اردو | हिन्दी | English
383 Views
Education

ہاسٹل میں شارٹس پہننے پر لگی پابندی ، طالبات نے کیا مظاہرہ ، پوچھا طالب علموں پر کیوں نہیں کوئی روک؟

MANIT-05

Posted on: Aug 05, 2016 08:49 PM IST | Updated on: Aug 05, 2016 08:50 PM IST

بھوپال : مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں واقع مولانا آزاد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ہاسٹل میں رات ساڑھے نو بجے تک پہنچنے کا وقت مقرر کرنے اور شارٹ اسکرٹ پہننے پر پابندی کی ہدایات کے خلاف طالبات نے جم کر ہنگامہ کیا۔ ادھر طالبات کے احتجاج کے معاملہ پر انتظامیہ کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

طالبات جمعرات کو صبح سے ہی انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف غصہ ظاہر کرتی ہوئی جمع ہوئیں اور جم کر نعرے بازی کی۔ طالبات نے کہا کہ انہیں رات ساڑھے نو بجے کے بعد ہاسٹل میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا ہے، وہ کوچنگ جاتی ہیں۔ ان کی کئی سہیلیاں پلیس منٹ کی تلاش میں تاخیر سے ہاسٹل لوٹ پاتی ہیں، اس صورت میں انہیں کئی مرتبہ لابی میں ہیرات گزارنی پڑتی ہے۔ اتنا ہی نہیں چوکیدار تک فقرے بازی کرتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ طالبات کو اس سے پہلے ساڑھے 10 بجے تک ہاسٹل میں داخل ہونے دیا جاتا تھا، گزشتہ دنوں ہی وقت میں تبدیلی کی گئی، جس کی وجہ سے طالبات کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ بارش ہونے کی وجہ سے انہیں ہاسٹل پہنچنے میں کئی مرتبہ تاخیر ہو جاتی ہے۔

ایک طالبہ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہا کہ ڈریس کوڈ وہ ہے جس میں ہم خود کو کنفرٹیبل محسوس کریں ، ہم دوسروں کی کیوں سنیں؟ ہم کیوں نہ شارٹسپہنیں ؟ ساتھ ہی ساتھ انتظامیہ پر من مانی کا الزام لگانے والی طالبات نے نام ظاہر نہ کئے جائے کی بھی اپیل کی ہے، کیونکہ انتظامیہ نے انہیں اس معاملہ پر کسی سے بھی بات نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ادھر طالبات کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ہاسٹل اور کیمپس میں شارٹ اسکرٹ پہننے پر بھی روک لگا دی ہے۔ ہم ہاسٹل میں رہتے ہوئے کیا پہنیں ، اس کا فیصلہ کرنے کا حق انتظامیہ کو نہیں ہے۔

طالبات نے دن بھر احتجاج کیا اور تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ طالبات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ طالب علم اور طالبات کے ساتھ الگ الگ رویہ اختیار کر رہا ہے، طالب علم تو پوری رات گھومتے رہتے ہیں، ان پر کسی کا زور نہیں چل رہا، مگر طالبات کو بے وجہ پریشان کیا جا رہا ہے۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir