اردو | हिन्दी | English
174 Views
Deen

ہم اپنے مسائل تنہا حل نہیں کرسکتے

deen
Written by Taasir Newspaper

آئینی وقانونی چارہ جوئی کے ساتھ دیگر مذاہب و طبقات کے لوگوں کا تعاون حاصل کرکے ہی ان مسائل کا حل ممکن ہوسکتا ہے 

دربھنگہ۔15مئی(نمائندہ)۔ہم بے شمار مسائل سے دو چار ہیں لیکن ہم ان سب کو تنہا حل کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے بلکہ آئینی اور قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ملک کے دیگر مذاہب اور طبقات کے لوگوں کو ساتھ لے کر ان کا تعاون حاصل کرکے اور ان کے مسائل کے حل میں اپنا تعاون دے کر ہی ہمیں اپنے مسائل کا حل مل سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علما ہند کے قومی صدر مولانا قاری سید عثمان منصور پوری نے کیا۔ وہ دربھنگہ کے راج میدان میں جمعہ کی دیر شب جمعیۃ علما ہند ، ضلع دربھنگہ اور آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے مشترکہ بینر کے نیچے منعقد قومی ایکتا کانفرنس کو خطاب کررہے تھے۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں مختلف مذاہب، نسل، طبقات، ذات اور زبانوں کے رہنے والے لوگ ہیں اور تمام لوگوں کو یکساں مساوی حقوق حاصل ہیں۔ کوئی طبقہ علاحدہ طور پر اپنے سارے مسائل حل کرنا اور ترقی کرنا چاہے تو ممکن نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کو ایک دوسرے سے ساتھ مل جل کر اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہنا ہوگا۔ تبھی ہر ایک کو یکساں ترقی کے مواقع مل سکتے ہیں۔ جمعیۃ علما ہند ہمیشہ ایک دوسرے ساتھ لے کر چلتی رہی ہے جس طرح دربھنگہ میں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے ساتھ مل کر یہ کانفرنس منعقد کر رہی ہے اسی طرح دیگر جگہوں پر سرکردہ تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ دلت اور دیگر طبقات کو اپنے مسائل کے حل میں شریک کرتی ہے اسی طرح ان کے مسائل کے حل میں خود شریک ہوتی ہے۔ یہ جمعیۃ علما کا پرانا طریقہ رہا ہے۔ جمعیۃ کے اکابرین نے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کیا اور اپنے اور ملک کے دیگر طبقات کے مسائل بھی اٹھاتے رہے۔ ہم آج بھی ایسی جماعتوں کے ساتھ ہیں جو سیکولرزم پر یقین رکھتے ہوئے ملک کے تمام شہریوں کے مسائل کے حل کرنے اور انہیں ان کا حقوق دینے کے لیے آمادہ ہیں۔ قاری عثمان نے یہ بھی کہا کہ انسان جب تک بحیثیت انسان دوسرے انسان کا حق نہیں پہچانے کا وہ سچا اور پکا انسان اور مسلمان نہیں ہوسکتا ہے۔ وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ حاکم کو بلا اختلاف تمام رعایا کا خیال رکھنا ضروری ہے اور جب ان سے کوتاہی ہو تو یہ ہم سب کا فرض ہے کہ انہیں ان کا منصبی فریضہ یاد دلایا جائے۔ اس کانفرنس کا مقصد بھی سب سے ساتھ مل کر صاحبان اقتدار کو ان کا فریضہ یاد دلانا ہے۔ انہوں نے خطاب میں مسلمانوں کو بھی ان کی معاشی اور سماجی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیئے جانے کا مطالبہ کیاا ور تمام لوگوں سے اس کے لیے کوشش جاری رکھنے کی اپیل کی۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ ایک سازش کے تحت نہ صرف مدرسہ کے طلبہ بلکہ اعلی تعلیم یافتہ عام مسلم نوجوانوں دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں ڈال کر دسوں سال ناکردہ گناہوں کی سزا دی جاتی ہے اور سپریم کورٹ سے برسوں بعد انہیں انصاف ملتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ ان کی زندگی کے جو قیمتی ماہ وسال ناحق جیلوں میں کٹ گئے ان کا حل کیا ہوگاجن افسران نے ان پر جھوٹے الزامات عائد کیے ان کی سزا کیوں نہیں ہوتی اور پھر بے قصوروں کو تو پکڑ لیا جاتا ہے اور قصوروار بچ نکلتے ہیں اس کا حل کیا ہوگا۔ ان مسائل پر جمعیۃ علما انصاف پسند برادران وطن کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ مولانا نے مسلمانوں کے خلاف دیئے جانے والے بیان پرمسلمانوں سے اشتعال کا اظہار نہ کرنے اور خود کو ہمیشہ قابو میں رکھ کر قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ہر مسئلے کا حلکرنے کا مشورہ دیا۔اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری کہہ کر مشتعل کرتے ہیں ہمیں اس سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور کہا کہ برائی کا جواب برائی نہیں بھلائی ہے۔ مسلمان اس ملک کے اول درجے کے شہری ہیں اور رہیں گے۔یہ کانفرنس اس کا اعلان کرتی ہے۔ پروگرام کا اختتام مولانا حسین احمدمدنیؒ کے خلفیہ ومجاز مولانا اظہر کی نصیحت آمیز گفتگو اور دعا پر ہوا۔ اس سے قبل مولانا ناظم ، مولانا قاسم، مولانا انوار الحق، عنبر امام ہاشمی،کارواں کے صدر نظر عالم اور جمعیۃ علما دربھنگہ کے سکریٹری شعیب مکھیا وغیرہ نے بھی جلسے کو خطاب کیا۔ عنبر امام ہاشمی نے اپنے خطاب میں ملک میں مسلمانوں حاصل آئینی حقوق پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمیں اپنی قوم میں بیداری لانے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے قانون کا سہارا لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے آٹیکل ۳۰۔۲۹ کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو حاصل تعلیمی مراعات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آج بھی عام لوگوں میں اس ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی موجود ہے۔ تلاوت قرآن کے بعد پروگرام کا رسمی افتتاح قاری عثمان، مولانا اظہر، نظر عالم، شعیب مکھیا اور دیگر ذمہ داروں کے ساتھ جمعیۃ علما کی پرچم کشائی سے ہوا۔ اس موقع پر بیداری کارواں کے صدر نظر عالم اور جمعیۃ علما دربھنگہ کے سکریٹری شعیب مکھیا نے تمام مہمانوں کو شال اور گلدستہ سے استقبال کیا۔ پروگرام کی صدارت مولانا انوارالحق نے کی۔ جبکہ نظامت کے فرائض سمیع اللہ ندوی، شاہ عماد الدین سرور، اسعد ندوی نے مشترکہ طور پر انجام دیئے۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں دونوں تنظیموں کے پپو خان، اسعد ندوی، محمد کلام، جاوید کریم ظفر، نہال بیگ، سرور علی فیضی، وجے کمار جھا، منت اللہ، محمد اشرف، ہمایوں شیخ، قدوس ساگر، ساجد قیصروغیرہ سرگرم نظر آرہے تھے۔ پروگرام کے درمیان شہر اور قصبات کے ہزاروں سامعین موجود تھے۔

About the author

Taasir Newspaper