیاں تیار

GATHIYA KE
Written by Taasir Newspaper

نارتھ کیرولائنا: امریکی ماہرین نے تھری ڈی پرنٹر استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا ہلکا پھلکا، لچک دار اور مضبوط مادّہ تیار کرلیا ہے جو گٹھیا کے علاج میں مدد دے سکتا ہے۔ جوڑوں میں ایک خاص طرح کی چکنی اور لچک دار ’کرکری ہڈی‘ (کارٹی لیج) موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے دو مختلف ہڈیاں ا?سانی سے جوڑوں پر ایک دوسرے کے ساتھ حرکت کر سکتی ہیں۔ اسی کرکری ہڈی کی بدولت ہمیں اٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے ہموار انداز سے اپنی ہڈیوں کو حرکت دینے میں سہولت رہتی ہے لیکن اگر بیماری یا عمر رسیدگی کے نتیجے میں کوئی سی کرکری ہڈی متاثر ہوجائے اور اس میں لچک ختم ہوجائے تو گٹھیا کا مرض لاحق ہوجاتا ہے جو انگلیوں کی پوروں سے لے کر گھٹنوں اور ٹخنوں تک میں شدید تکلیف کی وجہ بنتا ہے۔ اگرچہ جوڑوں کی تکلیف اور گٹھیا سے نجات دلانے کیلیے دھات سے بنے ہوئے مصنوعی جوڑ دستیاب ہیں لیکن اوّل تو وہ بھاری ہوتے ہیں جبکہ کچھ وقت گزرنے کے بعد ان میں زنگ لگنا شروع ہوجاتا ہے اور صرف چند سال ہی میں انہیں دوبارہ تبدیل کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ شمالی کیرولائنا میں ڈیوک یونیورسٹی کے حیاتی انجینئروں (بایو انجینئرز) نے اس مسئلے کا حل ایک مصنوعی کرکری ہڈی کی شکل میں تیار کرلیا ہے جو بہت ہلکی پھلکی ہونے کے علاوہ بالکل قدرتی کارٹی لیج کی طرح لچک دار اور مضبوط بھی ہے۔ اسے بہت ہی خاص قسم کے ہلکے مادّے ’ہائیڈروجل‘ کی دو اقسام کو ا?پس میں یکجا کرتے ہوئے بنایا گیا ہے جن میں ایسا مواد بھی شامل ہے جو قدرتی کرکری ہڈی کو لچک اور مضبوطی عطا کرنے والے مادّوں سے بڑی مشابہت رکھتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہائیڈروجل پر مشتمل اس مصنوعی کرکری ہڈی کو تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے، مریض کے جوڑ کی ساخت کے عین مطابق تیار کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ کہ پہلے ایم ا?ر ا?ئی یا سی ٹی اسکین کی مدد سے متاثرہ فرد کی ناکارہ کرکری ہڈی کا احتیاط سے ناپ لیا جاتا ہے جس کے صرف چند گھنٹوں میں تھری ڈی پرنٹر سے اس کی مصنوعی نقل چھاپی جاسکتی ہے۔ فی الحال یہ طریقہ بالکل ابتدائی مراحل میں ہے جس کی تفصیلات امریکن کیمیکل سوسائٹی کے ریسرچ جرنل ’بایومٹیریلز سائنسز اینڈ انجینئرنگ‘ میں شائع ہوئی ہیں لیکن امید ہے کہ ا?ئندہ سات سے دس سال میں مختلف ا?زمائشوں سے گزرنے کے بعد اسے انسانوں میں باقاعدہ استعمال کی منظوری مل جائے گی۔

About the author

Taasir Newspaper