اردو | हिन्दी | English
1040 Views
Health

ہارٹ اٹیک سے بچنا مشکل نہیں

hart ataik
Written by Tariq Hasan

*۔ شبنم خاتون
نوجوانی میں خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے کا احساس کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر جیسے جیسے عمر بڑھنے لگتی ہے ہم اپنے روز مرہ کے فیصلوں کے بارے میں زیادہ ناقدانہ انداز سے سوچنے لگتے ہیں جو مستقبل میں صحت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ فیصلے جودل یایوں کہہ لیں دل کے دورے کاخطرے بڑھانے یا کم کرنے کا باعث بنیں۔ ہارٹ اٹیک ہرسال دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی موت کا باعث بنتے ہیں اور پاکستان میں بھی ایسے افراد کی تعداد کم نہیں۔ مردوں اور خواتین میں ہارٹ اٹیک سے قبل کی کچھ علامات مشترک ہوتی ہیں مگر کچھ مختلف بھی ہوتی ہیں۔ مرد اور خواتین دونوں کو دم گھٹنے اور سینے میں دردیا سینے ، گلے ،جبڑے ، بازؤں اور کمر میں دباؤ کا احساس ہوسکتا ہے۔ اسی طرح دونوں صنفوں کو غیر معمولی تھکاوٹ ، سانس لینے میں مشکل ، کھانسی ، بیماری کااحساس اورقے جیسی علامات کا سامنا بھی ہوسکتا ہے تاہم مردوں میں کمزوری ، ٹھنڈے پسینے آنا اور سرچکرانا خواتین سے مختلف علامات ہوتی ہیں۔ اسی طرح خواتین میں نیند متاثر ہونا ، کھانا ہضم نہ ہونا اور ذہنی بے چینی کا احساس مختلف علامات ہیں یہ علامات اکثر ہارٹ اٹیک سے ایک ماہ قبل بھی سامنے آنے لگتی ہیں۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جوانی یا درمیانی عمر میں طرز زندگی کی چند عام تبدیلیاں عمر بڑھنے کے ساتھ ہارٹ اٹیک سے بچاؤ میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں ؟ وہ تبدیلیاں کیا ہیں آیئے ڈان کے توسط سے جانتے ہیں۔ مناسب نیند مگر بہت زیادہ نہین یہ حیران کن نہیں کہ آج کے دور میں بیشتر افراد نیند پوری نہیں کرتے اور یہ عادت متعدد طبی مسائل کا باعث بنتی ہے جن میں امراض قلب بھی شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق نیند کی کمی کی صورت میں جسم ردعمل کے طور پر ایسے ہارمونز کی سطح بڑھاتا ہے جو بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی سطح بڑھانے جبکہ صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ رات کو سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند اچھی صحت کے لیے ضروری ہے۔
جسمانی گرمیاں : صحت منددل کو مضبوط رکھنے کے لیے ورزش کو معمول بنانا بھی اہم ذریعہ ہے مگر اس حوالے سے بھی کچھ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ سال کی ایک تحقیق کے مطابق بہت زیادہ جسمانی کسرت اور ذہنی اشتعال بھی ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اس کا آسان حل بھی ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سفارشات کے مطابق ہفتے میں ڈیڑھ سومنٹ کی متعدل جسمانی سرگرمیاں جیسے تیز چہل قدمی بھی دل کی صحت بھی بہتری لاتی ہے۔
چاکلیٹ سے لطف اندوز ہونا ڈارک چاکلیٹ فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتی ہے کہ جوکہ بلڈ پریشر کوکم کرنے دل اور دماغ کے دوران خون کی روانی کو بہتر اور خون جمنے یالوتھڑا بننے کا خطرہ کم کرنے والا جز ہے۔ بازار میں کمپنیوں کی چاکلیٹ میں شکر اورمصنوعی اجزاء شامل ہوتے ہیں جبکہ ڈارک چاکلیٹ کے بار میں ستر فیصد کوکا ہوتا ہے جو صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
راگئے کھانے سے گریز :
آپ کے کھانے کا وقت بھی آپ کے خوراک میں شامل چیزوں کی طرح دل کی صحت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کوسونے کے وقت سے دو گھنٹے پہلے یااس کے دوران کھانے کی عادت کے نتیجے میں رات گئے بلڈ پریشر بڑھتا ہے جبکہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سونے سے کچھ دیر پہلے رات کا کھانا کھانے کی عادت ہدہضمی اور نیند متاثر کرنے کی باعث بنتی ہے۔
سگریٹ نوشی سے گریز : سیگریٹ کے پیکٹوں پر لکھا ہوتا ہے کہ تمباکوشی ہلاکت کا باعث ہے اور جان لیں کہ یہ عادت ترک کردی جائے تو یہ دنیا بھر میں اموات کی شرح میں نمایاں کمی لانے والی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ خاص طور پر سیگریٹ کا دھواں اڑانا دل کے لیے بہت نقصان دہ ہے کیونکہ یہ دل اور خون کی شریانوں کے نظام کو تباہ کرتا ہے اور شریانوں کی اکڑن کا خطرہ بڑھ دیتا ہے جو بعدازاں امراض قلب اور دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔
سالامہ چیک اپ : ویسے پاکستان میں اس کا رواج تو نہیں مگر اس حوالے سے شعور اجاگرکرنے کی ضرورت ہے ، سالانہ ایک بارطبی معائنہ ہر ایک کے دل کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے اور قبل ازوٹ ہی مسائل پر قابو پایاجاسکتا ہے۔

About the author

Tariq Hasan