اردو | हिन्दी | English
619 Views
Around the World Politics

دنیا میں امریکہ کیخلاف بڑھتی نفرت کم کیسے ہو؟

Barack-Obama
Written by Taasir Newspaper
اوبامہ نے ہیروشیما میں بہائے مگرمچھ کے آنسو!

6 اگست 1945 کو جنگ عظیم دوم کے موقع پر امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر دنیا کا پہلا جوہری حملہ کیا تھا ،جس کے نتیجے میں 140000 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ابھی جاپانی قوم پہلے حملے سے سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ دو دن بعد ‘‘ناگاساکی ’’ پر جوہری بم برسا دیے گئے،جس میں 74000افراد ہلاک ہوگئے تھے۔دونوں شہروں میں ہونے والے فضائی جوہری حملوں میں لاکھوں افراد زخمی اور سیکڑوں معذور ہوگئے تھے،جب کہ جوہری اثرات سے جڑی کئی بیماریاں نسل در نسل اب تک منتقل ہو رہی ہیں۔بہر حال اپنے اس جرم کے 71برس بعد امریکی صدر بارک اوبامہ ہیروشیما میوزیم گئے،اور درناک تاریخ کے شواہد دیکھے،وہ وزیر اعظم جاپان کے ہمراہ ’’امن کے یادگار پارک‘‘ بھی گئے اور امن کی یادگاری ’’لازوال مشعل‘‘ کے سامنے احتراما کھڑے رہے، اور یادگار پر پھول رکھے۔اس سے قبل بارک اوبامہ نے جاپان کے نیوی حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک موقع ہے ہم ان تمام لوگوں کو یاد کریں جو جنگ عظیم دوم میں ہم سے جدا ہوگئے۔
باراک اوبامہ نے اس موقع پر کہا کہ جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں، ہمیں قیام امن کے لیے یکجا ہونا ہوگا اور دنیا کو ذمے داری لینی ہوگی کہ ہیروشیما جیسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جنگ کو دنیا کے لئے تباہی قرار دینے والا امریکی صدر دنیا بھر کے دہشت گردوں کو تیار کرنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔بارک اوبامہ نے امریکہ اور جاپان کے درمیان نئے تعلقات کے قیام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میرا یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ دو اقوام جو کبھی ایک دوسرے کے سخت حریف تھے کس طرح محض حلیف ہی نہیں ،بلکہ بہترین دوست ملک بن چکے ہیں۔اس دعوی میں امریکہ کی منافقانہ چال کھل کر نظرآ رہی ہے،ورنہ وہ ہیروشیما میں تباہی مچانے پرافسوس ظاہر کرنے کے ساتھ وسیع القلبی سے معافی مانگنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
امریکی صدر کے دورۂ ہیروشیما کے موقع پر جاپان کے عوام نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ بارک اوبامہ کو ہیروشیما کی آہ و بکا سننی چاہیئے جس میں درد ہے کرب ہے۔ 58 سالہ سیکو ساتو کا کہنا تھا کہ میں چاہتی ہوں کہ اوبامہ ہماری تکلیفوں کو سمجھیں۔اوبامہ کے ذریعہ دورۂ ہیروشیما کے وقت کئے گئے خطاب نے عالمی برادری کو شکوک شبہات کے تھپیڑے میں ڈال دیا ہے۔امریکی صدر کا دورۂ ہیروشیما بتاتا ہے کہ صحیح معنی میں اگر اوبامہ اور امریکہ کے اندر سچی ہمدرد ی ہے اور ہیروشیما وناگاساکی کے بے گناہ شہریوں کے درد کو وہ امریکہ کی جانب سے انجام دیا جانے والے مجرمانہ عمل سمجھتے ہیں تو بلاتاخیر انہیں اپنے دکھ کے اظہار کے ساتھ جاپان کے دونوں شہروں کے لاکھوں ہلاک شدگان کے سے معافی بھی مانگنی چاہئے۔مگر امریکی صدر باراک اوبامہ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے امریکہ آج بھی اپنے گناہ کو قبول کرنے سے گریز کررہا ہے۔
جس واقعہ کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑے سانحات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اس کے لئے نہ تو کبھی امریکہ نے معافی مانگی اور نہ ہی اب امریکی صدر اوباما نے جاپان کے متاثرین سے معافی مانگنے کی جرأ ت کی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور وہاں کے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملہ کر کے اپنے لاکھوں شہریوں کی جانیں بچائیں ،لہذ ااپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے اٹھایا گیا یہ قدم صحیح تھا۔ دوسری طرف دارالحکومت ٹوکیو میں جاپانی وزیر خارجہ نے اپنے ملک پر امریکی ایٹمی بمباری کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔جاپانی وزیر خارجہ کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد امریکہ کی ایٹمی بمباری کے متاثرین اور مرنے والوں کے اہل خانہ کی جانب سے یہ مطالبہ شدت اختیار کرگیا ہے کہ صدر اوباما کو ایٹمی بمباری کی بابت جاپان سے معافی مانگنی چا ہئے ۔ اس موقع پر بھی امریکی صدر اوبامہ نے معافی نہ مانگ کر اسی بات کا ثبوت پیش کیا ہے کہ امریکہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔انگریزی روزنامہ ’’دی ہندو‘‘ نے جمعہ کے روز اپنے ضمیمہ میں بجا لکھا ہے کہ قول وعمل کا تضاد امریکی سیاست کی وہ منافقانہ پالیسی ہے جو اسکو ہمیشہ دنیاکی نظروں میں ظالم ،فریبی اور دغاباز ثابت کرتی ہے۔چناں چہ امریکی ڈپلومیسی کے تجزیہ نگاروں نے بڑی جرأ ت کے ساتھ کہاہے کہ امریکہ پر بھروسہ کرنا سانپ کو دودھ پلانے جیسی حماقت ہے ،جسے اقوام عالم کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔اس نے ہمیشہ اپنی اسی منافقانہ پالیسی کا عملی ثبوت پیش کیا ہے۔چاہے وہ جاپان کا معاملہ ہو یا افغانستان میں طالبان کے نام پر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کا۔یا شام میں داعش کے بہانے وہاں کے عوام کی منظم نسل کشی کا،وہ اپنی ساری دہشت گردیوں کو بالکل جائز سمجھتا رہا ہے۔
آج اگر امریکہ کی جابرانہ کاروائیوں کی وجہ سے دنیا بھرمیں اس کیخلاف نفرت و عداوت پائی جاتی ہے تو یہ کسی بھی طور پر بلاوجہ اور خلاف عقل نہیں ہے۔آپ عراق ،شام،لیبیا اور لبنان میں امریکہ کی دہشت گردیوں پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑائیے۔یہ بات روز روشن کی طرح آپ کے سامنے آجائے گی کہ امریکہ یہ ساری شرارتیں صرف اس لئے کررہا ہے تاکہ دنیااس کی طاقت کا احساس کرے اور ان پر امریکہ کا خوف ہمیشہ غالب رہے۔اسی مکروہ پالیسی کی وجہ سے دنیابھرمیں امریکہ کے خلاف نفرت وحقارت پائی جاتی ہے۔اگر اس کیخلاف نفرت کی مزید وجوہات اور مثالیں جاننی ہوں تو اسرائیل کی پشت پناہی اور بے گناہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی اندیکھی کا جائزہ لے لیجئے۔
اب سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی برادری کی ایک اچھی خاصی تعداد امریکہ سے نفرت کیوں کرتی ہے اس کو سمجھنے کیلئے ہمیں زیادہ ذہانت درکار نہیں۔ بات سیدھی ہے کہ امریکہ صرف جاپان کا ہی دشمن نہیں ہے ، بلکہ وہ مسلمان ،جاپانی اور مسلم دشمن قوتوں کا دوست بھی ہے۔ وہ ایسا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جو مسلمانوں کیخلاف ہو،اگرچہ اس کا دعویٰ کچھ اور ہی ہے۔مسلمان اسرئیل سے کوئی سمجھوتہ نہیں کر پائیں گے، جب تک فلسطین کے ساتھ کئی دہائیوں پرانا تنازعہ کا کوئی قابل قبول حل سامنے نہ آجائے۔امریکہ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے جو جانبدارنہ رول ادا کررہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے انکل سام کو اس بات کی امید بالکل بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ اس کے تئیں دنیاکے انصاف پسندوں کی نفرت پیار و محبت میں بدل جائیگی۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہوسکتا ہے اور اس لئے نہیں ہو سکتا کہ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ کا جانبدارانہ رول بھی اہم رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ امریکہ کا اسرائیل کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے فلسطین اور اسرائیل میں بات چیت کے درجنوں ادوار اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔امریکہ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر رکوانے میں درپردہ اسرائیل کی حمایت کرتاہے یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف نفرت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ایسا صرف اس لئے ہورہا ہے، کیونکہ اسرائیل اس کی ہی ناجائز اولاد ہے،یہ سچ ایک بار پھر اْس وقت ثابت ہواتھا جب دوبرس پہلے امریکہ نے واضح کیا تھاکہ وہ فلسطینیوں کی جانب سے اقوام متحدہ میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کی قرارداد کی مخالفت ہی نہیں کریگا بلکہ ضرورت پڑنے پر ویٹو کا بھی سہارا لے گا۔سچ تو یہ ہے کہ ایک آزاد فلسطین ریاست کے قیام میں امریکہ اسرائیل سے بھی بڑی رکاوٹ ہے اور جب تک یہ رکاوٹ حائل رہے گی امریکہ کے تئیں امن کی خوگر دنیا میں نفرت برقراررہے گی۔ہیروشیما میں میں شہیدوں کی قبروں پر کھڑے ہوکر افسوس کا اظہارکرنا اوراپنے جرم پر معافی مانگنے سے گریز اسی حقیقت کو آ شکارکررہا ہے کہ طا قت اورایٹمی پاور ہونے کے غرور نے امریکہ کو فرعون بنارکھا ہے، جسے اپنا کوئی بھی جرم گناہ نہیں لگتا۔جاپان میں اوبامہ نے مگرمچھ کے آ نسو بہاکر اسی بات کا ثبوت دیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper