اردو | हिन्दी | English
381 Views
Deen

ہم رمضان مبارک سے نئی تعمیری راہ اپنائیں گے

Ramadan-Mubarak
Written by Taasir Newspaper
!کیا ہم ماہ رمضان کی حرمت کو نہیں جانتے

رمضان کا مہینہ انتہائی رحمتوں، فضیلتوں کا مہینہ ہے ۔۔اس مہینہ میں نیکیوں کے درجات اور مہینوں سے زیادہ ہیں ۔اس میں زیادہ سے زیادہ اپنا وقت عبادتوں نیکیوں میں صرف کرنا ضروری ہے۔ ہمارا اپنا موڈ اور زندگی کا طرز عمل بھی،رمضان کے مبارک مہینے میں نیکیوں اور اچھائیوں کی جانب راغب رہا کرتا ہے ۔ افسوس ناک پہلوہے کہ شیطان اس مبارک مہینہ میں بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا، وہ ہمارے نفس میں گھسا رہتا ہے۔ خدا کے نیک بندے اللہ کی حمد و شناء میں لگے رہتے ہیں۔ وہ شخصیت پرستی ، نفس پرستی کو مات دیتے ہوئے اللہ پرستی میں لگے رہتے ہیں۔ اسی مہینے میں بے پناہ اللہ پرستی کی بنا پر گویا ہماری تربیت ہو جایا کرتی ہے کہ سال بھر کے لئے ہم کو دین الہی پر مصمم عملی سطح پر چلنے کے لئے راستے ہموار ہو جایا کرتے ہیں۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم میں رمضان مبارک میں بھی فضول باتوں میں اپنا وقت برباد کرنے والے بھی ہیں۔ سیاست وہ بھی گندی سیاست سے دن کی ابتدا کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ سحری ہی سے غیر معیاری عملیات شروع ہو جاتے ہیں۔ خاص کر نوجوان اور بچے دنیاوی کھیلوں میں شریک ہوں۔کیا مبارک ماہ رمضان کو اسی خباثت میں برباد کردیں ۔زیادہ سے زیادہ تلاوت اور ذکر الہی کیوں نہیں؟ہمارے پیارے نبی سرکار دو عالم صلی علیہ و سلام نے ارشاد فرمایا جو شخص (روزے کی حالت میں)لغو باطل کلام اور بے ہودہ افعال نہ چھوڑے گا تو اللہ کو اس بات کی پرواہ نہ ہوگی کہ اس نے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ (بخاری) ہم ملکی آور بین الاقوامی سطح پر اک انتہاء پرآشوب دور سے گذر رہے ہیں.۔ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی خاطر ہمارے پاس کامیاب مستند نسخہ کیمیا یعنی قرآن اور سنت نبی صلی اللہ علیہ و سلام ہونے کے باوجود بھی ہمارے حالات انتہاء دگرگوں کیون ہیں۔ ہم یہ کہنے میں حق بہ جانب کیون ہیں کہ
رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر یہ اس لئے ہے کہ ہم نے قرآن اور سنتون پر چلنا ترک کر دیا۔ جب ہم اس پر عملی سطح پر گامزن رہے، اک دنیا سے لوہا لیا ،سر خرو و غالب رہے ۔ دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بحر طلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے ہم نے خالق کائنات کا بتلایا ہوا راستہ چھوڑ دیا غیر اللہ کے بتائے راستوں پر چل پڑے اسے اپنے فیشن میں اپنا لیا۔ تو جھکا غیر کے آگے تو تن رہا تیرا نہ من حد تو یہ رہی کہ زندگی پر چلنے کے لئے، خدا کے بتلائے راستون اوراللہ والوں کی ہم نے تضحیک کی۔اللہ کے بتلائے راستوں پر چلنے کو ہم نے حقیر سمجھا اور پھر ہم اک انتہاء پر آشوب دور میں گرے۔ کرکے سوراخ کشتیوں میں سوار ہیں ہم پہلے کم تھے شمار تھااب فقط بے شمار ہیں ہم ہمیں میر کارواں بننا تھا ہم گرد کارواں بن گئے زندہ رہنا ہے تو میر کارواں بن کے رہو زمین کی پستیوں میں آسمان بن کے رہو کیا ہماری عظمت گذشتہ ہمیں واپس مل سکتی ہے؟کیوں نہیں مل سکتی ہے۔ کی محمد ص ع و س سے وفا تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں ایک اللہ کی بندگی کو ہم نے ترک کر دیا، اس کے سامنے جھکنے کو عار سمجھنے لگے۔مصائب نے ہمیں گھیر لیا۔ انتہائی عمیق خند قوں میں گر گئے۔ وہ اک سجدہ جسے تو سمجھتا ہے گراں لاکھ سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات ہم میں کتنوں نے کعبہ اور قبلہ کو بدل لیا۔ شیطان نے غیر اللہ کی باتوں کو خوشنما بنا کر انسان کو گمراہ کرنے کا کام روز اصل سے شروع کر دیا ،جو آج انتہاء عروج پر ہے۔ آج پوری دنیا میں رقص و سرور ،جنگ وجدال،کمزوریوں، نا توان کا استحصال جس قادر عام ہے وہ شاید کبھی نہ تھا۔ اللہ نے ہمیں خیر امت بنایا۔ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے رمضان المبارک جیسے مبارک مہینے میں،افسوس ناک پہلو ہے کہ بدعتوں خرافات میں تضیع اوقات کر رہے ہیں ۔ گھروں سے کہیں فلمی گانوں کی آواز ،مسلم بستیوں میں سننے آ جاتی ہین۔ کہیں سحری ہوتے ہی زمانے کی گندی سیاست پر چرچے اور بحث ومباحثہ عام ہے۔ہمارے نوجوان اور بچے ہیں کہ غیر ضروری شوق وعادتوں کی لت میں رمضان کے مہینے میں بھی نظر آجاتے ہیں۔ سمجھا و ،تو جواب ملتا ہے کہ دل بہلا رہے ہیں۔ عجیب عالم ہے ک جن کندھوں پر ملت کا مستقبل انحصار کرتا ہے۔ وہ خرافات سے ،رمضان جیسے مبارک ماہ میں ،دل بہلاتے نظر آ رہے ہین۔لگتا ہے ان کے نزدیک اللہ نے یہ دنیا کھیل کھلونا سمجھ کر بناء ہے۔جس کے جو سمجھ میں آئے وہ کچھ بھی کرے۔ آئیں ہم سب مسلمان مل کر دعا کریں کہ اللہ ہم سب مسلمان کو گفتار کا نہیں کردار کا مسلمان بنا۔

About the author

Taasir Newspaper