اردو | हिन्दी | English
505 Views
Politics

نتیش کمار کی حکمت عملی انھیں وزیراعظم کی کرسی تک پہنچائے گی؟

nitish-kumar
Written by Taasir Newspaper

بہار کی حکمراں پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے صدر شرد یادو کے استعفیٰ کے بعد بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ یہ فیصلہ جے ڈی یو کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں لیا گیا ۔ مسلسل تین بار صدر رہ چکے شرد یادو کے استعفیٰ کے بعد نتیش کمار کو نیا سربراہ بنایاگیا۔ اس موقع پر نتیش کمار نے کہا کہ شرد یادو پارٹی کے لیڈر بنے رہیں گے۔ رپورٹس کے مطابق شرد یادو کے استعفی دینے کے بعد مٹینگ میں موجود مجلس عاملہ کے اراکین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ماحول غمگین ہو گیا اور جے ڈی یو کے قومی ترجمان کیسی تیاگی تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔واضح ہو کہ شرد یادو نے خودہی چوتھی بار پارٹی صدر بننے سے انکار کر دیا تھا۔ شرد یادو 2006 میں جے ڈی یو کے صدر بنے تھے اور سال 2013 میں تیسری بار پارٹی صدر منتخب ہوئے تھے۔ جے ڈی یو میں قیادت کی تبدیلی کے ساتھ ہی انضمام کے عمل کو بھی تیز ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سابق مرکزی وزیر اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوک دل اور جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی بابو لال مرانڈی کی پارٹی جھارکھنڈ وکاس مورچہ کا جے ڈی یو میں انضمام اب جلد ہی ہوجائے گا۔ نتیش کمار نے پارٹی صدر بننے سے پہلے ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے بہار میں مکمل شراب بندی کا علان کیا تھا۔ انھوں نے شراب پر مکمل پابندی عائد کرکے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کیا جو انھوں نے خواتین ووٹرس سے کیا تھا۔ اب ریاست میں دیسی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی شراب بھی دستیاب نہیں ہوگی۔. وزیر اعلی نتیش کمار کی صدارت میں ہوئی ریاست کابینہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ اب ریاست میں انگریزی شراب کی بھی فروخت نہیں ہوگی۔ اس کے تحت اب ریاست میں شراب فروخت کرنا، رکھنا اور پینا مکمل طور ممنوع ہو گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد اب بہار بھی گجرات، ناگالینڈ اور میزورم کی طرح ‘‘ڈرائی اسٹیٹ‘‘ بن گیا ہے۔ بہار میں ہوٹلوں اور بار میں شراب نہیں ملے گی۔یہ صرف ملٹری کینٹین میں دستیاب رہے گی۔حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں پر نئی مصنوعات کی پالیسی کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ نتیش کمار سخت فیصلوں کے لئے جانے جاتے ہیں اور بہار میں ان کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے۔ اس وقت بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھر رہے ہیں جس سے ملک نے امیدیں وابستہ کی ہیں ان کے اردگرد مختلف نظریات رکھنے والی پارٹیوں کے لیڈران کا جماؤڑا شروع ہوچکا ہے۔ان حالات نے ان کے عزائم کو بھی پر لگادیئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات تک نتیش کمار غیربی جے پی پارٹیوں کے لئے ایک مرکز کی حیثیت سے ابھریں گے۔ بہار میں بی جے پی کو شکست دے کروہ مودی مخالف خیمہ کا مرکزی نکتہ بن گئے ہیں۔ نتیش کمار کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے بہار جیسی پسماندہ ریاست کو ترقی کی راہ پر لگایا ہے اور اب پورا ملک ان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ وہ ان سیاسی پارٹیوں کے لئے بھی نجات دہندہ بن کر ابھر رہے ہیں جن کا بی جے پی نے گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں صفایا کردیا تھا۔ مغربی بنگال ، آسام، کرناٹک ، کیرل ، آندھرا پردیش، اترپردیش کی الگ الگ نظریات رکھنے والی پارٹیاں نتیش کمار کے گرد جمع ہورہی ہیں۔ نتیش کی ’’چانکیہ نیتی‘‘نتیش کمار وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے لگے ہیں اور اس راستے پر قدم بڑھاتے ہوئے انھوں نے پہلا کام یہ کیا ہے کہ پارٹی کی صدارت اپنے ذمے لے لی ہے۔ اب جنتادل (یو) پوری طرح ان کی مٹھی میں ہوگی اور وہ جو چاہیں فیصلہ لے سکتے ہیں۔ حالانکہ سابق پارٹی صدر شرد یادو بھی ان کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتے تھے مگر اب بات ہی کچھ اور ہے۔اسی کے ساتھ وہ اجیت سنگھ کی پارٹی آر ایل ڈی اور مرانڈی کی پارٹی جے وی ایم کا اپنی پارٹی میں انضمام کرکے دوریاستوں میں طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرینگے۔ نتیش کمار اور ان کی پارٹی نے موجودہ حالات کا فائدہ اٹھانے کا سوچ لیا ہے اور اب ان کی حکمت عملی ہوگی ان تمام سیاسی پارٹیوں کا ایک محاذ قائم کرنے کی جو بی جے پی کے نظریات سے اتفاق نہیں رکھتی ہیں۔ جے ڈی یو کی قومی مجلس عاملہ نے پارٹی صدر شرد یادو اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کو اس کام کے لئے اختیار دیا ہے کہ وہ بہار ماڈل کی بنیاد پر پورے ملک میں بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط مہاگٹھبندھن تیار کریں۔ پارٹی نے یہ بھی صاف کیاہے کہ نتیش’’ وزیر اعظم میٹریل‘‘ ہیں۔اس کا مطلب صاف ہے کہ جنتادل (یو) انھیں وزیر اعظم کے دعویدار کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ قومی ترجمان کے سی تیاگی کا کہنا ہے کہ یہ دور غیر بھاجپاواد کا ہے۔ بی جے پی مخالف پارٹیاں اپنے چھوٹے مفادات اور خود غرضی کو بھول کر ملک کے وسیع مفاد میں ایک پلیٹ فارم پر آئیں۔قربانی دیں۔ ملک فاشسٹ قوتوں کے ہاتھ میں ہے۔ یوپی میں قدم جمانے کی کوشش نتیش کمار نے انتہائی دانشمندی کے ساتھ اترپردیش میں اپنی قوت میں اضافے کا پروگرام بنایا ہے۔ اترپردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے اور مرکزی میں وہی پارٹی اقتدار میں آتی ہے جسے یہاں سے زیادہ سیٹیں آتی ہیں۔ نتیش کمار چاہتے تھے کہ ملائم سنگھ یادو ان کے ساتھ آئیں تاکہ وہ غیربی جے پی پارٹیوں کا اتحاد بناکر یہاں بی جے پی کو دھول چٹاسکیں۔ بی جے پی کو مرکز میں لانے میں یوپی نے بڑا کام کیا ہے مگر ملائم سنگھ یادونے جس طرح سے بہار میں سیکولر قوتوں کو لنگڑی ماری اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی اس سے ان کا اعتمادمتزلزل ہوگیا۔ اب ایسا لگتا نہیں کہ ملائم سنگھ پر کوئی بھی سیاسی پارٹی بھروسہ کرسکتی ہے۔ ایسے میں نتیش کمار کے سامنے مایاوتی کو ساتھ لینے کا متبادل تھا مگر مایاوتی کسی کو گھاس ڈالنے کو تیار نہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ملک کی پہلی دلت وزیراعظم بنیں۔ایسے میں چودھری اجیت سنگھ اور کچھ چھوٹی پارٹیاں ہی بچتی تھیں جن کے ساتھ نتیش کمار جاسکتے تھے اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔ ظاہر ہے کہ اجیت سنگھ کی پارٹی خود اپنی زمین کھوتی جارہی ہے ایسے میں کسی بڑے چمتکار کی امید نہیں کی جاسکتی مگر بہرحال اس سے جنتادل یو کو فائدہ ملے گا۔یہاں کانگریس بھی جنتادل یو کے ساتھ اتحاد کرسکتی ہے اور اس طرح آئندہ اسمبلین الیکشن ہی نہیں بلکہ لوک سبھا الیکشن میں بھی کچھ سیٹیں نتیش کمار کی جھولی میں آسکتی ہیں۔مجموعی طور پر دیکھیں تو نتیش کمار انتہائی دانشمندی کے ساتھ اپنے پتے کھیل رہے ہیں۔ ان کی ہرچال نپی تلی ہوتی ہے اور یقیناًاس کا فائدہ انھیں مستقبل میں ملے گ – یو این این

About the author

Taasir Newspaper