اردو | हिन्दी | English
272 Views
Uncategorized

سیدھا راستہ

Sidha-Rasta
Written by Taasir Newspaper

آپ بہزاد صاحب بول رہے ہیں؟
ایک انجان نمبر سے آنے والی فون کال کرنے والے نے مجھ سے پوچھا میں نے ہاں میں جواب دیا اور پوچھا کہ آپ کو بول رہے ہیں؟
میں اسلم صاحب کا بیٹا بول رہاہوں۔
اچھا اچھا وہ اسلیم صاحب! میں نے اس کے تعارف سے پہچان لیا: کیسے ہو تم بیٹا! کیسے فون کیا اور اسلم صاحب خود کیسے ہیں۔
میرے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ اسے کوئی کام ہوگا تو اسلم صاحب نے کہا ہوگا کہ ان کانام لے کر وہ خود ہی مجھ سے بات کرلے۔ اسلم صاحب سے رابطہ نہ تھا۔ اب یقیناًان کے بیٹھے کوکوئی ملازمت وغیرہ چاہیے ہوگی، آج کل کے نوجوانوں کا اور مسئلہ ہے بھی کیا۔
ابا کے انتقال کو تولگ بھگ چھے ماہ ہوگئے ہیں انکل۔۔۔اس نے کہا تو مجھ پر گھڑوں پانی پڑگیا۔
انا اللہ وانا الیہ راجعون۔۔۔میں نے کہا اور اگلا سوال کیا: کیسے؟
بس انکل ! اچانک ہی۔۔۔اس کی آواز بھرانے لگی۔
بتائیں بیٹا! میں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟ میں نے خلوص سے اس سے سوال کیا، اب تو اس کی ہر طرح سے مدد کرنا میرا اخلاقی فرض تھا۔
میرے لیے دعا کیا کریں انکل! آپ ابا کے اچھے دوستوں میں تھے۔۔۔میں نے سادگی سے کہا یاشاید طنز کیا تھا۔
اچھے دوست ہیں کہ ان کی وفات کاہی علم نہیں ہوا۔۔۔میں نے اپنی خفت مٹاتے ہوئے کہا۔
کوئی بات نہیں انکل! آج کل ہرکوئی اپنی زندگی میں اسی طرح مصروف ہے۔ اس نے میر تسلی کو ہی کہا ہوگا۔
انکل! آپ سے پوچھنا تھا کہا آپ نے ابا کے ساتھ کوئی رقم کاربار میں لگائی تھی؟ کچھ یاد تو پڑتا ہے۔۔۔میں نے ذہن پرزور دے کرکہا۔
کتنی رقم تھی وہ؟ اس نے سوال کیا۔
غالباََ ایک لاکھ رپے تھے۔ میں نے یاد کرکے کہا، حقیقت تو یہ ہے کہ میں ان پیسوں کے بارے میں بھول ہی چکا تھا، لگ بھگ ایک سال پرانی بات تھی۔شاید یہ لڑکا سمجھ رہاہے کہ میں کوئی بہت امیر آدمی ہوں اور اس کی کوئی مدد کرسکوں گا، ایک بدگمانی سی دل میں آئی۔ مجھے یادآگیا تھا کہ اسلم صاحب نے فون کرکے کہا تھا کہ وہ لاہور میں ایک رہایشی اسکیم میں کچھ پلاٹ خرید رہے ہیں اور اگر آپ اس کاروبار میں دل چسپی رکھتے ہیں تو آپ بھی شریک ہوسکتے ہیں۔ آپ جتنی رقم لگائیں گے، اس پر اسی حساب سے منافع مل جائے گا۔ اب مجھے ایک لاکھ رپے کی یاد آئی ، جو میں قطعی بھول چکا تھا۔ افسوس ہوا کہ اسلم صاحب کی وفات کے ساتھ ہی میری وہ پونجی بھی لٹ گئی۔ اگر یہ رقم انھیں نہ دی ہوتی تو اس کاکوئی اور مصرف تو ہوتا۔
بس میری تووہی پونجی تھی بیٹا! میں نے معذرت کے انداز میں کہا: اس کے علاوہ تو میرے پاس کوئی اور بچت نہیں۔ میں نے اس کے ممکنہ سوال سے پہلے ہی معذرت کرلی۔
انکل ! ابا کی وفات کے بعد کافی وقت تو ہمیں سنبھلنے میں لگ گیا۔ آہستہ آہستہ اس قابل ہوئے ہیں کہ اپنے آپ کو سنبھال سکیں۔
توگویا اب وہ اپنے سوال کو گھما پھرا کر پیش کرے گا۔ میں نے دل میں سوچا۔
میرے چچا امریکا سے لوٹے ہیں۔ میں نے ان کے ساتھ مل کر ابا کے سارے کاغذات نکالے اور ان ہی کاغذات سے ہمیں آپ کے بارے میں علم ہوا اور شکر ہے کہ آپ کا فون نمبر ابھی تک تبدیل نہیں ہوا، وہ ورنہ بہت سے لوگ جنھوں نے ابا کے ساتھ کاربار میں شراکت کی تھی ، ان کے نمبر بھی تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب ان کے پتوں پر میں نے انھیں خط لکھے ہیں۔ اس کاروبار کے رکارڈ کے مطابق جب ابا نے ان پلاٹوں کو بیچا تو آپ کی ایک لاکھ کی رقم پر 36ہزار رپے کا منافع ہوا۔ اب آپ بتائیں کہ آپ کی اصل رقم اور منافع ، میں کس اکاؤنٹ میں آپ کو بھجواؤں؟ اس کا یہ کہنا تھا کہ میرا منھ کھلا رہ گیا اور مارے حیرت کے ایک لفظ نہ بول سکا۔
اس نے پھر کہا: انکل! پلیزبرا نہ مانیے گا، اصل میں جب انھوں نے پلاٹ بیچے تو ان ہی دنو ں ان کا انتقال ہوگیا، مگرہر چیز انھوں نے تفصیل سے لکھ کر رکھی تھی، بس چچا کا انتظار تھا کہ وہ آئیں تو ہم دونوں مل کر سارے حسابات چیک کریں اورپھر آپ سب لوگوں کو مطلع کریں۔
میں نے اس سے کہا کہ اپنے اکاؤنٹ کی تفصیلات میں بھجواتا ہوں اور فون بند کر کے میں نے اپنا اکاؤنٹ نمبر وغیرہ موبائل فون کے ذریعے سے بھیج دیا۔
ایک گھنٹے کے اندر اندر ا س جواب آگیا کہ اس نے وہ رقم میرے اکاؤنٹ میں منتقل کردی ہے۔ میں نے اس لڑکے کی ایمان داری کا یہ واقعہ کل سے آج تک دسیوں لوگوں کو سنایا اور میں اس قدر متاثر تھا کہ ماں باپ نے اس کی تربیت کتنے اچھے انداز میں کی ہے۔ ابھی جب میں گھر کی طرف آرہاتھا تو اس کا فون دوبارہ آیا، میں اس کال کو سننے سے کترارہاتھا کہ کہیں وہ یہ نہ کہہ دے کہ اس نے 36ہزار رپے مجھے غلطی سے ادا کردیے ہیں۔
میں نے فون سناتو اس نے کہا: انکل! وہ میں نے معذرت کے لیے کال کی ہے، آپ کے حساب میں تھوڑی گڑبڑ ہوگئی ہے۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ میرے دل میں وسوسہ پیدا ہوگیا۔ میں تو اس رقم سے جانے کتنے منصوبے بناچکا تھا۔
جی بیٹا میں نے حساب نہیں کیا، آپ نے ہی کیا ہے، اب آپ بتادیں کہ کیا گڑبڑ ہے؟ میں نے اس سے دل تھام کرسوال کیا۔
انکل! دراصل ہمارے حساب سے آپ کو چودہ ہزار رپے۔۔۔میری سانس رکنے لگی چودہ ہزار اگر اسے واپس کرنا پڑے تو گویا صرف بائیس ہزار رپے مجھے ملیں گے؟ اس کے سانس لینے کے وقفے میں، میں اتنا ہی کچھ سوچ سکا۔ اس نے جملہ مکمل کیا، مزید دینا ہوں گے، کیوں کہ آپ کا منافع پچاس ہزار بنتا ہے۔
میں نے سکون کا سانس لیاا ور اس کا شکریہ ادا کیا۔
آپ کے اکاؤنٹ میں رقم بھجوادوں انکل؟ اس نے سوال کیا۔
نہیں بیٹا! میں خود تمھارے پاس آکر رقم لوں گا۔ میں نے اس سے کہا اور اس کاپتا پوچھ کر اس کے پاس آگیا۔اس لیے نہیں کہ مجھے تسلی نہ تھی، بلکہ اس لیے کہ اس نایاب کردار کے بچے سے ملوں، کہاں آج کے دور میں ایسے انسان ملتے ہیں؟ میں تو اس رقم کو بھلا بیٹھا تھا۔ آفرین ہے اسلم صاحب پراور ان کی بیوہ پر کہ انھوں نے اپنی اولاد کی اتنی اچھی تربیت کے ساتھ پرورش کی۔
میں جاکر اس بچے سے ملا وہ ابھی تک ایک طالب علم ہے اور باپ کی وفات کے صدمے سے سنبھلنے کی کوشش کررہاہے۔ وہ گھر کے مستقبل کا سرپرست اور اپنی بیوہ ماں اور بہن بھائیوں کا سہارا بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ اسے لمبی عمردے کہ اس طرح کے نوجوان ہی ہمارے مستقبل کی اْمید ہیں۔ اللہ اسے صحت اور خوشیوں کے ساتھ اپنے سارے فرائض نبھانے کی ہمت دے۔۔۔آمین۔

About the author

Taasir Newspaper