اردو | हिन्दी | English
74 Views
Deen

ہمارے لباس ،اٹھنا ،بیٹھنا اور ہمارے سارے اعمال سنتوں کے مطابق ہونا چاہئے

deen
Written by Taasir Newspaper

کانپور30 اپریل ( پریس ریلیز)۔ جمعیۃ علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام ہونے والے سہ روزہ عظیم الشان اجلاس معراج النبی ﷺ منعقدہ 29،30اپریل و یکم؍ مئی بمقام رجبی گراؤنڈ پریڈکانپور کے پہلے دن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دار العلو دیوبند کے استاذ حدیث حضرت مولانا مفتی محمد راشد صاحب قاسمی اعظمی نے فرمایا محدثین کرام ایک ایک حدیث کی تحقیق کیلئے ہزاروں میل کا سفر کرتے تھے ۔ آج تک دنیا کے کسی نبی اور شخصیت کی باتوں پر اتنی محنت نہیں کی گئی۔ حضور ؐ سے پہلے آنے والے کسی نبی اور دنیا کی بڑی شخصیت کی کوئی ایک بات بھی ہم کو صحیح طریقے سے معلوم نہیں ہے۔لیکن حضورؐ نے 23سالہ نبوی زندگی میں جو کچھ بھی رات یا دن میںآپ نے کرکے دکھایااور بتایا سب ہمارے پاس محفوظ ہے ۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چند حدیثیں عقل کے خلاف ہیں ۔ ہم سننے اور دیکھنے میں تو غلطی کر سکتے ہیں اسی طرح سے ہماری عقل بھی غلطی کر سکتی ہے اور پھر بھی لو گ اللہ کی لامحدود شریعت کواپنی محدود عقل سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگ حضور ﷺ کو ہونے والی معراج کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کیسے کوئی آدمی ایک ہی رات میں ساتوں آسمان کے اوپر جا کر جنت و جہنم دیکھ کر اور اللہ سے بات کرکے نماز کا تحفہ لے کر واپس آ جائے گا؟ ان کیلئے مولانا نے فرمایا کہ اللہ نے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کو ساری کائنات میں ہر اعتبار سے افضل اور برتربنایا ہے، اور جب آج ہم معمولی انسانوں کو چند گھنٹوں میں آسمانوں میں پرواز کرکے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ، چاند اور منگل پر جاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں تو وہ خدا جو اس کائنات کا مالک و خالق ہے کیا وہ اپنے محبوب کو آسمانوں کی سیر نہیں کرا سکتا ؟ اس لئے ہم اس پر ذار غور کریں کہ ہم آخر کس کی بات کا انکار کر رہے ہیں؟اس کے بعد مدرسہ شاہی مراد آباد سے تشریف لائے نوجوان عالم دین حضرت مولانا مفتی عبد الرحمان قاسمی اپنے قیمتی و اصلاحی بیان میں فرمایا کہ دینی معاملوں میں انسان سے تبھی غلطی ہوتی ہے جب وہ اپنی عقل کا استعمال کرتا ہے ،دین اسلام کا تعلق عقل پرنہیں بلکہ نقل پر ہے ۔ جو ہمیں قرآن و حدیث سے ملاہے اور صحابہؓ ، ائمہ مجتہدین نے حدیثوں کی جو تشریحات کی ہیں وہی ہمارے لئے قابل اعتبار ہے ، ہم اسی کو مانیں گے اپنی عقل کے اوپر اعتماد نہیں کریں گے۔معراج کے سبق میں یہ بھی ہے دینی و شرعی معاملے میں عقل کا دخل نہیں ہے۔جو حکم ، جیسا ، جب کا ہے ویسے ہی ہمیں تسلیم کرنا اور ماننا ہے ۔اپنے مالک کی باتوں کو پوری طرح سے مان لینا ہی اتباع ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہوتو اللہ سے محبت کی تکمیل اس وقت ہوگی جب تم محمد ﷺ کی کامل اتباع ومحبت کرنے والے ہوگے ۔ دنیا میں اگر کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کے ذریعہ کہی گئی ہر بات پر عمل کرتا ہے اور اس لئے اگر ہمیں اللہ کی رضا چاہئے اور اگر ہم حضرت محمد ﷺسے واقعی سچی محبت کرتے ہیں تو ہمیں حضرت محمدﷺ کے جیسے ہی اپنی شکلوں بنا لینی چاہئے ، ہمارے لباس ،اٹھنا ،بیٹھنا حتیٰ کے ہمارے سارے اعمال سنتوں کے مطابق ہونا چاہئے۔گھرکی عورتوں کو کثرت سے پردے کا اہتمام کرانا چاہئے اوردنیا کے لوگوں کی فکر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ دنیا والوں نے آج تک کسی کو نہیں چھوڑا پھر ہم اور آپ ان کے سامنے کیا ہیں ، اگر ہم خود اپنی فکر نہیں کریں گے تو یا د رکھیں شیطان نے اپنی پوری کوشش اور طاقت ہمیں جھوٹی ترقی کے نام پرماڈرن اوربے پردہ بنانے کیلئے جھونک دیاہے ،اب کوئی آسمان سے آکر ہماری فکر و اصلاح کرنے والا نہیں۔جلسے کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد اکرم جامعی نے انجام دئے ،امین الحق عبد نے نعت ومنقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر قائم مقام قاضی شہر کانپور مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی، جمعیۃ علماء شہر کانپو کے صدر مولانا انوار احمد جامعی،مفتی اظہار مکرم قاسمی، مولانا نور الدین احمد قاسمی، مولانا شفیع مظاہری، مولانا انصار احمدجامعی، مولانا اسلم جامعی، قاری عبد المعید چودھری، مولانا انعام اللہ قاسمی، مولاناانیس الرحمان قاسمی ،ڈاکٹر حلیم اللہ ، شارق نواب،حامد علی انصاری وغیرہ خصوصی طور سے موجود رہے۔ مولانا عبد الرحمان صاحب کی دعاء پر ہی پہلے دن کا جلسہ اختتام پذیرہوا۔

About the author

Taasir Newspaper