اردو | हिन्दी | English
2695 Views
Deen Technology

بچوں کے مستقبل کا سوال ان کے حقیقی ٹیلنٹ اور ذہانت کی دریافت سے جڑا ہو

deen2
Written by Taasir Newspaper

انسان اللہ کی بہترین تخلیق ہے، اس کی خلقت میں اسرار اور انفرادیت کی جھلتی ہے۔ جس طرح سے انسانی شکل و صورت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ بالکل اسی طرح سے ہر شخص کی سوچ اور اسکا اظہار بھی مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ پیدائشی طور پر ریاضی منطق (Mathematical Thinking) کے ساتھ اس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہندسوں اور منطق (Numbers and Logic) کے ساتھ کھیلتے ہیں اور پوری زندگی اسی میڈیم (Medium) میں ان کے ذہن کی نسیں کھلتی ہیں۔
ایسے لوگوں کی سوچ اور گفتگو تصورات اور مجرد خیالات پر استوار ہوتی ہے۔ یہ لوگ مسائل پر سوچتے ہیں اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ مختلف نکات کے درمیان ایسے منطقی رشتے تلاش کرتے ہیں جو ایک عام آدمی کی نظر سے اوجھل ہوتے ہیں۔ منطقی سوچ رکھنے والے یہ لوگ سائنسی میدان میں تحقیق و تفتیش کرتے ہیں جو سائنسدانوں کیلئے راہ ہموار کرتی ہیں، جس کی مدد سے پیچیدہ اور مجرد خیالات کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ بہت سی سائنسی ایجادات ریاضی منطق کی مرہون منت ہوتی ہیں، اور ریاضی منطق سچائی اور حقیقت پر مبنی ہوتی ہے۔
دنیا میں ہزاروں ریاضی دان پیدا ہوئے ہیں جن کا تعلق جرمنی، فرانس، برطانیہ، سویڈن، ناروے، روس، یونان اور امریکہ سے ہے۔ ابیل، ٹیلر، ویبر جارڈن، البیرونی وغیرہ ان میں سے چند ایک نام ہیں۔ صرف جرمنی میں ایک ہزار سے زیادہ ریاضی دان پیدا ہوئے ہیں۔
کچھ لوگ بصری میڈیم (Visual Medium) میں سوچتے ہیں اور پھر بھی اسی میڈیم میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ لوگ جب ارد گرد دیکھتے ہیں تو ان کے دماغ میں ماحول، افراد اور اشیاء4 کی تصاویر کھنچ جاتی ہیں۔ ان کی یاداشت کو تمثید فوٹو میموری (Pictorial/Photo Memory) کہا جاتا ہے۔ یہ اشیاء4 کی اشکال، بناوٹ اور پیٹرن کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور اشیاء4 کی مختلف زاویوں اور سمتوں سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بصری میڈیم میں سوچنے والے ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فاصلے کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس قسم کے سوچنے والے افراد اچھے پینٹرز، آرٹسٹ، ماہر فن تعمیر اور ڈیزائنر ہوتے ہیں۔ اس میڈیم میں سوچنے والے افراد تقریباً ہر ملک میں ہزاروں سالوں سے پائے جاتے ہیں۔
بعض لوگوں کی سوچ اور اسکا اظہار ان کی جسمانی حرکات کے ساتھ متحرک ہوتا ہے۔ یہ لوگ جگہ، ماحول اور حرکات میں سوچتے ہیں۔ یہ لوگ چیزوں کو دیکھنے کی بجائے چھونا پسند کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جسمانی حرکات کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار اور ترسیل کرتے ہیں۔ ان کا جسم ان کے دماغ کی طرح شعور کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ جسمانی مہارتوں میں یہ عام افراد دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اس قسم کے افراد میں کھلاڑی، رقاصہ، اداکار، کرافٹ مین اور فلمی دنیا کے لوگ اس زمرہ میں شامل ہیں۔
کچھ لوگ آواز کے آہنگ، اْتار چڑھاؤ، لے و سْر میں سوچتے ہیں۔ اپنے تصورات کو آواز کے زیر و بم میں ڈھال کر یاد رکھتے ہیں۔ آواز کی لے اور آہنگ ان کے پاس موم کی طرح ہوتی ہے۔ جس کو اپنی مرضی سے موڑتے، جوڑتے، کھینچتے، بڑھاتے اور پھر واپس لے آتے ہیں۔ اس فن سے نہ صرف لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اپنی آواز کے جادو میں محو کرتے ہیں۔ ان کی آواز میں جو کشش اور مٹھاس ہوتی ہے وہ صدیوں تک قائم رہتی ہے۔ یہ لوگ آواز اور جذبات کے درمیان گہرے تعلق کا حقیقی فہم اور شعور رکھتے ہیں۔ یہ اعلیٰ درجے کے موسیقار بھی ہوتے ہیں۔ برصغیر ہند وپاک اس قسم کے فنکاروں سے بھرا ہوا ہے۔ مثلاً، کے ایل سیگل، تان سین، بیجو یاورا، ملکہ پکھراج، نسیم بانو، محمد رفیع، مکیش، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، ثریا، مہدی حسن، کشور کمار، نورجہاں، نوشاد، شنکر جے کشن، کلیاں بی آئند جی، فیروز نظامی، خورشید، رشید عطرے، غلام حیدر وغیرہ وغیرہ۔
آواز کی لے اور آہنگ میں کمال رکھنے والوں کی ذہانت کو موسیقی کی ذہانت (Musical Intelligence)، زبان میں جادوگری دکھانے والوں کی ذہانت کو زبان دانی کی ذہانت (Linguistic Intelligence) اور ہندسوں کے ساتھ کھیلنے والوں کی ذہنیت کو ریاضیاتی یا منطقی ذہنیت (Mathematical/Logical Intelligence) کہا جاتا ہے۔ انسان کی طبعی سوچ اور اس کے عملی اظہار میں مطابقت پائی جاتی ہے۔ اس مطابقت کو ریاضی کی زبان میں ہم آہنگی کہتے ہیں۔
کچھ لوگ تخریب کاری کے میڈیم میں سوچتے ہیں۔ ان کے ذہنی افق پر تخریب کاری کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ قتل و غارت، لوٹ مار، دہشت گردی ان کا معمول بن جاتا ہے۔ آج کل پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے ممالک میں ان لوگوں کا راج ہے۔
ذہانت قدرت کی بو قلمونی کا مظہر اور عطیہ خداوندی ہے۔ ذہانت کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ معیار کے اعتبار سے ہم ان کی درجہ بندی نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ دیکھنے اور تجربے میں آیا ہے کہ ریاضیاتی اور معاشرتی اصلاح کی ذہانتیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ان سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔
حْسن و خوبصورتی اور ذہانت میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ سقراط، برنارڈ شاہ اور برٹرن رسل خوبصورت نہیں تھے۔ ان کے چہرے سیاہ تھے لیکن ذہین اور اعلیٰ مقام رکھتے تھے، لیلیٰ سیاہ فام تھی، عرب کی رہنے والی تھی۔ تاریخ دانوں کی نظر میں وہ ایک ذہین عورت تھی۔ سقراط بہت بھدا اور بدصورت لیکن وہ بہت بڑا فلاسفر تھا۔ ہمارا نظامِ تعلیم صرف دو انسانی ذہانتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک تو ریاضیاتی ذہانت اور دوسرا جسے اردو میں زبان دانی کی ذہانت کہا جاتا ہے۔ باقی انسانی ذہانتیں ہمارے نظام تعلیم سے خارج ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے ہمارا موجود نظام تعلیم، دراصل دور حاضر کی صنعتی ضروریات کے مطابق ایک خاص نوعیت کی ورکنگ فورس کلاس تیار کرتی ہے۔ اس ورک فورس کیلئے جس ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے اسکو اہمیت دی گئی ہے۔ سائنس اور ریاضی کے مضامین کو سرِفہرست رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے مضامین آتے ہیں۔ ریاضیات ذہانت رکھنے والے افراد کو ذہین قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری ذہانت مثلاً حرکی حِس (Kinethetic Intelligence)، بصری ذہانت (Visual Intelligence) یا جسمانی حرکات (Physical Intelligence) والے افراد کو کند ذہن سمجھا جاتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا نامور کھلاڑی، موسیقار، شاعر اور گلوکار کند ذہن ہوتے ہیں؟ قطعاً نہیں۔ یہ لوگ اپنے دوہرے کام میں اعلیٰ ذہانت کے مالک ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ ذہین نہ ہوتے تو اپنے میدان میں کبھی بھی صلاحیت کے جوہر نہ دکھاتے۔
کچھ لوگوں کی ذہانت تو اسکول میں دریافت ہوجاتی ہے۔ بہت سے افراد کی حقیقی ذہانت اسکول کے دور میں دریافت نہیں ہوتی۔ وہ اسکول میں کند ذہن یا اوسط درجے کے طالب علم ہوتے ہیں۔ اسکول چھوڑنے کے بعد عملی زندگی میں آکر اپنی ذہانت دریافت کرتے ہیں۔ گلوکار، موسیکار، کھلاڑی، اداکار وغیرہ اسی قسم کے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ عملی زندگی میں شہرت کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ شاعر، ادیب اور ناول نگار ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی تعلیمی اسناد کچھ خاص نہیں ہوتیں مگرعملی زندگی میں بلند شہرت کے مالک ہوتے ہیں۔ مثلاً شیکسپیئر جو آٹھ جماعت پاس تھا اسکے مقابلے کا آج تک کوئی ڈرامہ نویس پیدا نہیں ہوا۔ اسکے برعکس بھی ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی کچھ افراد شہرت کے بلند مقام پر نہیں پہنچ سکتے۔ ایسے لوگوں میں اپنی قابلیت ظاہر کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔
بچوں کے مستقبل کا سوال ان کے حقیقی ٹیلنٹ اور ذہانت کی دریافت سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک ان کی حقیقی ذہانت دریافت نہیں ہوجاتی، اس وقت تک آپ ان کے کیریئر کا درست فیصلہ نہیں کرسکتے۔ بچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے، وہ شعور کی منزلیں طے کر رہا ہوتا ہے، وہ اپنے متعلق فیصلہ نہیں کر پاتا اور غیر متعلقہ میدانوں میں ٹکریں مارتا ہے۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی حقیقی ذہانت کی دریافت میں اسکی مدد کریں۔ بعض والدین کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں یا ان پڑھ ہوتے ہیں، ان کی مالی حالت بہت کمزور ہوتی ہے۔ یہ تمام باتیں راستے کی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ بچے کی ذہانت کی پہچان اس کے مشاغل اور دلچسپی کے کاموں سے باآسانی ہوجاتی ہے۔ والدین بچے کی ذہانت کے مطابق اس کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کریں تو یوں بچہ خاندان اور ملک و ملت کا قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper