اردو | हिन्दी | English
213 Views
Sports

گیل کو آرام نہیں باہر کیا گیا تھا:وراٹ

Virat-Kohli
Written by Taasir Newspaper

موہالی، 9 مئی (یو این آئی) رائل چیلنجرز بنگلور کے کپتان اور سپر اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی نے واضح کیا ہے کہ ان کی ٹیم کے اسٹار اوپنر کرس گیل کو پنے کے خلاف گزشتہ میچ میں آرام نہیں دیا گیا تھا بلکہ انہیں ٹیم سے باہر رکھا گیا تھا۔وراٹ کی کپتانی والی بنگلور ٹیم نے ہفتہ کو رائزنگ پنے سپرجائنٹس کے خلاف سات وکٹ سے شاندار جیت درج کی تھی لیکن اس میچ میں گیل نہیں کھیلے تھے ۔گیل اپنی بیٹی ‘بلش ‘ کی پیدائش کی وجہ سے جمیکا میں اپنے گھر لوٹ گئے تھے اور اس وجہ سے وہ ٹورنامنٹ کے چار میچوں میں نہیں کھیلے تھے ۔36 سالہ گیل 25 اپریل کو بنگلور لوٹے تھے لیکن اس کے بعد وہ دو مئی کو کولکتہ نائٹ رائڈرس کے خلاف ہوئے میچ میں ہی کھیلے ۔اس سے پہلے وہ 30 اپریل اور سات مئی کو ہوئے بنگلور کے میچوں میں کھیلنے نہیں اترے تھے ۔گیل کے باہر رہنے کے بعد اوپننگ میں ان کی جگہ لوکیش راہل کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی جنہوں نے 51، ناٹ آؤٹ 51، 52 اور 38 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔وراٹ نے کہاکہ نہیں ،گیل کو آرام نہیں دیا گیا ہے ۔ہم نے ٹریوس ہیڈ کو ان کے مقام پر ٹیم میں شامل کیا۔ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں مڈل آرڈر میں مضبوطی چاہیے ۔ٹریوس بہترین بلے بازی کر رہے ہیں اور میں اور راہل بھی اچھی اوپننگ کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ٹریوس ضرورت پڑنے پر آف اسپن بولنگ بھی کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ گیل فی الحال خراب فارم کا شکار ہیں اور گزشتہ تین میچوں میں انہوں نے سات، صفر اور ایک رن کی اننگز کھیلی ہیں۔27 سالہ وراٹ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان بلے باز سرفراز خان کی چوٹ کو لے کر فکر کی کوئی بات نہیں ہے اور انہیں فٹ نیس کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ سرفراز گزشتہ تین میچوں میں آخری الیون کا حصہ نہیں بن پائے تھے ۔سرفراز نے اس سیزن میں پانچ میچوں میں 66 رنز بنائے ہیں۔کوہلی نے ہندستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ کیلئے ویٹوری کا نام تجویز کیا ہے ۔ اس سے قبل بھی ماضی میں ہندوستانی ٹیم کے کوچ کی تقرری کپتان کی تجویز پر کی جاتی رہی ہے اور گریگ چیپل اور گیری کرسٹن کی صورت میں ایسی دو مثالیں موجود ہیں۔ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ کوہلی نے ویٹوری کو کوچ بنانے کی تجویز پیش کی ہے لیکن ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا بی سی سی آئی سابق کیوی اسپنر کو کوچ بنانے کا سوچ رہا ہے۔
یا نہیں۔ہندوستان کو جون 2016 سے مارچ 2017 کے درمیان 18 ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں لہٰذاکوچ کی تقرری کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے ۔ڈینیل ویٹوری نے گزشتہ سال ورلڈ کپ فائنل میں نیوزی لینڈ کی شکست کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا لیکن فوراً بعد انہوں نے بحیثیت کوچ برسبین ہیٹ کی کوچنگ کی ذمے داریاں سنبھال لیں جبکہ اس سے قبل ہی وہ 2014 سے رائل چیلنجر بنگلور کے کوچنگ پینل کا حصہ ہیں۔ہندوستانی بیٹنگ اسٹار کوہلی نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ اگر وہ پاکستانی عظیم گیند باز وسیم اکرم کے دور میں کھیل رہے ہوتے تو ان سے خوفزدہ ہوتے ۔امریکی ٹیلی ویژن سی این این کو انٹرویو میں کوہلی نے کہا کہ وسیم انتہائی قابل فاسٹ بالر تھے اور اگر انہوں نے وسیم کے خلاف بیٹنگ کی ہوتی تو ان کی گیند بازی سے ڈر کا شکار ہوجاتے ۔ایک سوال پر بیٹنگ اسٹار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ہندوستانی کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام کا رشتہ ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے لیے پاکستان کے خلاف کھیلنا دیگر ٹیموں کے مقابلے میں مختلف ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اب ایسا نہیں ہے لیکن ابتدائی دنوں میں پاکستان کے خلاف میچ سے قبل میرا ذہن تبدیل ہونا شروع ہوجاتا تھا۔ اس وقت ان میچ کے حوالے سے میری کیفیت ایک مداح کی طرح ہوا کرتی تھی۔کوہلی نے بتایا کہ اس وقت انہیں علم نہیں تھا کہ ڈریسنگ روم میں دونوں ممالک کے کھلاڑی کس طرح ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔اگر آپ کبھی پاکستانی اور ہندوستانی کھلاڑیوں کا آپس میں بات کرتے دیکھیں تو ہنس پڑیں گے ۔ان کز مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے کھلاڑی ایک دوسرے کی زبان سمجھ سکتے ہیں جس سے کھلاڑیوں کے درمیان احترام کا رشتہ پیدا ہوجاتا ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper