اردو | हिन्दी | English
342 Views
Around the World Politics

ہند۔ایران تعلقات میں ایک نئی پیش رفت ؛لیکن

Narendra-Modi-and-Hassan-Rouhani
Written by Taasir Newspaper

ایران دنیا کا ایک انتہائی قدیم ملک ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال قدیم ہے ،ایک وقت ایسا تھا جب یہ دنیا کا سپر پاور ملک کہلاتھا ،روم اور فارس کی فوجی اور اقتصادی طاقت کے سامنے پوری دنیا ہیچ تھی ،اپنی برتری ثابت کرنے کیلئے ہمیشہ ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتے تھے ،فارس (موجودہ ایرا ن ) اپنی طاقت پر حد سے زیادہ نازاں تھا ،اپنی طاقت کے غرور میں شاہ فارس خسرو پرویز نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک بھی پھاڑ دیا تھا ،لیکن بہت جلد وہ وقت آگیا جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور یہ ملک خود ٹکروں میں بٹ گیا ،آپسی بغاوت نے اس کی طاقت کو منشتر کردیا ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں روم کے ساتھ ایران کی طاقت بھی مکمل طور پر پاش پاش ہوگئی،اسلامی فوج کے سامنے ان دونوں ملکوں کا عظیم لشکر خس وخاشاک کی طرح بہ گیا اور یہ اسلامی سطلنت کا حصہ بن گیا ،فتح کے بعد دھیرے دھیرے یہاں اسلام پھیلتا گیا۔موجودہ فارس اسلامی جمہوریہ ایران کہلاتاہے جوجنوب مغربی ایشیا کا ایک ملک اور مشرق وسطی میں واقع ہے۔ ایران کی سرحدیں شمال میں آرمینیا، آذربائیجان اور ترکمانستان، مشرق میں پاکستان اور افغانستان اور مغرب میں ترکی اور عراق سے ملتی ہیں۔ مزید برآں خلیج فارس بھی اس سے ملحق ہے،1,648,195 کیلو میٹر 636,372 مربع کیلومیٹر پر محیط ہے ،2016 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی کل آبادی آٹھ کڑور کے قریب ہے جس میں 90 فیصد سے زیادہ شیعہ مسلمان ہیں ،4 تا 8 فیصد سنی مسلمان ہیں ،اس کے علاوہ عیسائی ،یہودی ،ہندو اور دیگر مذاہب کے پیروکاربھی وہاں آباد ہیں ،عرصہ داراز سے یہاں زرتشت مذہب کے پیروکار تھے جنہوں نے اسلامی حکومت کے بعد مذہب اسلام کو قبول کرلیا ،15ویں صدی تک یہاں سنی مسلمان تھے ، تاہم 1501 میں صفوی سلطنت قائم ہو ئی جس نے 16ویں صدی میں مقامی سنی مسلم آبادی کو دباؤ کے ذریعے اثنا عشریہ اہل تشیع مسلم میں تبدیل کیا،آج اثنا عشرہ شیعہ اسلام ایران کا سرکاری مذہب ہے۔موجودہ ایران کی تاریخ 1979 کے انقلاب کے بعدسے شروع ہوتی ہے ، ایران میں طویل عرصے سے محمد رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت تھی جس کے خلاف ملکی سطح پر تحریک چلی ،آیت اللہ خمینی نے اس بغاوت کی قیادت کی اور کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد ایران اپنے دعوے کے مطابق مذہبی قانون پر عمل پیرا ایک اسلامی جمہوری ملک بن گیا ، انقلاب کے بعد ایران کو مختلف طرح کی پابندیوں اور عالمی برادری کی مخالفت کا سامنا کرناپڑا،مکمل طور پر اس کی ناکہ بندی کی گئی لیکن ایران نے ان سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اندورنی طور پر خود کو مضبوط کیا ،کسی طرح کی پابندی سے متاثر ہوئے بغیر اپنی مستحکم پالیسی مرتب کی ، ایٹمی ہتھیا راو رجوہری توانائی کے حصول کی جانب بھی توجہ دی اور اس میں اسے کامیابی بھی ملی۔آج ایران کا شمار تیل پیداکرنے والے دنیا کے اہم ترین ملکوں میں ہوتاہے ،کئی بڑے ممالک اس کے خریدار ہیں ،ہندوستان بھی ایران سے خام تیل درآمدکرنے والے ملکوں میں سرفہرست ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات بھی شروع سے استواررہے ہیں ،جن دنوں ایران پر امریکہ نے سخت پابندی عائد کررکھی تھی ان دنوں بھی ہندوستان امریکہ کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر ایران سے تیل درآمدکررہاتھا ،پابندیوں کے درمیان انڈیا کو ایران سے کافی مراعات بھی ملتی تھیں۔ خام تیل کی قیمتوں کی ادائیگی انڈین کرنسی روپے میں ہوتی تھی،ہندوستان دوائیں اور پابندیوں سے مستثنیٰ بعض دوشری اشیا بھی ایران کو برآمد کیا کرتا تھا ،ایران سے ہندوستان کے ہمیشہ قریبی تعلقات رہے ہیں۔ چند برس قبل ایران میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ایران میں ہندوستان کی مقبولیت تقریباً 70 فی صدتھی جو کہ دنیا کے سبھی ممالک سے زیادہ تھی،ہندوستان میں بھی ایران کے تعلق سے ایک مثبت رویہ پایاجاتا ہے،پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہندوستان نہ صرف تیل اور گیس کی اپنی مستقبل کی ضروریات کے لیے ایران کی طرف مائل ہے بلکہ وہ پابندیوں کے بعد ایران کی تعمیر نو میں سرمایہ کاری کا ایک بہترین موقع دیکھ رہا ہے،ایرانیوں کو بھی ہندوستان میں گہری دلچسپی ہے، بڑی تعداد میں ایرانی طلبہ انڈیا کی ٹکنالوجی اور سائنس کی مختلف یونورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں، ہندوستان شیعہ اسلام اور ثقافت کا بھی ایک اہم مرکز ہے جو دنوں ملکوں کے درمیان گہرے تعلقات کا ایک اہم پہلو ہے،گذشتہ اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ نے اس رشتے کو مزید مستحکم کردیا ہے ، دونوں ملکوں کے رشتے میں ایک نئی پیش رفت ہوئی ہے ، چاہ بہار بندر گاہ تعمیر کیلئے ہونے والے معاہدہ نے وسطی ایشا میں ہندوستان کو بہت مضبوطی فراہم کردی ہے اور اس معاہدہ کی وجہ سے پوری دنیا میں یہ دورہ موضوع بحث بناہواہے۔چابہاربندر گاہ پاکستان کی گوادر کی بندرگاہ سے تقریباً سو میل مغرب میں ایران میں واقع ہے،ہر سال موسم خزاں کے آغاز کے ساتھ ہی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد خوشگوارار آب و ہوا سے لطف اندوز ہونے کے لئے چابہار بندرگاہ کا رخ کرتی ہے،اسلامی جمہوریہ ایران کی چابہار بندرگاہ پر آنے والے سیاح قدرتی اور تاریخی مقامات کے ساتھ ساتھ یہاں جدید طرز کے شاپنگ سینٹرز سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور ناقابل فراموش یادیں سمیٹ کر جاتے ہیں، ان سب کے ساتھ چابہار بندرگاہ کو تجارت، کامرس اور نیوی گیشن کے لحاظ سے بھی ایک خاص اہمیت حاصل ہے ،یہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے کھلے سمندروں کے ذریعے تجارت کرنے کا اہم متبادل راستہ ہے ،اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر90 کی دہائی سے یہاں بندر گاہ بنانے کی کوشش جاری تھی جس پر گذشتہ پیر کو افغانستان ،ہندوستان اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ پر دستخط ہوگیا ہے جس کے بعد وسطی ایشاتک رسائی حاصل کرنے کیلئے پاکستان کی محتاجگی بھی ختم ہوجائے گی۔ نریندر مودی نے اپنے اس دورہ کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ سپریم لیڈر امام خامنہ ای سے بھی ملاقات کی ،مودی نے ملاقات کے دوران خامنہ ای کو قرآن کریم بطور تحفہ پیش کیا ،خامنہ ای کو پیش کیے جانے والے اس قرآن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت علی کے ہاتھوں کا تحریر کردہ ہے،7ویں صدی کا یہ قرآن خط کوفی میں ہے اور ہندوستان کی معروف رضا لائبریری رام پور میں موجود ہے، تحفے کے لیے اس کی خاص کاپی تیار کی گئی تھی،وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نریندر مودی نے ایرانی صدر حسن روحانی کو اردو کے معروف شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کے فارسی کلام کا ایک نسخہ پیش کیا۔کلیات فارسی غالب یہ کاپی خصوصی طور پر تیار کی گئی تھی۔1863میں شائع ہونے والی غالب کی اس فارسی کلیات میں مجموعی طور پر 11ہزار اشعار ہیں،اس کے علاوہ نریندر مودی کی جانب سے صدر روحانی کو سمیر چند کی فارسی میں ترجمہ شدہ رامائن کی کاپی بھی پیش کی گئی جس کا فارسی ترجمہ 1715میں کیا گیا تھا،یہ ترجمہ بھی رام پور رضا لائبریری میں ہے۔گذشتہ پندرہ سالوں میں ایران کا دورہ کرنے والے نریند ر مودی ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں ان سے قبل ان کے تین وزراء سشما سوراج ،نتن گڈکری اور دھرمیندر پردھان ایران کا دورہ کرچکے ہیں ،اس دورہ کے دوران نریند ر مودی کو وہ اعزاز نہیں مل سکا جو ہندوستان جیسے عظیم ملک کیلئے ہوناچاہئے تھا ،صدر اور اہم عہدہ پر فائز کوئی بھی شخص ایئر پورٹ پر استقبال کرنے بھی نہیں آیا تاہم نریندر مودی کایہ دورہ کامیاب کہاجارہاہے کیوں کہ چا بہارمعاہدہ سے براہ راست وسطی ایشاتک ہندوستانی کی رسائی ہوجائے گی اور پاکستان میں چین کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر یہ بہت ضروی بھی تھا ،لیکن قابل دیدبات یہ ہوگی کہ ہندوستان سعودی عرب اور ایران میں سے کس کے ساتھ زیادہ دوستی کا حق ادا کرے گا ،دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازعات میں ہندوستان کس کے ساتھ کھڑا ہوگاکیوں کہ گذشتہ ماہ دورہ سعودی عرب کے دوران نریندرمودی کوبہت زیادہ اعزاز سے نوازاگیاجس کے پس پردہ ہندوستان کی حمایت بھی مقصودتھی،سعودی عرب نے ہندوستان پر اس لئے بھی توجہ مرکو ز کی کہ وہاں تیس لاکھ ہندوستانی قیام پذیر ہیں اور ہندوستان کی معیشت کو مستحکم بنانے میں سعودی عرب کا شروع سے نمایاں کردارادا کررہا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper