اردو | हिन्दी | English
4537 Views
Technology

انٹر نیٹ کے غلط استعمال پر روک تھام ہونا چاہئے

4
Written by Taasir Newspaper

(عارف عزیز(بھوپال)
* انٹرنیٹ دورِ جدید کی نہایت مفید اور کار آمد ایجاد ہے۔ یہ نہ صرف معلومات کا ایک خزانہ ہے بلکہ مواصلات کے شعبے میں بھی اِس نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ہر طرح کی معلومات بہت آسانی سے دستیاب ہوجاتی ہیں۔ اس کے ذریعے سے لوگ اپنے دور دراز عزیزوں سے با آسانی رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انٹرنیٹ نے بڑی حد تک لائبریری اور ڈاک کے نظام کی جگہ لے لی ہے۔ ہندو پاک میں انٹرنیٹ کئی سال قبل متعارف ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ ملک میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم ’’اسپاک‘‘ کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں پہنچ گئی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔اسی کے ساتھ فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ کے صارفین بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
اس حوالے سے یہ امر بے حد تشویشناک ہے کہ ہندو پاک میں انٹرنیٹ کے بیشتر صارفین اسے فحش اور عریاں ویب سائٹس تک رسائی کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ یہ محض اندازہ نہیں، مذکورہ بالا تنظیم ’’اسپاک‘‘ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق برصغیر ہند و پاک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بیشتر لوگوں کا پسندیدہ شغل فحش اور عریاں ویب سائٹ دیکھنا ہے۔
یہ صورت حال ہر باشعور شخص کے لئے باعث تشویش ہے۔ باخبر لوگ اِس بات سے واقف ہیں کہ یہ تنہا ہندوستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا اس مسئلے سے پریشان ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فحش ویب سائٹس ہی دیکھی جاتی ہیں۔ اس سائٹس پر باقاعدگی سے جانے والے لوگ دنیا کی نظر سے چھپ کر انٹرنیٹ کی تاریک گلیوں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔ یہ آوارگی ان کی عادت بن کر قلب و نظر کو ناپاک کردیتی ہے۔ اس کے بعد زندگی دو میں سے کسی ایک راستے کی طرف مڑ جاتی ہے۔ یا تو انسان حلال و حرام کی ہر تمیز کو فراموش کرکے زنا کی وادی میں قدم رکھ دیتا ہے یا پھر شادی کا جائز راستہ کھلنے کے بعد بھی تا عمر پورنوگرافی کے نشہ کا عادی بنا رہتا ہے۔ ہماری سوسائٹی کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے غلط رویوں، نظریات اور بعض حالات کی بنا پر شادی کی بنیادی ضرورت کو نوجوانوں کے لئے ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں یا تو مناسب عمر میں نوجوانوں کی شادی ہوجاتی ہے یا پھر شادی کئے بغیر نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ساتھ رہنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ ’اسپاک‘ کی اس رپورٹ کے ذریعے سے پوری سوسائٹی کو یہ پیغام مل رہا ہے کہ یا تو لوگوں کے لئے نکاح کے جائز راستے کو کھول دیا جائے یا پھر سوسائٹی کی تباہی کے لئے تیار ہوجانا چاہیے۔
اِس پیغام کا پس منظر یہ ہے کہ جن مغربی ممالک میں نکاح کے بغیر مرد و زن کا تعلق عام بات ہے، ان کے یہاں یہ کوئی اخلاقی خرابی نہیں ہے۔ بلیو فلمیں ہوں یا فحش ویب سائٹس، اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو ان سے دور رکھا جائے، باقی لوگ آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں۔ مگر ہمارے یہاں، حیا اور عفت بنیادی اقدار ہیں۔ اسی طرح اخلاقی بحران کے اِس دور میں خاندان کا ادارہ ہماری واحد معاشرتی ڈھال ہے۔ زنا اور بے حیائی کے فروغ سے یہ اقدار اور یہ لحاظ قطعی ختم ہوجائے گا۔

About the author

Taasir Newspaper

Leave a Comment