اردو | हिन्दी | English
357 Views
Politics

ریاست میں کانگریس کی حکومت بحال،وزیراعلیٰ ہریش راوت کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت

Harish-Rawat
Written by Taasir Newspaper

نینی تال 21 اپریل(ایجنسی): نینی تال ہائی کورٹ نے آخر مودی حکومت کو جھٹکا دے ہی دیا ۔ ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ نے ریاست میں قریب ایک مہینے سے جاری صدر راج کو بروز جمعرات ختم کردیا۔ دوسری جانب کانگریس لیڈر ہریش راوت سے اسمبلی میں 29 اپریل کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا گیا ہے۔ کانگریس اسے اپنی جیت بتارہی ہے۔ جبکہ مرکز نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اپیل کرسکتا ہے۔ کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت رد ہونے کے بعد اسمبلی ارکان کی تعداد 62 رہ گئی ہے۔اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے 32 ایم ایل اے کی ضرورت ہوگی۔ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ اسمبلی کے چند ممبران اسمبلی نے ’گناہ‘ کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ایم جوسف کی ڈویژن بنچ نے اتراکھنڈ میں آرٹیکل 356 لگانے کے فیصلے پرمرکز کو پھٹکار لگائی ہے۔ (باقی صفحہ 7 پر) بنچ نے کہا ہے کہ صدر
راج نافذ کرنا سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی رولنگ کے خلاف ہے۔ 9 باغی ممبران اسمبلی کو ڈیسکوالیفائی کرنے سے متعلق اسپیکر کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ انہیں پارٹی بدلنے کیلئے ’آئینی گناہ‘ کرنے کی قیمت چکانی ہوگی۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے اپنے آرڈر میں کہا ہے کہ 18 مارچ کو ریاست میں سیاسی بحران شروع ہونے کے بعد دس دنوں کے اندر آرٹیکل 356انا سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے۔
اسے جوڈیشیل ریویو کی ضرورت ہے۔ سنوائی کے دوران جب مرکز کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم تک ہائی کورٹ اپنا فیصلہ روک لے تو بنچ نے کہا کہ ہم اپنے فیصلے پر روک نہیں لگائیں گے۔ آپ چاہیں تو سپریم کورٹ چلے جائیں اور اسٹے لے آئیں۔ واضح ہوکہ کانگریس کے کچھ ممبران اسمبلی سی ایم ہریش راوت سے ناراض ہوکر انہیں ہٹانے کی مانگ کرنے لگے تھے۔ باغیوں کے گروپ کی قیادت کابینہ وزیر ہرک سنگھ راوت اور سابق سی ایم وجئے بہوگناکررہے تھے۔ اس بغاوت کے بعد 18 مارچ کو اتراکھنڈ اسمبلی میں بجٹ کا بل پاس کرانے کے دوران تنازع پیدا ہوا تھا۔ باغی اراکین کا دعویٰ تھا کہ بل پاس نہیں ہوسکتا ہے اور کانگریس اکثریت کھوچکی ہے۔ معاملہ جب ہائی کورٹ پہنچا تو کورٹ کی سنگل جج بنچ نے پہلے 28 مارچ کو فلور ٹسٹ کرانے کو کہا تھا۔ لیکن 27مارچ کو ہی مرکز یہاں صدر راج نافذ کردیا۔ کانگریس نے پھر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹیا، بنچ نے 31 مارچ کو ٹسٹ کرانے کوکہا لیکن مرکز نے اس کے خلاف اپیل کردی۔ تب سے ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت چل رہی ہے۔ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے مطابق ہریش راوت دوبارہ سی ایم بحال ہوگئے ہیں۔ انہیں اسمبلی میں 29 اپریل کو اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔ دوسری جانب مرکز اب سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی تیاری میں لگا ہے۔ واضح ہوکہ 71 اراکین والی اسمبلی میں کانگریس کے 36میں سے 9 اراکین باغی ہوگئے تھے اس بغاوت کیلئے اسپیکر نے تمام باغی 9 ممبران اسمبلی کو ڈسکوالیفائی کردیا ۔نینی تال ہائی کورٹ نے اس ڈسکوالی فکیشن کو برقرار رکھا ہے۔ ایسی صورتحال میں 62 میں سے کانگریس کو اکثریت ثابت کرنے کیلئے 32 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہوگی۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ کانگریس کے 27 ممبران سمیت تین آزاد دو بی ایس پی کے اور ایک اتراکھنڈ کرانتی دل کے ممبران اسمبلی ان کے ساتھ ہیں۔ دوسری جانب اسمبلی میں بی جے پی کے 28 اراکین ہیں ان میں سے ایک معطل ہیں ، کانگریس کے 9 باغی ممبران بھی بی جے پی کے ساتھ بتائے جاتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper