اردو | हिन्दी | English
165 Views
Deen

اُخروی زندگی کو کامیاب بنانے کیلئے اللہ کے احکام کو بجا لانا ضروری: سید سلمان ندوی

2
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ، 5اپریل (طارق حسن)۔ بہار ریاستی حج کمیٹی کے چیف ایکزکیوٹیو آفیسر محمد راشد حسین نے اپنے پریس اعلانیہ کے ذریعہ مطلع کیا ہے کہ مشہور عالم دین علامہّ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اور شعبہ اسلامیات ڈربن یونیورسیٹی ، جنوبی افریقہ کے سابق ڈین اور چیرمین سید سلمان ندوی حفظہ اللہ کا آج حج بھون پٹنہ میں ریاستی حج کمیٹی کے صدر الحاج محمد الیاس عرف سونو بابو و دیگر علماء و افسران کے ذریعہ پُر تپاک استقبال کیا گیا۔ حضرت مولانا نے حج بھون پٹنہ کے عبادت گاہ میں عصر سے مغرب کے درمیان فکر آخرت کے عنوان پر بہت ہی مؤثر اور ایمان پرور خطاب فرمایا جس میں محکمہ اقلیتی فلاح کے تمام افسران و ملازمین ،مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسیٹی کے افسران اور بڑی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت فرمائی ۔ آج کی اس تقریب میں شرکت فرمانے والے افراد میں مشہور سرجن ڈاکٹر احمد عبدالحئی، بی پی ایس سی کے معزز رکن شہنواز خاں صاحب، ریاستی حج کمیٹی کے معزز رکن مفتی قمر نسیم قاسمی ، پٹنہ یونیورسیٹی کے شعبۂ فارسی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمد عابد حسین ، مسلم ڈاکٹر ایسوسیشن کے سکریٹری ڈاکٹر اطہر ، محکمہ اقلیتی فلاح اور مولانا مظہرالحق یونیورسیٹی کے تمام افسران و ملازمین کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت فرمائی۔ موصوف کو حج بھون واقع لائبریری اور مسلم طلباء کے لئے چلائے جا رہے کوچنگ پروگرام کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا اور موصو ف نے اپنے قیمتی مشوروں سے ریاستی حج کمیٹی کے ملازمین اور دیگر شرکاء کو مستفید فرمایا ۔ اپنے بہت ہی پر مغز ، مربوط اور مدلل عالمانہ خطاب میں موصوف نے فرما یا کہ تمام عبادات کا مقصد اپنے مالک حقیقی کے تئیں جوابدہ ہونے کے احساس کو دل میں راسخ کرنا ہے اور اگر مختلف عبادات کا مقصد حاصل نہیں ہوتا ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ عبادت رائیگاں گئی۔ مثلاََ اگر نماز فحش اور بری باتوں سے نہیں روکتی ہے اور روزہ سے تقویٰ پیدا نہیں ہوا تو کہا جا سکتا ہے کہ ان عبادات کا اصلی مقصد حاصل نہیں ہوا۔ لہذا ہمیں اپنی اُخروی زندگی کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اللہ کے احکام کو بجا لائیں اور مطلوبہ مقاصد کو کبھی بھی ہاتھ سے نا جانے دیں۔ موصو ف نے مزید فرمایا کہ ایمان کا تعلق دل سے ہے جو ناقابل دید ہے اور اُسی بنیاد پر مختلف عبادات کے ذریعہ دین کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔ بنیاد جتنا مضبوط ہوگا عمارت اُتنی ہی پائیدار ہوگی۔ لہذا دین کی عمارت کی بنیاد جس کا تعلق دل سے ہے اُسے مضبوط کرنا اُخروی زندگی کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ آخیر میں حضرت مولانا کی دعاء پر آج کی مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

About the author

Taasir Newspaper