اردو | हिन्दी | English
534 Views
Deen

قرآن کی روشنی میں ہی زندگی گزا رنا بہتر طریقہ : مفتی جنید الرحمن

deen
Written by Taasir Newspaper

جلسہ دستا ر بندی میں تیس حفاظ کرا م دستار فضیلت سے نو ا زے گئے

بہار شریف ، 16مئی(محمد توصیف جمال)ضلع کے استھانواں بلاک سے دو کیلو میٹر پر واقع موضع جانا میں چل رہے مدرسہ درسگاہِ مدینۃ العلوم میں پہلی بار یک روزہ عظیم الشان جلسۂ دستار بندی منعقد کی گئی۔جس کی صدارت حضرت مولاناالحاج قاری عین الحق صاحب نے فرمائی ۔ اس موقع پر امارت شرعیہ کے مفتی جناب مفتی جنید الرحمن قاسمی نے فر ما یا کہ قرآن شریف کے بتاے راستوں پر چل کر ہی ہم لوگ کام کرتے رہے تو ہمارے تمام کام باآ سانی حل ہوتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دلانا سب سے ضروری ہے کیو نکہ دین کی تعلیم کے بغیر اس کی آخرت کبھی سنور نہیں سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی ایمان و عقائد کی حفاظت کرنی چاہیے اور مدارس اسلامیہ اس کا بہترین سبیل ہے۔مفتی موصوف نے کہا آج کا مسلمان اس لیے پریشان ہے کیونکہ اس نے نبی کی سنت کو چھوڑ دیا ہے ۔اس موقع پر بہارشریف دارلاقضا کے مفتی حضرت قاضی منصور صاحب نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو سب سے پہلے دین کی تعلیم دیں اور اس کے بعد ڈاکٹر ، انجینئر، آئی پی ایس بنائیں۔آج لوگ فیشن اور دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور شادی کرتے وقت شریعت کا خیال نہیں رکھتے ۔ غور طلب بات ہے کہ مدرسہ کے ان ہونہارطالب علم نے قرآن شریف کو بہت کم وقت میں مکمل قرآن حفظ کر لیا ہے ۔ اس متعلق بتایا جاتا ہے کہ مدرسہ کے اساتذہ بچوں کے پیچھے مسلسل محنت کرتے ہیں اور پھر انہیں اس لائق بناتے ہیں کہ وہ معاشرہ میں مہذب زندگی گزار سکیں۔اس موقع پر تیس بچوں کی دستاربندی کی گئی۔اس دلکش منظر کو دیکھنے کے لیے والدین اور گاؤں با شند گان کی کثیر تعدادموجود تھیں۔اس موقع پرجلس ۂ صدارت عین الحق صاحب نے کہا کہ زندگی کا مقصد اچھے اعمال کرکے آخرت کو سنوارنا ہے۔ اسلامی اصول و قوانین زندگی میں ہوں گے تو آخرت سنورے گی۔ اس لیے بچوں کو دینی تعلیم دلائیں اور اپنے ہر کام میں بنی کا طریقہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں من چاہی زندگی چھوڑ کر رب چاہی زندگی اختیارکرنے والا انسان ہی آخرت میں کامیاب ہوگا ۔انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سے انعامات سے نوازہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سچا مسلمان وہی ہے جو برائیوں کو چھوڑے، اچھائیوں کو اختیار کرے اور اللہ کے احکام کو پابندی کے ساتھ ان کے وقتوں پر پورا کرے۔جلسہ کے آغاز میں مدرسہ کے طالب علموں کے ذریعہ ادبی وثقافتی پروگرام منعقد ہوئے جس سے معاشرہ میں اچھاپیغام دیکھنے کو ملا اورلوگ خوب متاثر ہوئے ۔مذکورہ مدرسہ ۱۹۷۰ ؁ء سے قائم ہے جو اب تک درس و تدریس کا عمل جاری ہے۔علماء کے خطاب کے بعد دستار بندی کا عمل اختتام پزیر ہوا ۔اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر مولانا افتخار احمد قاسمی، مفتی محمد اعجاز احمد قاسمی، جاوید عالم ندوی، حافظ نور حسن صاحبان تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں علاقائی علما ء کے علاوہ قرب و جوار کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔

About the author

Taasir Newspaper