اردو | हिन्दी | English
339 Views
Politics

آج کی رانی جھانسی جیسی ممتا

Mamata-Banerjee
Written by Taasir Newspaper

ہم ممتابنر جی کو آج کے دور کی رانی جھانسی اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اسوقت ملک میں تین پارٹیوں کو نیشنل پارٹی کہا جاتا ہے ۔کانگریس ،کمیونسٹ اور بی جے پی اور یہ تینوں ہی ممتا بنر جی کے خلاف تھیں اورتینوں کو بری طرح ممتانے ہرایا ہے ۔
ایک بار چودھری چرن سنگھ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس سے ہم سب ایک ذہن کے ساتھی حیران رہ گئے ۔اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ چودھری صاحب سے اس مسئلہ میں کھل کر بات کی جائے ۔تمام دوست جب متفق ہوگئے تو یہ مسئلہ سامنے آیا کہ بات کر ے کون ۔یعنی بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ؟رفتہ رفتہ سب اس پر متفق ہوئے کہ حفیظ بات کرلے ۔اور ہم سب تائید کریں گے۔ہمیں کوئی خوش فہمی نہیں تھی کہ ہم سب سے ممتاز ہیں لیکن دوست بضد ہوئے تو ہم تیار ہوگئے ۔ملاقات ہوئی تو ہم نے تھوڑی سی تمہید باندھی۔ چودھری صاحب بہت ذہین تھے ۔ سمجھ گئے کہ ہم کیا کہنا چاہتے ہیں ۔
انہوں نے ہماری پوری بات سنے بغیر کہہ دیا کہ میں سمجھ گیا کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟اور کہا کہ دیکھو تم پڑھے لکھے ہی نہیں اخبار کے ذریعہ پڑھا تے بھی ہو ۔تم بھی یہ مانو گے کہ میرا فیصلہ راج پاٹ کی لڑائی میں لیا گیا فیصلہ تھا ۔(پھر انھوں نے میری دکھتی رگ پر چوٹ ماری اور کہا)یہ تو تم بھی جانتے ہوکہ پہلے راج پاٹ کی لڑائی میں بھائی بھائی کو قتل کرادیتا تھا ۔زہر کھلا دیتا تھا ۔ہاتھی کے پاؤں سے روند دیتا تھا ۔باپ کو قید کردیتا تھا ۔خون کی ندیاں بہہ جاتی تھیں تب کامیابی ملتی تھی ۔لیکن اب زمانہ بدل گیا ۔اب صرف زبان پلٹ دی جاتی یا بدل دی جاتی ہے اور جنگ جیت لی جاتی ہے ۔میں نے صرف زبان بدلی ہے ۔کسی کا خون نہیں کیا ہے ۔
ہم نے اعتراف کیا کہ تاریخ وہی ہے جو آپ نے سنا دی لیکن جس طرف آپنے اشارہ کیا ہے ۔وہاں تاریخ یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ اگر اور نگ زیب عالمگیریہ نہ کرتے تو شاید مغل حکومت پچاس سال پہلے ختم ہوجاتی ۔جسکا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اور نگ زیب کی اولاد میں دوسرا عالمگیر نہیں تھااس لئے شیرازہ بکھر گیا ۔دوسری بات یہ کہ اورنگ زیب کے باپ برسوں دنیا میں رہے انکی حمایت میں کسی وفد نے یہ درخواست نہیں کی کہ اپنا فیصلہ تبدیل کردیجئے ۔اور ہم سب آپ سے یہ درخواست اس لئے کررہے ہیں کہ آپ نے جواب کہا ہے آپ ہمیشہ اسکے خلاف بولتے رہے ہیں اور آپ نے چاہا ہے کہ ہم سب بھی اس مسئلہ میں وہی کہیں اور لکھیں آپ کہتے رہے ہیں ۔یہ چودھری صاحب کی بڑائی تھی کہ انہوں نے کہا کہ خیر اب وہی ہو گا جو میں کہتا رہا ہوں ۔ہم نے ممتا کو جھانسی کی رانی اس لئے کہا کہ اب گھوڑی پر سوار ہوکر تلوار سے مقابلہ کا زمانہ نہیں ہے ۔انھوں نے اپنے اوپر ہونے والے حملہ کا اس انداز اور اس لہجہ میں کسی کو جواب نہیں دیا ۔اور انکی یہ خاموشی اور تیروں کی بارش میں بھی انکی اپنی روش پر چلتے رہنے کی ادا نے انہیں مظلوم بنادیا ۔وہ اب کہہ رہی ہیں کہ سیاست کی گرتی ہوئی سطح پر اب شرم آتی ہے ۔سیاست میں بھی ایک لکشمن ریکھا ہوتی ہے ۔لیکن میرے مخالفوں نے اسکا بھی خیال نہیں کیا ۔یہ حقیقت ہے کہ ممتا بنرجی کے خلاف بڑے بڑے لیڈروں نے ایسی ایسی باتیں کہیں جو عام طور پر نہیں کہی جاتیں ۔اور یہ تو ٹی وی پر سب نے دیکھا ہوگا کہ انکے وزیر نوٹوں کی گڈیاں رشوت لے رہے ہیں ۔یا فلائی اوور کے گرنے اور اس میں مرنے والوں کا الزام ان پر لگارہے ہیں ۔
سیاسی مخالفوں کی بات تو الگ رہی ہم نے تو خود دیکھا ہے کہ ایک ہفتہ تک این ڈی ٹی وی انڈیا کی ایک خاتون رپورٹر صرف یہ تلاش کرتی رہیں کہ انہیں ایسے ثبوت مل جائیں جن سے وہ ثابت کر سکیں کہ مسلمانوں نے اپنے حضرت محمد کی محبت میں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوکر ہندوؤں کومارا ۔یا مندر میں گھس کر توڑپھوڑ کی ۔اور جب وہ ناکام رہیں تو انہوں نے دکھایا کہ مرکزی حکومت کی ایک ایجنسی کے حکم سے درجنوں ایکڑ افیم کی کھیتی کو ٹریکٹروں سے برباد کرایا جا رہا ہے اور جو پولیس اسکی نگرانی کر رہی ہے اسکا بیان ہے کہ جتنی افیم افغانستان میں طالبان پیدا کرتے ہیں اتنی ہی یہاں پیدا کی جاتی ہے ۔مقصد صرف یہ تھا کہ ہندو یہ دیکھ لیں کہ ممتا انکی مخالفت میں مسلمانوں کی ہر غلطی کو نظر انداز کررہی ہیں ۔اور مسلمان یہ سمجھیں کہ ممتازبان سے تو انکا شکر یہ ادا کرتی ہیں لیکن انکی جڑیں بھی کھودتی رہتی ہیں ۔
ایک بار ایک ریلی کو خطاب کرتے وقت مودی صاحب نے کہا تھا کہ میں ہر صوبہ کے مکھ منتری کو بلاتا ہوں کہ وہ آئیں اور اپنے صوبہ کی ضرورت کے لئے روپیہ لے لیں ۔اپنے بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار لے لیں ۔یا کوئی وکاس کا منصوبہ بنا یا ہو تو اسکے لئے جتنے روپے کی ضرورت ہو وہ لے لیں ۔میرے بلانے پر سب آتے ہیں ۔بس آپ کی دیدی نہیں آتیں ۔اور آتی بھی ہیں تو وہ سونیا جی سے ملنے کے بعد واپس آجاتی ہیں ۔کیا ہر کسی کو حیرت نہیں ہوگی کہ ممتا کو ہرانے کے لئے وہی سونیا گاندھی کمیونسٹوں سے ہاتھ ملا لیتی ہیں ۔
اتنے گہرے زخم کھا کر بھی جب کامیابی کے بعد پریس والوں نے معلوم کیا کہ آپ وزیر اعظم بننا چاہیں گی ؟تو انہوں نے کہا کہ میں لالچی نہیں ہوں۔میں سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہوں ۔انہوں نے صاف صاف کہا کہ اگر اتحاد کی بات سامنے آئی تو لالو نتیش کجریوال اور چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ جاؤں گی ۔ممتا کے خلاف ہر ہتھیار استعمال کیا گیا ۔اسے جذباتی رنگ دینے کے لئے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پر پوتے کو ممتا کے مقابلہ میں کھڑا کیا گیا۔اور اس خاندان نے ثابت کردیا کہ مرغی کے ہر انڈے سے مرغی ہی نہیں نکلتی ہے ۔نیتا جی کا خاندان بنگال میں ہی رہتا ہے ۔اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور دس برس دیکھا تھا کہ ممتا جو دس سال پہلے تھیں وہی پانچ برس وزیر اعلا رہ کر بھی رہیں ۔ہم نے تو ایک ہزار کلو میٹردور رہنے کے باوجود لکھا تھا کہ ممتا بنرجی کو انتخابی منشور جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ سر سے پاؤں تک اور گھر سے دفتر تک چلتا پھرتا منشور ہیں ۔وزیر اعظم شر ی مودی نے تو پچاس لاکھ کا سو ٹ پہن لیا ۔اور جب ملک میں ہر طرف شور مچاتو اسے ساڑھے چار کروڑ میں نیلام کردیا ۔لیکن اسکے گندے اثرات نے پیچھا نہیں چھوڑا ۔ کوٹھیا ں کاریں ساڑیاں اور شان وشوکت کی ہر چیز دینے والے کلکتہ بھی میں ہزاروں ہیں ۔لیکن ممتا نے سب پر ٹھوکر ماری اور انعام یہ پایا کہ پہلے کے مقابلہ میں 27سیٹیں زیادہ ملیں ۔اور مودی صاحب صرف دو برس بادشاہ بننے کے بعد میدان میں آئے تو 2014کے مقابلہ میں صرف 25فیصدی ووٹ ملے ۔ہم نے اس لئے کل لکھا تھا کہ فخر کرنے کے قابل صرف ممتا ہیں۔
الیکشن کے نتیجے سامنے آنے کے بعد امت شاہ صاحب نے کہا ہے کہ کانگریس مکت بھارت بنانے میں ہم دو قدم اور آگے بڑھ گئے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس کے ہاتھ سے آسام اور کیرالادو قلعے نکلے ہیں ۔لیکن بی جے پی کی اتنی محنت اور وزیر اعظم کا اتنا قیمتی وقت جو بنگال کیرالا اور تامل ناڈو میں برباد ہوا اور نتیجہ میں صرف کیرل میں ایک اور بنگال میں تین ملنے سے یہ آہٹ نہیں سنائی دے رہی کہ اب مودی صاحب تو کانگریس مکت بھارت بنائیں گے ۔اور علاقائی لیڈروں کا محاذ بی جے پی مکت بھارت بنانے کی طرف دس قدم آگے بڑھ گیا ہے ۔ممتا تو اس محاذ میں کانگریس کو اس شرط کے ساتھ شامل کرنے کا اشارہ دے رہی ہیں کہ وہ لیفٹ کی طرف سے آنکھ بند کرلے تب ۔اس الیکشن میں آسام کا ملنا بے شک بی جے پی کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔لیکن کیرالامیں سی پی ایم کے قبضہ نے اس میں دوبارہ جا ن ڈال دی ۔اور ممتا کو ملک کابڑا لیڈر بنا دیا ۔اور کروناندھی شاید وہیل چیئر پر بیٹھنے کے بجائے لیٹنا زیادہ پسند کریں ۔اس لئے کہ پانچ برس بہت ہوتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper