اردو | हिन्दी | English
646 Views
Deen

کیاوضوکے پانی سے زیرِ زمین سطح آب میں اضافہ کیا جاسکتاہے ؟

3
Written by Taasir Newspaper
  •    دھرتی پیٹے سینہ مولا پانی دے                              کب تک آنسو پینا مولا پانی دے                        س حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتاہے کہ پانی کے بغیر زندگی ایک ڈراونا خواب ہے۔اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ میں پانی کے بغیر زندگی گزارسکتاہوں تو لوگ کہیں گے ،انہیں فوری دواخانے میں شریک کرائیے ۔پانی اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے۔قرآن وحدیث میں اس کی اہمیت و فضلیت و ضرورت پر رہنمائی موجود ہے۔
    آج دنیاکے اکثر ممالک میں،بارش کے پانی کو زمین میں دوبارہ جذب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے Rain Water Harvesting systemکہاجاتا ہے ۔اس کے لیے حکومتوں کی جانب سے کئی اسکیمات اور مہمیں چلائی جاتی ہے۔مہاراشٹر خصوصاََ مراہٹواڑہ کو سخط قحط سالی کا سامنا ہے ۔لوگ پانی کے لیے اپنے گھربار چھوڑکر بڑے شہروں کی طرف کوچ کررہے ہیں۔ایسے حالا ت میں امت مسلمہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ پانی کے تئیں اپنی بیداری کاثبوت دیں۔ انتظامیہ اور سماجی تنظیموں کی جانب سے چلائی جانی والی مہموں میں حصہ لیں۔جب کہ ہم جانتے ہیں کہ پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہمیں ہی ہے۔ دن میں کم از کم پانچ مرتبہ کی نمازوں کے لیے روزانہ کروڑوں ،اربوں لیٹر پانی سے ہم وضوو غسل کرتے ہیں ۔کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم جتنا پانی زمین سے Borwellو دیگر ذرائع سے حاصل کررہے ہیں اس کادس فیصد حصہ ہم دوبارہ زمین میں جذب کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟ یقیناًاس سوال کا جواب مثبت نہیں ہوسکتا ۔منفی ہی ہوگا۔؟
    آئے دن اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں دوست احباب کے ذریعہ ،شادی بیاہوں میں بس ایک ہی بات پر گفتگو ہورہی ہے کہ فلاں گاؤں ودیہات میں ، فلاں تعلقہ میں ،فلاں ضلع میں بچے ،بوڑھے،عورتیں پانچ تا دس کلومیٹرسے پانی لانے پر مجبور ہیں ۔ بلکہ پہلی بار ایسا ہوا کہ لاتور میں پانی کے لیے دفعہ 144کا نافذ کرنا پڑا۔ پانی کی حفاظت کے لیے پولیس کو رکھاگیاہے ۔
    زیر زمین پانی کی سطح روزبروز کم ہوتی جارہی ہے۔سارے لوگ زمین سے پانی نکالنے میں لگے ہیں۔کوئی زمیں میں پانی پہنچانے کی کوشش نہیں کررہاہے۔ جسے دیکھوبورویل کھود رہاہے۔کنویں کھودے جارہے ہیں۔ جسے دیکھو زمین کا سینہ چیر کرپانی نکالنے میں لگا ہے۔ شہروں میں رہنے والوں کو قحط و سوکھے کا اندازہ نہیں ہوسکتا ۔آج ہزاروں لوگ پانی کی خاطر اپنے گاؤں وشہروں کوچھوڑر ہے ہیں۔ممبئی وپونہ کے اوور بریج کے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔
    وضوکے پانی کا استعمال: پانی کی جتنی ضرورت مسلمانو ں کو ہے شاید ہی دنیاکی کسی دوسری قوم کوہوگی ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جتنامسلمان پانی استعمال کرتے ہیں اوراللہ کی اس عظیم نعمت کی ناقدری کرتے ہیں وہ بھی شاید کوئی اور کرتا ہوگا۔بڑی معذرت کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ بلاشبہ آج ہماری مسجدوں میں روزانہ لاکھو ں لیٹر پانی وضو،غسل اور طہارت خانے کے لیے استعمال ہورہاہے۔تقریباََ مسجدوں میں جو پانی آتا ہے وہ بور کے ذریعہ حاصل ہوتاہے۔بعض جگہوں پر کنووں سے پانی حاصل کیاجاتاہے ۔کئی جگہوں پر سرکاری نلوں کے ذریعہ پانی استعمال کیاجاتاہے۔یہ استعمال شدہ پانی شہروں میں عام طورسے ڈرینج لائن یا گندے نالوں میں چھوڑدیاجاتاہے۔ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کررہے ہیں اور ہمارے ہاتھوں سے کتنا عظیم نقصان ہورہاہے۔ہمارے بھائی جب وضو کے لیے بیٹھتے ہیں توماشاء اللہ غسل سے زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں ۔ مسواک کی سنت اداکررہے ہیں،نیچے نل چل رہاہے۔باتیں بھی ہورہی ہیں پانی بھی بہہ رہاہے ۔ گرمیوں میں تو کچھ زیادہ ہی وضو خشوع خضوع کے ساتھ کیاجاتاہے ۔آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ ہمارے پیار ے آقا حضرت محمد ﷺ غسل ساڑھے چار لیٹرپانی سے اور اس کے ایک چوتھائی یعنی دیڑھ لیٹر سے کم میں وضوفرمایا کرتے تھے۔اب ہم اپناجائزہ لیں کہ ہم غسل اور وضوکتنے پانی میں کرتے ہیں۔؟
    آج الحمد اللہ بڑی خوبصورت اور عظیم الشان مسجدیں تعمیر ہورہی ہیں،ان میں سنگ مرمرلگایاجارہاہے۔نمازیوں کوتکلیف نہ ہواس لیے قیمتی قالین بچھا ئے جارہے ہیں۔ بعض جگہوں پر ACبھی لگاہے۔ وضو کے لیے بہترین نل بھی لگائے جارہے ہیں اور وضو کا پانی کہا ں چھوڑاجارہا ہے ،ڈرینج لائن میں ۔!! جبکہ بہت ہی کم خرچ میں وضواور غسل کے پانی کو water horvesting systemکے زمین میں چھوڑکر زمین کی سطح آب میں اضافہ کیا جاسکتاہے۔
    ذمہ درانِ مساجد سے گزارش کی جاتی ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں جوکچھ بھی ہوسکتاہے ،جس طرح سے بھی ہوسکتاہے ،پانی کوزمین میں جذب کرنے کی کوشش کریں ۔ کئی مساجد قبرستان سے متصل ہے ،قبرستانوں میں درخت لگائے جاسکتے ہیں وہاں وضوکے پانی کوچھوڑاجاسکتاہے۔ یا یہ ممکن نہیں تو زمین میں پانی جذب کرکے سطح آب میں اضافہ کیا جاسکتاہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے،جہاں پرمسجد کے لیے بور (boreلیاہے وہاں پانی کوزمین میں جذب کیاجاسکتاہے۔مثال کے طورپر شہر کی عظیم جامع مسجدمیں لاکھوں لیٹرپانی وضواور طلبا ء کے لیے استعمال ہوتاہے ،غالباََیہ پانی ڈرینج لائن میں چھوڑ دیاجاتاہے،اگراسی پانی کوجامع مسجدکے احاطہ میں جہاں پر پانی کے بورہیں وہاں جذب کردیاجائے توہم سمجھتے ہیں بہت فائدہ ہوگا اور وہاں کے سطح آب میں اضافہ بھی ہوگا۔اسی طرح شہر کی تقریباََمسجدوں و مدرسوں میں کیاجاسکتاہے ۔اللہ کے بہت سارے ایسے مخلص بندے ہیں جواس کام کوانجام دے سکتے ہیں۔
    قرآن اور پانی:۔قرآن کریم میں خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ ’’ہم نے ہرجاندار کی تخلیق پانی سے کی ‘‘(الانبیاء۳۰)دوسری جگہہ ارشاد ہے’’وہ اللہ ہی نے جس نے ہرچلنے والے جاندارکو(بری ہوبحری) پانی سے پیدا فرمایا۔ (النور۴۵)قرآن کریم میں تقریباََ 58مرتبہ پانی کا تذکرہ آیا ہے ۔جہاں پانی کو انسان کی پیاس بجھانے کا ذریعہ بتایا ہے(الواقعہ۶۸)وہی دوسری طرف اس کی تطہیرکا سامان بھی ہے(الانفال ۱۱)جہاں یہ کھیتو ں ،پھولوں، پھلوں کی شادابی سیرابی کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف چوپایوں کو بھی سیراب کرتا ہے۔ پانی سے انسان دیرپا استفادہ کرسکے، زمین کے اندر جذب کرنے کی صلاحیت پیداکردی گئی ہے(المومنون۸) آسمان سے بارش کا انتظام کیا(نباء ۱۴)اور زمین کی تہو ں میں پانی جیسی لازوال دولت رکھ دی گئی ،پھرفرمایا گیا کہ ’’تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤں گے (ا لرحمن) ۔زمین سے جو کونپلیں نکلتی ہیں اور پھر یہی آہستہ آہستہ سایہ دار درختوں کی شکل اور لہلاتے ہوئے سرسبز پودوں کھلتے ہوئے پھولوں کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں (لقمان۱۰) اللہ تبارک تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ’’زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آب حیات بن کربارش اس کے لیے زندگی کا سامان پیداکرتی ہے ،مردہ کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔(النحل۶۵)۔اگر پانی نہ ہوتا تو انسانی زندگی وجود خطرہ میں پڑجاتاہے ۔آج بھی ہزاروں لوگ صرف پانی وقحط کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔قرآن میں پانی کو مختلف ناموں سے پکار ا گیا ہے۔جیسے ’’ماء طہورا‘‘’ماء مبارکہ‘‘ماء فراتا‘قرآن میں ان ناموں کی وجہ سے بھی اس کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ چو ں کہ مادۂ تخلیق میں بھی پانی کا ایک جزء موجود ہوتا ہے اسی لیے قرآن نے انسانی نطفہ کو ’’ماء دافق‘‘ اچھلتا ہوا پانی ۔(الطارق۶) کا نام دیاہے ۔
    احادیث اور پانی :و ضو وغسل ،طہارت و پاکیزگی کا دارو مدار صرف پانی ہی پر ہے ۔آپ ﷺ نے دریافت کیا گیا کہ ایسی کون سی شئے ہے کہ جس سے انسانوں کومنع نہیں کیاجاسکتا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’وہ چیز پانی ہے‘‘(بخاری۳۴۷۳) ایک مرتبہ ارشاد فرمایاکہ ’’تین چیزیں ایسی ہیں جو سب کے لیے عام ہے(۱)پانی (۲) گھاس (۳)آگ۔(ابوداؤد ۳۴۷۷)۔پانی کو خراب وناپاک کرنے کے بارے میں آپ ﷺنے سختی سے منع فرمایا ہے’’تم سے کوئی شخص بہتے ہوئے پانی میں پیشاب وپاخانہ نہ کرے۔ابوداؤد ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ’’ضرورت سے زیادہ پانی فروخت مت کرو(ابوداؤد۳۴۷۸)۔آپ ﷺ خود پانی کا استعمال نہایت ہی کفایت شعاری سے کیاکرتے تھے۔آ پﷺ غسل ایک صاع پانی سے کرتے اور اس کے چوتھائی یعنی ایک مد سے وضو فرماتے ۔لیٹر کے حسا ب سے ایک صاع چار لیٹر ایک سو ستائیس ملی لیٹر اور تیس میکرو ملی لیٹر ہوتا ہے، مد ایک لیٹر ،اکتیس ملی لیٹر آٹھ سو پچیس میکرو ملی لیٹر ہوتا ہے۔مسلمان عشق رسول ﷺ کا دم بھرتے ہیں ،رسول اللہ ﷺ کے نام پر مارنے او ر مرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ان کے لیے آپ ﷺ کا یہ عمل نہ صرف چشم کشا ہے بلکہ زندگی میں اس کو برتنے کی ضرو رت ہے۔نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ نہر کے کنارے وضو فرمارہے ہیں ،آپ برتن میں الگ پانی لیتے ہیں اس سے وضو کرتے ہیں اور جو پانی بچ جاتا ہے اس کو دوبارہ نہر میں ڈال دیتے ہیں۔(مجمع الزوائد) ۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ پودوں اور جانوروں کی وجہ سے اللہ بارش نازل فرماتے ہیں ،چوں کہ جہاں درخت اور جنگلات ہوتے ہیں،وہیں پالتواور جنگلی ،چرند پرند،اور رینگنے والے جانوروں کی بہتات ہوتی ہے۔
    موجودہ صورتحال کے پیشنظرہمیں فوری طور پرپانی کے بچاؤ کے لیے تدبریں کرناہوگی۔ ورنہ آنے والے دنوں میں سخت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گااورپھر ہم چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرسکیں گے۔
    (یو این این)

About the author

Taasir Newspaper