اردو | हिन्दी | English
249 Views
Politics

یونیورسٹیوں کو سیاست کا میدان نہ بنایا جائے :اسمرتی ایرانی

Smriti-Irani
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 17 مئی (یو این آئی) ترقی انسانی وسائل کی وزیر اسمرتی ایرانی نے سابقہ حکومت کے مقابلے میں مودی سرکار کے دو سال کی مدت کار کے دوران تعلیم کے شعبہ میں زیادہ تیزی سے کام ہونے کا دعوی کرتے ہوئے یونیورسٹیوں کو سیاست کا میدان نہ بنائے جانے کی اپیل کی اور قانون کے دائرے میں ملک کے اندر غیر ملکی یونیورسٹیاں کھولے جانے پر زور دیا اور اس ہفتے بھارت وانی منصوبے کا افتتاح ہونے کا اعلان کیا ۔ مسز ایرانی نے آل انڈیا ریڈیو پر انٹرویو میں اپنی وزارت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جلد ہی ایک ہزار امتحان مراکز قائم کیے جائیں گے جہاں سے کوئی شخص موبائل ایپ اور خود کار پورٹل کے ذریعے وہ اپنا امتحان دے کر سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے مقابلے میں موجودہ حکومت نے آپسی تعاون کے ذریعے چیلنجوں کو حل کرنے میں زیادہ کامیابی حاصل کی ہے ۔ گزشتہ حکومت نے تین سالوں میں صرف 40 ہزار اساتذہ کی تقرریاں کیں لیکن موجودہ حکومت نے دو سال کے اندر ر ایک لاکھ اساتذہ کی تقرریاں کی ہیں۔ اسی طرح گزشتہ دس برسوں میں تین ریسرچ پارک بنے جبکہ موجودہ حکومت نے دو سال کے اندر چھ ریسرچ پارک بنائے ہیں۔ محترمہ اسمرتی ایرانی نے کہا کہ حیدرآباد کے ایک طالب علم نے اپنے خط کے ذریعے قوم کی توجہ اس بات پر دلائی کہ بائیں بازو کی چند پارٹیاں لوگوں کو جان بوجھ کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو کہ بہت حساس معاملہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ”یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس معاملے پر سیاست کی گئی ہے اور حکومت کی شبیہ کو ٹھیس پہنچانے کا کام کیا گیا ہے ۔ میں اس سیاسی سچائی سے خوب واقف ہوں۔ میری کوشش ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں سیاست کا اکھا ڑہ نہ بنیں اور وہ علم کا مرکز بنی رہے اور انہیں محفوظ رکھا جائے “۔ انہوں نے کہا کہ دس پندرہ دنوں کے اندر نئی تعلیمی پالیسی کا ایک خاکہ سامنے آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ “دو لاکھ سے زیادہ تعلیمی کونسلوں کے ذریعے سے ہم نے گاؤں سے تعلیم کی سہولیات کے بارے میں پوچھا اور ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ گاؤں نے تحریری طور پر بتایاہے کہ وہ تعلیم کے میدان میں کیا سہولیات اور کس طرح کا حل چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں پندرہ سو سے زیادہ شہری اداروں نے ہمیں اپنی رائے بھیجی ہے “۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے کس طرح تعلیم کے معیار کو سدھارنے کے لئے ملک میں پہلی بار انڈین رینکنگ سسٹم شروع کی اور تمام ریاستوں سے مل کر بورڈ کے امتحانات کے نتائج 31 مئی سے پہلے اعلان کرنے پر اتفاق رائے بنایا۔

About the author

Taasir Newspaper